اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ آخری قسط

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ آخری ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ آخری قسط

  

میں خود اس دیار غربت کی زیارت کرنے کا خواہش مند تھا لیکن مجھے شہزادے کی طرف سے خطرہ لاحق تھا کہ ا گر وہاں کسی نے اسے پہچان لیا تو اس کا زندہ بچنا مشکل ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میری معیت میں کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا تھا لیکن وہ ہر وقت میرے ساتھ نہیں رہے گا۔ اگر وہ اکیلا کسی طرف نکل گیا اور کسی نے اسے پہچان لیا تو اسے فوراً قتل کردیا جائے گا۔ اگرچہ جب وہ اندلس کے شاہی محل میں تھا تو سات آٹھ برس کا تھا۔ پھر بھی دشمنوں کی سرزمین میں اس کی جان کو قدم قدم پر خطرہ تھا۔ میں نے شہزادے کو اس خطرناک سفر سے روکنے کی کوشش کی تو اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا کہ اگر میں اس کے ساتھ نہ بھی گیا تو بھی وہ اپنے ماضی کے کھنڈروں کی زیارت کو ضرور جائے گا۔ میں نے اس کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔ بنو حمید نے مسکرا کر میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا او بولا

”عبداللہ! تم میرے دوست ہو، مجھے تم سے یہی امید تھی۔“

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 183 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بنو حمید نے مشہور کردیا کہ وہ کچھ مال لے کر ملک ایران کی طرف جارہا ہے تاکہ وہاں خود جاکر اپنے مال کی کھپت کا جائزہ لے۔ چنانچہ ایک روز ہم نے تھوڑا سا مال باندھ کر اونٹوں پر لادا اور ایک قافلے کے ساتھ تیونس کی طرف روانہ ہوگئے۔ تیونس پہنچ کر ہم نے سارا مال وہیں اونے پونے بیچ ڈالا۔ تیونس میں عیسائی بھی رہتے تھے۔ ہم نے وہاں اپنا حلہ در لباس عیسائیوں سیاحوں جیسا اختیار کیا اور ایک روز تیونس کی بندرگاہ سے ایک فونیقی بادبانی جہاز میں سوار ہوکر ہسپانیہ کی بندرگاہ طریفہ کی طرف چل پڑے۔ اس زمانے میں فونیقی جہاز روم کے سمندر میں مسافربرداری کے لئے خاصی شہرت رکھتے تھے۔ یہ تیز رفتار ہوتے تھے۔ جس فونیقی جہاز پر ہم سفر کررہے تھے اس کے بادبانبوں کا رنگ عنابی تھا۔ یہ آج سے تین چار ہزار سال پہلے بھی فونیقیوں کا قومی رنگ ہوا کرتا تھا۔ یہ بادبان نیلے آسمان کے پاس منظر میں کسی عظیم الجثہ عقاب کے پروں کی طرح پھیلے ہوئے تھے۔ ہماری منزل غرناطہ اور پھر قرطبہ تھی۔ غرناطہ اور قرطبہ سبک رو دریاﺅں، مسجد قرطبہ کے سرخ ستونوں اور الحمرا کے سرخ چوکور میناروں اور سیاہ گلابوں کی سرزمین ہے جہاں بنو حمید کے آباﺅ اجداد کی قبریں تھیں اور جنہوں نے آٹھ سو برس تک ہسپانیہ میں حکومت کی تھی۔ اس بادبانی جہاز پر سوار ہوتے ہوئے ہم نے اپنے آپ کو عیسائی طبیب سیاح ظاہر کیا تھا جو سیاحت کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کے ہسپانیہ میں جڑی بوٹیوں کی کھوج میں جارہے تھے۔ کیونکہ ہسپانیہ میں کسی مسلمان کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بنو حمید شاہی خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اور اس نے قرطبہ کے قصر خلافت میں عربی کے ساتھ ساتھ قدیم لاطینی زبان کی بھی تعلیم ھاصل کی تھیا ور اسے انجیل مقدس کی آیات زبانی یاد تھیں۔ ہم پر کسی نے شک نہ کیا اور ہم جہاز پر سوار ہوگئے۔

میں عرشے پر زیتون کے تیل کے بڑے بڑے رسوں سے بندھے ہوئے گپوں سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ بنو حمید دونوں ہاتھ جنگلے پر رکھے سمندر کی لہروں کا نظارہ کررہا تھا۔

سات دن کے سمندری سفر کے بعد ہمار اجہاز ہسپانیہ کی پہلی بندرگاہ طریقہ کے ساحل کے ساتھ جاکر لگ گیا۔ کبھی حاکم افریقہ موسیٰ بن نصیر کی ہدایت پر طرفہ بن مالک پانچ سو مسلمان مجاہدین کا بیڑا لے کر اس ساحل پر اترا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہسپانیہ کی اس جنوبی بندرگاہ کو طریفہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ میں بھی آج سے دو سو برس پہلے سمندر میں تیرتا ہوا اس بندرگاہ کے کنارے آن لگا تھا۔ طریفہ بندرگاہ پر ہر طرف غیر مسلم تھے۔ آس پاس آج سے دو سو برس پہلے مسلمانوں نے جو مسجدیں بنوائی تھیں وہ غائب تھیں۔ ان کی جگہ گرجا گھروں کی عمارتیں کھڑی تھیں۔ ہم بھی عیسائی تاجروں کے لباس میں تھے۔ ہم پر کسی نے شک نہ کیا ہماری اگلی منزل غرناطہ تھی۔

طریفہ سے ہم نے ایک قافلہ پکڑا اور مالقہ آگئے۔ یہاں دو روز کارواں سرائے میں آرام کیا۔ یہاں سے پھر ایک قافلے میں شریک ہوگئے۔ یہ قافلہ غرناطہ جارہا تھا۔ مالقہ سے غرناطہ بذریعہ کارواں تین روز کی مسافت پر تھا۔ دو روز ویران صحرائی علاقوں سے گزرتے رہے۔ تیسرے روز غرناطہ کے قرب و جوار کی سرسبز و شاداب وادیاں اور پہاڑیاں شروع ہوگئیں۔ ہم اس علاقے میں سے گزررہے تھے جو کبھی بنو سراج کے جنگجو بہادر مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے گونجا کرتا تھا۔ قافلے کے آگے آگے ایک ہسپانوی عیسائی راہ نما تھا۔ جس کی اونٹنی کے گلے میں گھنٹیاں بندھی تھیں۔ رات کی خاموشی میں ان گھنٹیوں کی مترنم آواز ماضی کے تاریک ایوانوں سے آتی محسوس ہوتی تھی۔ بنو حمید اونٹنی پر سوار میرے پہلے میں سفر کررہا تھا۔ اس نے کھجور اور سرو کے درختوں کے جھنڈ کو دیکھ کر ٹھنڈی آراہ بھر کر کہا

”عبداللہ! یہ پیڑ میرے آباﺅ اجداد نے لگائے تھے۔“ اور اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ غرناطہ کی وادی میں پہنچتے ہی ہمیں دور سے الحمرا کے سرخ رنگ کے مربع برجوں کی چوٹیاں نیلگوں آسمان کے پس منظر میں نظر آئیں۔ یہ قلعہ جسے عرب قلعة الاالحمرا بھی کہا کرتے تھے، برف پوش چوٹیوں کے نیچے غرناطہ شہر کے کنارے ایک بلند ٹیلے پر واقع تھا۔ بنو حمید کے دل پر گویا ایک چوٹ سی لگی۔ اس نے رقت آمیز آواز میں آہستہ سے کہا

”عبداللہ! اس الحمرا کی شاہی بارہ دری میں میرے دادا مجھے پاس بٹھا کر اولین مجاہدوں کے بہادری کے کارنامے سنایا کرتے تھے۔“

ہمارے قافلے کو پہاڑوں کا ایک پورا چکر لگا کر شہر فصیل کے دروازے میں سے داخل ہونا تھا۔ دن ڈھل رہا تھا اور ہمارا قافلہ آہستہ آہستہ پہاڑوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اب ہم پہاڑوں کی اوٹ میں آگئے اور قصر الحمرا ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا اور ہم غرناطہ کے کھیتوں میں سے گزررہے تھے۔ غرناطہ کا شہر سیر انوار کے دامن میں دو پہاڑیوں کے اوپر واقع ہے۔ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان ایک گہری وادی ہے۔ پہاڑیوں کے نشیب میں اور وادی کی گہرائیوں میں مکانات بنے ہوئے ہیں۔ یوں شہر کی شکل و صورتایک کٹی ہوئی ناشپاتی کی طرح ہوگئی ہے۔ پہاڑیوں کے دامن میں دو دریا بہتے ہیں۔ ایک کا نام جنیل اور دوسرے کا نام ڈورو ہے۔ جنیل سنہری ریت پر مچلتا ہوا بہتا ہے اور ڈورو کا راستہ سفید براق ریت میں سے ہوکر گزرتا ہے۔ آگے جاکر دونوں دریا ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں اور دغا کے میدان میں ایک ہی دریا بن جاتے ہیں۔ یہ میدان غرناطہ سے صاف نظر آتا ہے۔ اور انجیر، انگور، ناشپاتی سنگروں اور شہتوت کے باغات سے اٹا پڑا ہے۔ اس میدان کو خوبصورت پہاڑوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ جب سیاح اس جگہ قدم رکھتا ہے تو اس پر وجد کا سا عالم طوری ہوجاتا ہے اور اسے ایک پل کے لئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جنت ارضی کے دامن میں آگیا ہے۔

قافلہ غرناطہ کے شہر میں داخل ہوچکا تھا۔ رات ہم نے کاروں سرائے میں گزاری۔ وہاں کسی کو خبر نہیں تھی کہ اس وقت اندلس کے آخری مسلمان تاجدار باب العاول کا بیٹا بنو حمید ان کے قریب ہی کارواں سرائے کے فرش پر بوریا بچھائے ایک عیسائی سیاح کے بھیس میں گمنامی کے عالم میں پڑا ہے۔

ختم شد

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار