سیاسی  توازن  اور گڈ گورننس  (حصہ سوم)

سیاسی  توازن  اور گڈ گورننس  (حصہ سوم)
سیاسی  توازن  اور گڈ گورننس  (حصہ سوم)

  

  ہم نے یورپ کے ایک بہت ہی خوبصورت  اور  صاف ستھرے شہر کی میونسپلٹی میں بطور  ٹرینی  انجنیئر جاب شروع کی تو ہمیں سب سے پہلے انکے سسٹم پر چند پاس ورڈز کے ذریعے  ویزیٹر ایکسس دی گئی۔ آپ  جہاز پر سے شہر کو دیکھیں تو شہر بہت خوبصور ت نظرآتا ہے۔ ہر  چیز اپنی جگہ نظر آتی ہے۔شہر کے ارد گرد کھیت  اور کھلیان ناپ توکہ بناے نظر آتے ہیں۔ اگر کئی جنگل نظر آتے ہیں تو ایک خاص انداز میں خاص تناسب میں نظر آتے ہیں۔ پورا  شہر سینٹی میٹر میں ناپ تول کہ بنایا ہوا لگتا ہے۔ یورپ بہت خوبصورت تو ہے ہی لیکن اس کے علاوہ  پلاننگ اور منصوبہ بندی کا شاہکار بھی ہے۔

  آپ گوگل میپ دیکھتے ہیں؟ جی۔پی۔ایس میپ تو اب عام سی بات ہے۔ لوگ گاڑیوں اور ٹیکسیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ جب   انٹرنیٹ ہمارے تک پہنچا  ہی نہیں تھا تو یہ سب کچھ ان دیکھا  اور ان سنا تھا۔ گوگل والے ہی جانتے ہوں گے کہ اتنی تفصیل میں دنیا بھر کا نقشہ دیکھاتے ہیں۔ مختلف ممالک کے ساتھ ان تفصیلات کو  دیکھانے کے بھی معاہدے ہونگے۔ تو ہم ترقی یافتہ شہر کی میونسپلیٹی کے  ماحولیاتی نظام کے بارے میں کچھ تفصیل عرض کیے دیتے ہیں۔ جو آج کے لحاظ سے برسوں پرانی ہوچکی ہے۔ منصونہ  بندی کے تناظر میں  ہمارے سسٹم میں ریہل ٹائیم  الارم موجود تھے کہ اگر سمندر کا  وہ حصہ جو شہر کے ساتھ لگتا ہے  اگر کئی پولیوشن پانی میں داخل ہورہی ہو تو وہاں نصب شدہ آلات ہمیں آگاہ کریں کہ پانی میں پولیوشن یا گندگی داخل ہورہی ہے۔ ایک گنجان آباد شہر کے ساتھ جڑا سمندر کبھی آپ  نے  شیشے کی مانند صاف ستھرا  دیکھا ہے؟ شہر بھر کا ویسٹ  واٹر یعنی گندہ پانی با حفاظت شہر سے باہر ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ میں پہنچا کر اس سے کارآمد دھاتیں اور  نان دھاتیں حاصل کرنے کے بارے میں تو سنا ہوگا؟ بارش کے پانی  اور گھروں کے اندر سے ویسٹ  واٹر کو  الگ لائینوں میں ٹریٹ منٹ پلانٹس تک پہنچایا جاتا ہے۔ دونوں طرح کے ویسٹ  واٹرز کو ٹریٹ منٹ پلانٹس سے گزار کہ صاف کرکہ سمندر  میں داخل کیا جاتا ہے۔ ان میں کسی دوسری طرح کی  پولیوشن کے داخل ہونے کو بھی واچ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک سیمینار میں بتایا گیا تھا کہ لندن میں گھروں میں سے جو  پانی نکل کر پلانٹس تک  پہنچتا ہے اسے  صاف کرکہ پھر سے  پیا جاتا ہے۔ وہ  پھر سے پلانٹس تک پہنچتا ہے۔ پھر صاف کر کہ شہر کو  پلایا جاتا ہے۔ یہ  سارا  پراسیس دو یا تین  بار  دہرایا  جاتا ہے۔ شروع میں یہ  یقین کرنا مشکل لگا  تھا کہ ٹائلٹ سے نکلا ہوا  پانی اتنا  صاف کیا جاسکتا ہے کہ دوبارہ  پیا  جاسکے؟

