مسئلہ کشمیر جلد از جلد حل کیا جائے

مسئلہ کشمیر جلد از جلد حل کیا جائے

  

محترم غلام جیلانی خان روزنامہ ”پاکستان“ میں مستقل کالم نویس ہیں۔ اُن کے کالم ہمہ موضوع پر معلومات سے بھرے ہوتے ہیں۔ خوب لکھتے ہیں اور لگاتار لکھتے جاتے ہیں۔ اُن کی محنت اور کتابوں کا مطالعہ وسیع النظر ہوتا ہے۔ ایسے لوگ قابلِ تعریف ہیں۔ اُن کے تھکاوٹ یا آرام کرنے کا مجھے تو کوئی نام و نشان بھی نظر نہیں آتا ۔ میری اُن سے آج تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ میرا اُن سے تعلق اور رابطہ صرف اُن کے کالم ہیں۔ پاکستان دنیا کے کسی بھی ملک سے ادبی دنیا میں برابری کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ کالم نویس تو پاکستان کے انتہائی چمکدار ستارے ہیں۔ وہ دن رات دُکھی پاکستانیوں کی مدد اور رہنمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر شہری لکھے گئے کالم غور سے پڑھتا ہے اور ان سے لُطف اندوز ہوتا ہے۔ اہم ترین قومی اور ملکی مسائل پر لکھے ہوئے کالم بلاشبہ حکمرانوں اور عوام دونوں کے لئے رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ کالم نویس دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ کالم نویس جو کسی بھی اخبار کے ہاں ملازم ہوتے ہیں۔ اخبارات میں لکھے گئے ادارئیے بھی میرے نزدیک ایڈیٹر کی طرف سے کالم ہی ہوتے ہیں۔ ہمارا میڈیا پاکستان اور پاکستانی قوم کی ترقی کا ایک بہت بڑا وسیلہ ہُوا ہے۔ ریڈیو، ٹیلیویژن اور اخبارات وغیرہ تو علم اور معلومات کا ایک بہت بڑا خزانہ ہیں۔ اس خزانے سے پوری قومی دن، رات مستفید ہوتی رہتی ہے۔ پاکستانی میڈیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ آج کے پاکستان میں ہر گھر میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر قسم کے اُردو، انگریزی اخبارات کے کالم گھر بیٹھے بٹھائے پڑھنے کو مِل جاتے ہیں۔ یہ کالموں کی دوسری قسم ہے۔

پاکستانی معاشرے کا وہ وقت بھی مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، جب ریڈیو اور ٹیلی ویژن موجود نہیں ہوتے تھے۔ اخبارات تو خال خال لوگ خریدتے تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں مجھے اخبارات پڑھنے کے لئے گجرات شہر کی میونسپل کمیٹی کے دفتر میں جانا پڑتا تھا۔ روز کا آنا جانا تقریباً پانچ میل کے لگ بھگ بن جاتا تھا۔ گھر میں ٹیلی ویژن یا ریڈیو نہیں تھا۔ وجہ یہ تھی، اُن دنوں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی تھی۔ آج کا انسان تو زندگی کے ہر میدان میں حیرت انگیز ترقی کر چُکا ہے۔ ہمارا پاکستان بھی دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ زراعت اور صنعت کے لئے تقریباً ہر طرح کے جدید اوزار بنائے جا رہے ہیں۔ دفاعی ہتھیار، ایٹم بم، میزائل، ہیوی آرٹلری وغیرہ وغیرہ پاکستان کے سائنسدان کامیابی سے بنا چکے ہیں۔ پاکستان دنیا کا ایک انتہائی پُرامن مُلک ہے۔ ہمارے نزدیک ترین ہمسائے بھارت نے ہر قسم کے جدید ہتھیار خود بھی بنائے ہیں اور دنیا سے بھی خرید رکھے ہیں۔ بھارت اس خطے کا پہلا مُلک تھا، جس نے ایٹمی ہتھیار بنائے تھے۔ ان خوفناک ہتھیاروں کی موجودگی سے اس خطے میں جنگ کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔ خدانخواستہ اگر جنگ ہوتی ہے تو اس سے تباہی لامحدود ہوگی۔ بہتر یہی ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں اچھے ہمسائے بن جائیں۔ اُن کے درمیان میرے نزدیک کشمیر کا جھگڑا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کامشکل ترین اور آسان ترین حل موجود ہیں۔ اس جھگڑے پر پاکستان کا موقف آسان ترین ہے۔ یو این او نے بھارت اور پاکستان کی رضا مندی سے مسئلہ کشمیر کا حل دے رکھا ہے، وہ حل یہ ہے کہ کشمیر کے لوگ اپنی آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اس طرح کا حل بھی کوئی کارگر ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ بھارت رائے شماری کرانے سے انکار کر چُکا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو چُکی ہے۔ پاکستان کے نزدیک اس طرح کی تقسیم مسئلہ کشمیر کا کوئی مو¿ثر حل نہیں ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمان اور ہندو دو قومیں آباد ہیں۔ ریاست کے وسیع علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں، جبکہ ریاست کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں، جہاں ہندو سکھ معمولی اکثریت میں ہیں۔

 میری سوچ کے مطابق اگر برصغیر ہندوستان دو قوموں کی بنیاد پر تقسیم ہو سکتا ہے تو اسی اصول کے تحت کشمیر کو بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مسلمان اور ہندو آبادیوں کو آسانی سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے مسلمان تو بار بار پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں، البتہ جموں اور اس کے اردگرد کی ہندو اور سکھ آبادیوں کو ایک علیحدہ یونٹ کی حیثیت دی جا سکتی ہے۔ وہ خود اپنی آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ مجھے تو بہتر یہی نظر آتا ہےکہ مسئلہ کشمیر پر بھی دو قومی نظریہ کو اپنایا جائے۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر تو پہلے ہی دو خطے موجود ہیں۔ ہندو جموں وکشمیر اور مسلمان جموں و کشمیر کوعلیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اکثریتی علاقے علیحدہ ہو کر آزاد کشمیر میں شامل ہو جائیں گے۔ ہندو سکھ علاقے علیحدہ یونٹ بن سکتے ہیں۔ مجھے تو یہی کشمیر کا آخری حل نظر آتا ہے۔ ”برصغیر میں یہ قائداعظم محمد علی جناح کی تھیوری کہلاتی ہے“۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں سنجیدگی اور عقل مندی کا مظاہرہ کریں اور دنیا کے دیرینہ ترین مسئلہ کشمیر کا حل پُرامن طور پر تلاش کریں۔ یو این او تقریباً مسئلہ کشمیر سے دست بردار ہو چُکی ہے۔ دنیا چاہتی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں خود ہی مسئلہ کشمیر کا کوئی قابلِ قبول حل نکالیں۔ بھارت بھی اپنی ضد چھوڑ دے کہ وہ اس خطے کی سپر پاور ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کا حل اپنی اندھی طاقت کی بنیاد پر حاصل کرسکے گا۔ جس طرح پاکستان اور بھارت دو آزاد ملکوں کی حیثیت سے پیدا ہوئے تھے۔ بالکل اسی طرح کشمیر کا حل بھی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اب بہت دیر ہو چُکی ہے۔ کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چُکا ہے۔ کنٹرول لائن پر امن نام کی کوئی بھی بات نظر نہیں آتی ۔ مسئلہ کشمیر ایک ایسی چنگاری ہے جو کسی وقت بھی اس خطے کے امن کو تباہ کر سکتی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ ایک روز مسئلہ کشمیر ضرور حل ہوگا۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اس مسئلے کو آج ہی سرفہرست رکھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کر لیا جائے، ایسا کرنا بالکل ممکن ہے۔ ذرا سوچیں کہ بھارت اور پاکستان کے پیچیدہ ترین مسئلے کو بھی تقسیم کی بنیاد پر حل کر لیا گیا تھا۔ اس بات کو زور دے کر پھر دہراتا ہوں کہ حق خود ارادیت کو سامنے رکھتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی معاشی اور اقتصادی میدان میں کمزوری کی وجہ سے آج پاکستان کے کونے کونے میں بدامنی اور انتشار کی کیفیت پیدا ہو چُکی ہے۔ پاکستانی قوم ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے گامزن ہو گی تو ہمارے ہر قسم کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے وہ علاقے جو پسماندہ ہیں، اُن کو جلد از جلد ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لا کھڑا کیا جائے۔ معاشی ناانصافی ہی کسی معاشرے کو انتشار اور بے راہ روی کی دلدل میں پھینک دیا کرتی ہے۔ ہم اپنی آنکھیں بند نہ رکھیں، اُن کو کھول کر پسماندہ علاقوں کو دیکھا جائے۔ ان علاقوں کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا۔ مجھے تو سیاست دان اور حکمران دونوں سوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ جاگ جائیں اور لوگوں کی چیخ و پکار کو غور سے سُنیں۔ سب سے پہلے بلوچستان کی سرزمین میں پھیلی ہوئی بے چینی کو آئین پاکستان کے تحت ہمیشہ کے لئے ختم کرنا پڑے گا۔ یہ وہی پاکستانی قوم ہے جو کئی بار اپنے وطن کی حفاظت کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی تھی۔ سب سے پہلے ہمیں جنگی بنیادوں پر جہالت اور غربت کو ختم کرنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کو از سر نو اُجاگر کرنا پڑے گا۔

مسئلہ کشمیر پاکستانی قوم کے دل و دماغ میں پوری طرح سے زندہ موجود ہے۔ یہ بے چینی اسی وقت ختم ہوگی، جب کشمیر کے لوگوں سے انصاف ہوگا اور اُن کو اُن کا پیدائشی حقِ خود ارادیت دیا جائے گا، ہمیں کشمیریوں کی امداد ”قدمے درمے سخنے“ جاری و ساری رکھنا ہوگی۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہوگا۔ تمام پُرامن حربے کشمیریوں کی آزادی کے لئے استعمال میں لائے جائیں۔ حکمران اور سیاست دان دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو اٹھائیں، دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگائیں تاکہ وہ کشمیریوں کی پُکار کو سُن سکیں۔ آج دنیا کی بڑی طاقتوں کے پاس ہی مسئلہ کشمیر کا حل موجود ہے۔ وہ اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہش اور مرضی سے حل کرنے کا اعلان کریں۔ بھارت پر دنیا کی بڑی طاقتیں دباو¿ ڈالیں تو مسئلہ کشمیر برسوں میں نہیں، مہینوں میں حل ہو سکتا ہے۔

بھارت مسلمان اکثریتی علاقوں سے اپنی افواج کو واپس بُلا لے۔ یہ خلا کوئی ایسا خلا ہرگز نہیں ہے جو پُر نہیں کیا جاسکتا۔ وہاں کے مقامی لوگ ہی اس خلا کو آسانی سے پُر کر لیں گے۔ خود میرا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ بھارتی افواج کی واپسی پر مَیں اور میرے جیسے لاکھوں کشمیری واپس کشمیر چلے جائیں گے۔ بھارتی افواج کی موجودگی میں کشمیریوں کی عزت، جان و مال ہرگز محفوظ نہیں۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ مل کر وہاں امن و امان بحال کر دیں گے۔ دیکھیں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے لوگ کتنی خوبصورتی سے وہاں حکمرانی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ وہاں کے لوگ انتہائی پڑھے لکھے شہری ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں آزاد کشمیر کی شرح خواندگی کئی گنا زیادہ ہے، جلد ہی وہاں شرح خواندگی 100 فیصد ہو جائے گی۔ کشمیر کے لوگ دنیا کے کونے کونے میں ایک بہت بڑی تعداد میں آباد ہو کر پاکستان کو قیمتی زرِ مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ شہر برمنگھم تو کشمیریوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ اگر اس کو کشمیر ثانی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

یہ تمام میرے خیالات بکھرے ہوئے ضرور ہیں، مگر یہ سب سچائی اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ دنیا میں آخر فتح سچائی کی ہوا کرتی ہے۔ سچائی ہی وہ واحد مو¿ثر ہتھیار ہے جو ہر قسم کی جھوٹی اور فریب پر مبنی باتوں پر فتح حاصل کر لیتا ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک سچائی اور حقیقت ہے۔ آخر کار سچائی ہی سرزمین کشمیر میں چھا جائے گی اور مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔ بھارت اور پاکستان دونوں کی ترقی کی راہ میں کشمیر کا مسئلہ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں ملکوں کے ہر قسم کے ذرائع آمدن ہتھیاروں کی دوڑ پر بے دریغ خرچ ہو رہے ہیں۔ یہی ذرائع آمدن لوگوں کی جہالت اور غربت کو ختم کرنے پر خرچ ہوں گے۔ اسی طرح اس خطے کا نقشہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔  ٭

مزید :

کالم -