ہم کہا ں جا رہے ہیں؟

ہم کہا ں جا رہے ہیں؟
 ہم کہا ں جا رہے ہیں؟

  

ہم کون لوگ ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟ یہ وہ فقرہ ہے کہ جس کے باعث ہم اپنی بوٹی کے لئے پورا بکرا بلکہ پورا اونٹ ذبح کرنے جا رہے ہیں۔ٹائیگر فورس ہو یا شیر جوان فورس نوجوانوں کو آپس میں دست وگریبان کرنے کی ایک ایسی سازش ہے جس سے قوم گرہوں میں تقسیم ہوتی واضح نظر آئے گی۔جس کے لئے لاہور میں ہونے والے مسلم لیگ ن کے تحت جلسہ میں شیر جوان فورس کا بھر پور استعمال کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔جبکہ دوسری طرف ٹائیگر فورس ہو گی جو ان کے ساتھ پنجہ آزمائی کرنے کی کوشش کرے گی ایسی صورت میں نقصان دونوں فورسز کی پارٹیوں کا نہیں بلکہ ڈائریکٹ ملک و قوم کا ہو گا جو اس پسائی میں پستے نظر آئیں گے۔پی ٹی آئی کی جانب سے ڈاکٹروں کی بھی ایک فورس تیار کی گئی ہے جس سے چند روز قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے نا صرف خطاب کیا بلکہ ان کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی بھی کی۔یعنی اب ڈاکٹروں کی بھی ایسی فورس تیار ہو چکی ہے جو نازک مقام پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ہر کام بجا لائے گی۔

اس کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں حکومت اپنے نوجوانوں پر مشتمل جتھے تیار کرنے جا رہی ہے جن میں لڑکیاں اور لڑکوں کو شامل کیا جائے گا۔اس صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی نظر آرہی ہے کہ اگر دونوں فورسز آمنے سامنے آگئیں تو ملک میں کہیں خانہ جنگی کی چنگاری نا بھڑک اٹھے اور پھر ہمیں سنبھلنے کا موقع نا ملے۔اس سلسلہ میں ان دونوں پارٹیوں کی بنائی گئیں فورسز کا سب سے بڑا تصادم بلدیاتی انتخابات کے دوران ہوتا نظر آتا ہے جبکہ لاہور میں ہونے والا ن لیگ کا جلسہ صرف ریہرسل ثابت ہو گا۔ مجھے یہ کہنے دیں کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت قوم کو یہ بتائیں کہ وہ فورسز بنا کر ریاست کے اندر ریاست اور اداروں کے اندر ادارے کھڑے کرنے کی عملی کوششوں میں مصروف ہیں۔جب ہمارے پارس آرمز فورسز،پولیس فورسز موجود ہیں تو پھر ان کی موجودگی میں کسی پرائیوٹ فورس کی کیا ضرورت ہے اگرچہ دونوں جماعتیں اپنی تیار کردہ فورسز کو نام دے رہے ہیں کہ وہ عوام کی فلاح بہبود کے لئے کام کریں گی مگر اندر اخانے ان کے مقاصد کچھ اور ہیں۔

جو مجھے اچھے تیور نظر نہیں آرہے جب کہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے بعد پیپلز پارٹی بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سندھ میں ایک نئی فورس کو جنم دے رہی ہے جس کے لئے بلاول بھٹو اعلان کرنے والے ہیں۔ میں یہی کہوں گا کہ ہم کون لوگ ہیں اور قوم کے جوانوں کو کہاں لے کر جا رہے ہیں کہیں اپنی کرسی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے شروع کی گئی نئی سیاست ملک میں نفرتوں اور یک دوسرے کا گریبان چاک کرنے کی طرف نا لے جائے اور ملک میں ایسی نفرتوں کا بیج بویا جائے جو ہمیں خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے ایسے عالم میں آزاد عدلیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان جماعتوں کی قائم کردہ فورسز پر پابندی عائد کر دے عدلیہ کا قوم پر یہ سب ست بڑا احسان ہو گا۔کیونکہ پی ٹی آئی کے بعد ن لیگ نے بھی اپنی شیر جوان فورس کے جوانوں سے ایسا حلف لیا ہے جس میں مریم نواز کے تیار کردہ حلف نامہ میں ریاست کے خلاف بغاوت نظر آتی ہے نوجوانوں سے حلف نامے میں اقرار کروایا گیا ہے کہ وہ ن لیگ کے لئے لڑنے مرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔جیل جانا پڑا تو جائیں گے،قانون توڑنا پڑا تو توڑیں گے۔

قوم کو یہ بتایا جائے کہ کیا یہ قوم دوستی ہے او روطن پرستی ہے کچی عمر کے نوجوانوں کے دلوں میں آپسی نفرت کا بیج بونا کون سی وطن پرستی ہے۔لگ یہی رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ان نوجوانوں کا ڈھال بنا کر اس لڑائی کو گلی، محلے شہر،شہر کوچہ،کوچہ،نگر،نگر لے کر جانا چاہ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قوم تقسیم اور ریاست کمزور ہو گی جس کا فائدہ ملک میں موجود دشمن اٹھائیں گے۔اگر تحریک انصاف کی 26 ماہ کی کارکردگی پر نظر دوڑائیں تو ملک میں صرف مایوسی،افراتفری،بد امنی،ریپ میں صرف اضافہ کے سوا ء کچھ نظر نہیں آتا یا پھر حکومت اور اپوزیشن کی آپسی لڑائیاں نظر آتی ہیں۔جس کا نقصان یہ ہو ا کہ تمام مافیاز چاہے وہ گراں فروش ہوں،ڈرگ مافیاز ہوں،قبضہ مافیاز ہوں،ملاوٹ مافیاز ہوں اپنی حمویت یافتہ جماعتوں کے پیچھے چھپ کر قوم پر وار کر رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب عوام کو ہو رہا ہے۔آنے والے دن عوام کے لئے کوئی اچھا پیغام نہیں دے رہے لہذٰا عوام اب یہ بات خاطر میں رکھے کہ انہیں مزید بے یقینی کی طرف جانا ہو گا جہاں صرف مایوسی،ناکامی،رسوائی اور ذلالت ان کا انتظار کئے باہنیں پھیلائے بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اب تو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی یہ بات واضح کر دی ہے کہ تبدیلی راتوں رات نہیں آتی اور نا ہی پاکستان پریوں کا ملک پرستان ہے۔

مزید :

رائے -کالم -