آم کھانا ہوتو صرف اس نسل کا کھائیں کیونکہ ....

آم کھانا ہوتو صرف اس نسل کا کھائیں کیونکہ ....
آم کھانا ہوتو صرف اس نسل کا کھائیں کیونکہ ....

  

تاریخی شہر ملتان کی ایک منفرد پہچان یہاں کی پیداوار خوش ذائقہ رسیلے چونسہ آم ہیں جوکہ خوشبو، مٹھاس اور لذت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی آموں میں ملتان کا چونسہ آم دنیا بھر میں انتہائی پسند کیا جاتا ہے۔ ملتانی چونسہ آم کے بارے میں دنیا بھر کے زرعی سائنس دانوں کی متفقہ رائے ہے کہ اس سے زیادہ میٹھا اور خوش ذائقہ آم کرہ ارض پر کہیں اور پیدا نہیں ہوتا ۔ زرعی ماہرین کے مطابق آم کی بین الاقوامی پیداوار کا 77 فیصد حصہ ایشیاءمیں پیداہوتاہے ، جبکہ پاکستان آم کے زیرکاشت رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 7 ویں نمبر پر ہے جہاں اس کی کاشت ایک لاکھ 72 ہزار 308 ایکٹررقبہ پر ہے۔صوبہ پنجاب میں آم کا زیرکاشت رقبہ ایک لاکھ 11ہزار 432 ایکٹرہے اس طرح آم کی پیداوارکے لحاظ سے پاکستان دنیا کاساتواں بڑا ملک ہے جہاں اس کی سالانہ پیداوار 20لاکھ میٹرک ٹن ہے جس میں سے صرف صوبہ پنجاب میں 13لاکھ میٹرک ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

مجموعی طور پر پاکستان میں اس وقت اعلیٰ معیار اور بہترین لذت کے حامل آم کی تقریباً دو سو سے زائد اقسام کاشت کی جاتی ہیں ، جبکہ ان میں سے بیس اقسام کے آم تجارتی مقاصد کے لئے کاشت کئے جاتے ہیں تاکہ انہیں برآمد کر کے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکے۔یہاں پیدا ہونے والے آم کی مشہور اقسام چونسہ، دوسہری، لنگڑا، انور رٹول، سندھڑی، فجری، سرولی اور دیسی ہیں۔ دسہری آم لمبااوراس کا چھلکا باریک اور گودے کے ساتھ چمٹاہوتا ہے۔سندھڑی سائزمیں بڑا، چھلکا زرد، چکنا باریک گودے کیساتھ ہوتا ہے۔ چونسے کا ذائقہ تو اپنی مثال آپ ہے یہ پھلوں کے بادشاہ آم کی سب سے اعلیٰ نسل ہے جو دنیا بھر میں بہت شہرت رکھتی ہے چونسا کا چھلکاتھوڑا موٹا ہوتا ہے یہ آم بہت خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے۔لنگڑا آم مختلف سائز کا ہوتا ہے، اس کا چھلکا بے حد پتلاہو تا ہے۔ انور رٹول سائز میں درمیانہ اور اس کاچھلکا سبزی مائل زرد رنگ کا ہوتا ہے ، آموں کی یہ قسم بے ریشہ، ٹھوس اور نہایت شیریںاور خوشبودار ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے آموں میں کھٹے آم بھی شامل ہیں جنہیں اچار ، جام اور مختلف اقسام کی چٹنیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستانی آم نے مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ، جاپان، اردن، موریشیس، کویت، مسقط، بحرین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ناروے، ہولینڈ، بیلجیئم، سنگا پور، ملائیشیا، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کی ہے جبکہ اس سے قبل پاکستانی آم کی ایکسپورٹ زیادہ تر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک کی جاتی تھی، جو کہ تقریباً 60سے 70ہزارمیٹرک ٹن تھی۔ پاکستان کے علاوہ آم کی کاشت انڈونیشیا، تھائی لینڈ، سویڈن، ڈنمارک، فلپائن، ملائیشیا، سری لنکا، مصر، امریکہ، فلوریڈا، برازیل اور ویسٹ انڈیز میں بھی ہوتی ہے مگر دیگر ممالک میں پیدا ہونیوالے آموں کے مقابلے میں پاکستانی آم اور پاکستانی آموں میں ملتانی آم اپنے ذائقے، تاثیر، رنگ اور صحت بخش خوبیوں کے لحاظ سے سب سے منفرد ہے ۔آموں کے معیار کو برقرار رکھنے اور مزید بہتر بنا نے کے لئے کئی عالمی ادارے پاکستان میں کام کر رہے ہیںسندھ اور پنجاب میں آموں کی پروسیسنگ کے لئے کئی جدید آلات نصب کئے جا رہے ہیں جس سے آموں کو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ جیسی بین الاقوامی منڈیوںمیں برآمد کرنے میں مدد ملے گی۔ جبکہ آم کو پلپ کی شکل میں محفوظ کرنے کے لئے بھی کئی کمپنیاں کام کر رہی ہیں ،اس پلپ کوآف سیزن میں جوس اور آم کی کمرشل پروڈکٹس بنا نے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

آموں کی نمائش کے لئے ہر سال پاکستان میں مینگو فیسٹیول کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے کا جس مقصدپاکستانی آم کو دنیا بھر میں متعارف کرو انا ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کار اس جانب متوجہ ہوسکیں اور خوش ذائقہ آموں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کرکے کثیر زر مبادلہ حاصل کیا جاسکے۔گزشتہ برس ضلعی حکو مت ملتان اور ایگری کلچر یونیورسٹی کے تعاون سے ملتان میں منعقد ہونے والے مینگو فیسٹیول میں مختلف ممالک کے سفیروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مینگو گروﺅرز کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ اس موقع پر شہریوں کی دلچسپی بھی دیدنی تھی ۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