یہ بات ذرا  انجنئیرنگ فیلڈ سے متعلق ہے۔راقم نے ہمارے ہاں کسی بڑے شہر کے انڈر گراونڈ  واٹر  اور سیوریج سسٹم کے مانیٹرنگ  سسٹم کو نہیں دیکھا۔ ایسا  نہ کہیں کہ ہماری  ڈرائینگز صرف بڑے سائیز کے پیپر ورک پر ہیں۔کمپیوٹرائیزڈ  ڈیجیٹیل ماڈل  ہوگا۔ پورے شہر کے واٹر  اور سیوریج سسٹم کا کمپیوٹرائیزڈ  ڈیجیٹیل ماڈل۔ آپ  چند کلک سے شہر کے کسی بھی  حصے کے نیٹورک کو  زووم کرکہ اسکی ساری ہسٹری دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے جیوگرافک  انفارمیشن سسٹم ایک ڈیجیٹیل سسٹم ان  دنوں مقبول  ہورہا تھا۔ جو  شہر کی  ٹاون  پلاننگ اور  مانیٹرنگ کے لیے استعمال میں تھا۔ اگر ہمارا کوئی محکمہ یا  ادارہ  مینول یا  پیپر  ورک ڈرائینگز  پر  انحصار کررہا ہے تو ہم  انکے  لیے صرف دعا ہی کرسکتے ہیں۔  

 قصہ مختصر ہمارا کام  جدید ٹیکنالوجی کو  اس سمت میں  استعمال کرنا کہ پائیپ نیٹ  ورک  میں اس  حصے کی نشاندھی کرنا جو  اپنی عمر  پوری کرچکا  تھا۔ یعنی شہر میں واٹر سپلائی  پائیپ نیٹورک  اور  سیوریج  نیٹورک  کے بوسیدہ  ترین  حصے کی نشاندہی کرنا تاکہ مختص شدہ  بجٹ سب سے پہلے اس جگہ لگایا  جاے جہاں اس کی سب سے زیادہ  اور  فوراً  ضرورت ہے۔ تو شہر کے پورے نیٹ  ورک کو تبدیل کرنے پر لاگت بہت  ہی  زیادہ  ہونی چاہیے۔ اور ہم نے کبھی نہیں سنا کہ فلاں بڑے شہر سے سارے  انڈر گراونڈ  واٹر  یا  ویسٹ  واٹر نیٹ  ورک کی مرمتی  ہورہی ہے۔ اور شہر  بند پڑا ہے بلکہ یہ بھی  برسوں  پرانی بات ہے کہ انڈر گراونڈ  واٹر  اور  ویسٹ واٹر  پائیپ تبدیل کرنے کے لیے کسی بھی جگہ کھدائی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ آ ج سے دو عشرے پہلے تک ترقی  یافتہ  دنیا  میں یہ ٹیکنالوجی موجود تھی  کہ  پائیپ نیٹ ورک کو  بغیر کھدائی  کے تبدیل کیا  جا سکتا تھا۔ 

آئیے بات کرتے ہیں رین واٹر  یا  سٹارم  واٹر  مینیجمنٹ پر۔ شہر کا  سٹارم  واٹر  ڈرینیج سسٹم شہر کی پلاننگ کا اہم  ترین حصہ ہے۔  سٹار م  واٹر  ڈرینیج  نیٹ  ورک کا  اپنا ایک  ڈیزاین ہوتا ہے۔ یعنی  ڈرینیج  نیٹ  ورک کی گنجائیش  ایسی  بارش کی لیے  رکھی جاتی ہے۔ جو مثال کے طور  پر  پچھے  پچاس  یا سو سال میں ہوئی ہو  اور  اس  بارش کے نتیجے میں نیٹ  ورک  اپنی  پوری گنجائیش کو پہنچ جاے۔ یہ منصوبہ بندی  اور  ڈیزائن  ورک  شہر کو  اس صورت حال سے بچانے  کے لیے کیا جاتا ہے جو کراچی میں سامنے آئی ہے۔ شہر کا  پانی سے بھر جانا شہر کی  پلاننگ  ڈویژن کی مکمل ناکامی کہی جاسکتی ہے۔

کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس  بات کا پتہ چلاے کہ شہر کے ڈرینیج سسٹم پر کتنا بجٹ مختص کیا گیا؟ ظاہر ہے متعلقہ  ادارے اور محکمے ناکام ہوگیے کہ ملک کا صنعتی مرکز پانی میں ڈھوب گیا۔ ایک  پرائیویٹ چینل کے ایک  ائینکر چھاپے مارتے رہتے ہیں اور  فراڈ  اور کرپشن کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔ اخلاقیات کا  درس دیتے رہتے ہیں۔ انکے اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھتی ہے۔ چینل اچھا  بزنس کرتاہے۔ ترقی یافتہ معاشرے کا احتساب میکینزم ترقی  پذیر معاشرے کے مقابلے میں بہت ترقی یافتہ ہے۔ ان دونوں احتساب میکینزم میں ایک  بڑا  فرق ٹیکنالوجی کا  استعمال ہے۔ کرپشن انڈکس میں وطن عزیز کا نمبر کافی بلند ہے۔ ویسا یہ سار ا کچھ قومی مورال  اور  رپوٹیشن  ایشیو  میں آتا ہے۔افسوسناک  بات ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی مرکز پانی میں ڈوب جاے۔ رپوٹیشن لایف لائن ہے  انوسٹمنٹ کی۔ انوسٹرز کو جہاں رسک فیکٹر نظر آے گا۔ وہ بیک ڈاون کرجائیں گے۔ اللہ ہمارا  حامی  اور  ناصر  ہو۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -