کاہنہ:ارکان اسمبلی کی سیاسی رقابت نے5 بستیاں ڈمو دی

کاہنہ:ارکان اسمبلی کی سیاسی رقابت نے5 بستیاں ڈمو دی

  

لاہور(ج الف) صوبائی دارالحکومت کی قدیم بستی کا ہنہ نو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کی ذاتی ، سیاسی لڑائی کے باعث جانوروں کے باڑوں میں تبدیل ہوگئی ہے کاہنہ کی آبادیاں شالیمار ٹاﺅن بھٹہ پلاٹس نمبر 5”بستیاں“ پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ایک جزیرے کا منظر پیش کررہی ہیں آبادی ضلعی حکومت کی ڈینگی کے حوالے سے بائی ریسک اور حساس قرار دی گئی یونین کونسلوں میں شامل ہے مگر محکمہ صحت ، نشتر ٹاﺅن ضلعی حکومت واسا سمیت مقامی اراکین اسمبلی کی مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں اور جبکہ ڈینگی وائرس کے حملہ آور ہونے کا موسم اپنے عروج پر ہے مگر ان آبادیوں میں جمع خالی پلاٹوں پارکوں ، گلیوں میں جمع پانی کو نکالنا تو دور کی بات کسی نے لاروا کو مارنے کے لے ادویات سپرے تک نہیں کیا اور واسا نے علاقے میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی موجودگی کے باوجودپانی نکالنا مناسب نہیں سمجھا مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آبادیاں غریب لوگوں کی رہائش گاہ پر مشتمل ہیں رکن قومی اسمبلی طارق بشیر کا تعلق پیپلزپارٹی جبکہ رکن پنجاب اسمبلی ملک سیف الملوک کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور ملک سیف الملکوک کھوکھر اقبال ٹاﺅن جبکہ ان کے چھوٹے بھائی ملک افضل کھوکھر نشتر ٹاﺅن میں ڈینگی واسا کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں مگر ان کے اپنے حلقوں میں مذکورہ آبادیوں میں ہر طرف کئی کئی فٹ پانی جمع ہے مگر آج تک نہ جمع پانی نکالا گیا ہے نہ کھڑے پانی میں مچھر مار ادویات کا سپرے کیا گیا جس سے یہ آبادیاں مچھروں کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔علاقے کا واحد پارک جوہڑ میں تبدیل ہو چکا ہے گھروں میں جمع شدہ پانی کو بچے باہر نکالتے ہیں اور بیماریاں علاقے کے مکینوں کا مقدر بن چکی ہیں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ حلقے کی بد قسمتی ہے کہ ان آبادیوں سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی طارق بشیر مغل کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے اور ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور دونوں مسائل حل کروانے اور ترقیاتی منظوری کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں اور علاقہ نظر انداز ہونے سے آبادی جانوروں کے باڑوں کی تصویر کشی کر رہی ہے واسا اور نشتر ٹاﺅن کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پانی نکلوائے اور مچھر مار ادویات کا سپرے کروائے مگر دونوں ناکام نظر آتے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -