شہبازشریف کے جاں نشینوں کا تقرر، مسلم لیگ ن کے بعض حلقے بھی انگشت بدنداں 

شہبازشریف کے جاں نشینوں کا تقرر، مسلم لیگ ن کے بعض حلقے بھی انگشت بدنداں 

تجزیہ،جاوید اقبال

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی اور جاں نشینوں کے تقرر نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور سیاسی حلقوں میں مختلف انداز سے چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔خود مسلم لیگ (ن) کے حلقے بھی انگشت بدنداں ہیں کہ اچانک ہمارے قائد نے یہ کیسا ”یو ٹرن“ لیا۔بعض لیگی رہنماء اسے اعلیٰ سیاسی بصیرت اور موجودہ حالات کے تناظر میں نئی سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے (ن) لیگ کے ساتھ عرصہ دراز سے جاری خفیہ ڈیل کے سلسلے کی ہی کڑی ہے۔تاہم حکومت کے ہم خیال سیاسی حلقے (ن) لیگ کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل یا ڈھیل کی تردید کر رہے ہیں اور وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قائد حزب اختلاف لاپتہ ہو گئے جبکہ دوسرا بھائی فرار کا راستہ تلاش کر رہاہے۔جہاں تک خواجہ آصف اور رانا تنویر کے بطور جانشین تقرر کا معاملہ ہے تو یہ یقینی طور پر قانونی ضرورت اور پارلیمانی مجبوری تھی۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک میاں شہباز شریف عازم لندن کیوں ہوئے؟

شہباز شریف کے لندن جانے کے فیصلے نے کئی ابہام پیداکردئیے کیونکہ اہم لیگی سیاسی رہنماء بھی اس امر سے بے خبر تھے کہ ان کے قائد موجودہ حالات میں باہر جا سکتے ہیں۔نیب کی حراست میں لیگی رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کا اس موقع پر پارٹی پالیسی کے خلاف بیان بھی معنی خیز ہے۔مسلم لیگ (ن) کے ایک بڑے گروپ نے اچانک پارلیمانی پارٹی کی سربراہی سے شہباز شریف کو ہٹا کر خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر اور رانا تنویر حسین کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کرنے جیسے اچانک فیصلوں پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔کہیں یہ (ن) لیگ کی نئی سیاسی حکمت عملی ہے یا ”مہربانوں“سے کسی ڈیل کا حصہ تو نہیں۔تاہم اس فیصلے سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ ن لیگ میں ایک بڑا فارورڈ بلاک موجود ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ہے۔بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک کے اصل حکمرانوں اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان چودھری نثار اور خواجہ سعد رفیق پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تجزیہ /جاوید اقبال

مزید : میٹروپولیٹن 1 /تجزیہ