کرپشن ملک و معاشرے کی تباہی

کرپشن ملک و معاشرے کی تباہی
 کرپشن ملک و معاشرے کی تباہی

  

کرپشن کو ام الخبائث کہا جاسکتا ہے، کیونکہ بے بہا برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں، کرپشن اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کردیتی ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوموں کی تباہی میں مرکزی کردار ہمیشہ کرپشن کا ہی ہوتا ہے، یہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہو گی، وہ قوم اتنی ہی جلدبربادی کے گڑھے میں جاگرتی ہے، اگر کسی قوم کے رگ وپے میں کرپشن سرایت کرجائے تو وہ اپنی شناخت وساخت اور مقام و مرتبے سے یوں ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، جیسے کوئی بلند مقام کبھی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا ۔کرپشن کینسر کی مانند خطرناک اور سماج کو سماجی موت سے ہمکنار کرنے والا بھیانک مرض ہے، جس معاشرے کو لگ جائے اس معاشرے کی بربادی یقینی سمجھیں۔ کرپشن معاشرے میں ایک اچھوت مرض کی طرح پھیلتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہے، جس طرح آکاس کی زرد بیل درختوں کو جکڑ کر ان کی زندگی چوس لیتی ہے، اسی طرح اگر ایک بار کرپشن کسی صحت مند و توانا معاشرے پر آگرے تو ایک ادارے سے دوسرے ادارے کو جکڑتی چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ ہر چیز زرد ہو جاتی ہے اور آباد اور کامیاب اداروں میں کچھ عرصے بعد الو بولنا شروع ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ معاشرے کی اخلاقی صحت کے محافظ ادارے بھی کرپشن کا شکار ہو کر رہزن بن جاتے ہیں، جتنی زیادہ انٹی کرپشن کمیٹیاں یا ادارے بنائیں، اسی قدر کرپشن کے ریٹ زیادہ ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کی معیشت کی تباہی اور معاشرے کی تباہی بھی کرپشن ہے، جس نے جس قدر زیادہ کرپشن کرکے مال و دولت اکٹھا کیا، وہ معاشرے میں اسی قدر بلند مرتبہ ہوگیا اور حمام میں سب ننگے ہوگئے، سب خاموش ہوگئے، گزشتہ سال دنیا بھر میں حکومتوں کی کارکردگی میں شفافیت اور کرپشن کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا کا خطہ سب سے زیادہ بد عنوانی کا شکار ہے، جس میں حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن اور بد عنوانی روکنے والے ادارے مضبوط کریں اور ان اداروں کی کارکردگی میں سیاسی مداخلت کو سختی سے روکنے کی کوشش کریں، مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سمیت چھ ملکوں بھارت، بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں کی راہ میں بڑی سنگین رکاوٹیں حائل ہیں۔ ان ممالک میں اگرچہ انسداد کرپشن کے لئے باقاعدہ سرکاری ادارے قائم ہیں، مگر ان اداروں کے اندر بھی کرپشن داخل ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجہ سیاسی مداخلت ہے۔ بااثر افراد بھی بدعنوانی کی بنا پر گرفت میں نہیں آتے ان اداروں میں تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہونے کے باعث بد عنوانی پر پوری طرح گرفت نہیں کی جاسکتی۔ متذکرہ ممالک کی حکومتوں میں اس عزم اور اہمیت کا بھی فقدان ہے جو کرپشن پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے انسداد کے لئے نیم دلی سے جو کوششیں کی جاتی ہیں، وہ موثر ثابت نہیں ہوتیں۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی تمام حکومتوں نے کرپشن کی نشان دہی تو بہت کی، لیکن باتوں کی حد تک۔۔۔ پاکستان میں جن حلقوں پر حالات سدھارنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کے رویے سے ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کرپشن سے ملک کو پہنچنے والے نقصان یا عوام کے مسائل میں اضافے کی کوئی پرواہ ہے، اگر انہیں کسی قسم کی فکریا پرواہ ہوتی تو کرپشن اور بدعنوانی روکنے والے اداروں سے سیاسی مداخلت کو ختم کرکے کرپشن کے خلاف موثر اور مضبوط اقدامات کئے جاتے اور افسروں کو بلاخوف و خطر بڑے بڑے کرپٹ مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی آزادی دی جاتی اور حکومت کرپشن کو ختم کرکے دم لیتی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ ان کی مصلحتیں آڑے آجاتی ہیں اور معاشرہ آہستہ آہستہ تباہی کی طرف گامزن رہتا ہے۔

پاکستان کے لئے نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب وطنِ عزیز ان گنت مشکلات سے دو چار ہے، گھناؤنی قسم کی سازشوں نے ملک کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی مسائل کی فہرست اتنی لمبی ہے، جس کا شمار بہت مشکل ہے ، ان حالات میں اس سرزمین کے بعض کرپٹ باسی اپنے سیاہ کرتوتوں سے ملک کو دنیا میں بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ملک کے تمام شہری اب اخباری اطلاعات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے باخبر ہو چکے ہیں، لیکن حالات کا جبر ہے کہ کرپشن روز بروز طاقتور ہو رہا ہے۔ جو خود غرض اور مفاد پرست کرپشن کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، وہ اپنے اللے تللوں کی وجہ سے ملک کی سلامتی کوبھی داؤ پر لگا رہے ہیں، حالانکہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے حصول کے لئے لاکھوں جانوں کے نذرانے اس لئے پیش نہیں کئے تھے ، ان کی قربانیوں کا مقصد تو کرپشن سے پاک معاشرے کا حصول تھا، شاید بانیان پاکستان کے تصور میں یہ بات نہ ہو کہ بعد میں آنے والے نااہل لوگ ہماری قربانیوں سے حاصل ہونے والی مملکت خداداد کو یوں رسوا کریں گے اور کوئی ان کا احتساب کرنے والا نہیں ہو گا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت اورکرپشن ہے، اسمبلی کو اس کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کرنے ہیں، لیکن اب کرپٹ لوگ تمام قوانین کو پس پشت ڈال کر آزادی سے کرپشن کررہے ہیں اور ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ نہایت ہی شرمندگی کا مقام یہ ہے کہ کرپشن ہمارے معاشرے کا ایسا ناسور بن گیا ہے، جس کی جڑیں ہر شعبہ زندگی میں پھیل چکی ہیں، اگرچہ ہر جگہ کچھ افراد موجود ہیں، جو کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، لیکن ان کی سنتا کوئی نہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کرپٹ لوگوں کو طاقتور ادارے کے سامنے آنے پر مجبور کر چکے ہیں، اب ملک میں قانونی طریقوں سے کرپشن ختم کرنے کی کوششیں کہاں تک کامیاب ہوں گی اور کون کون قابو آتا ہے، عوام کا دھیان اس طرف لگ چکا ہے کہ ملک کو بچانا ہے تو کرپٹ لوگوں کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید : کالم