سیاحتی مقام اور ڈاکٹرطارق ہاشمی کاقابل تقلید عمل

سیاحتی مقام اور ڈاکٹرطارق ہاشمی کاقابل تقلید عمل
سیاحتی مقام اور ڈاکٹرطارق ہاشمی کاقابل تقلید عمل

  

آپ میں سے اکثرلوگوں نے پاکستان کے کئی شہروں،علاقوں،دیہات،پہاڑی سلسلے،ساحل سمندر،دریاؤں اور نہروں کنارے لگے جنگلات،صحرا،تاریخی مقامات،قلعے،تاریخی مساجد،مشہورپارک اورچڑیاگھردیکھے ہوں گے۔ان کی خوبصورتی بلاشبہ قابل تعریف ہے اورایسےمقامات کو دیکھ کر ہم کہتےاور سنتے ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کامستقبل روشن ہوسکتاہے، اگر ان جگہوں پر سہولیات،سڑکیں اورسیکیورٹی انتظامات عالمی معیار کے مطابق ہوں۔

وزیراعظم عمران خان بھی شروع دن سے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے کوشاں نظرآتے ہیں اوریہ حوصلہ افزا بات ہے کہ ملک کے وزیراعظم کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ ملے کیوں کہ اس سے پاکستان کا ہی فائدہ ہےمگر اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئےجہاں بہت سے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے وہیں بطورقوم سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے اوپر عائد ہوتی ہے،جب تک ہم خود سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ نہیں اپناتے،حکومت چاہے جتنی بھی کوشش کرلے یہ خواب محض خواب ہی رہنے کا خدشہ ہے۔

غالبا یہ مئی دوہزار اکیس کی بات ہے آپ کوبھی  یاد ہوگاکہ برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنرکی ایک تصویرسمیت ٹویٹ خاصی وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہاتھوں میں کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک کے بھرے دو بیگ لے کر کھڑے تھے۔در اصل انہوں نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر چہل قدمی کے دوران  یہ کوڑا جمع کیا تھا،انہوں نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی لکھاتھا  کہ صفائی نصف ایمان ہے، کرسچن ٹرنر کی جانب سے مارگلہ ہلز پر کوڑ اکرکٹ کی نشاندہی پر چیئرمین سی ڈی اے نے نوٹس لے کر صفائی شروع کرادی تھی۔

اسی نوعیت کی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک پوسٹ میں نے پاکستانی ڈاکٹرطارق ہاشمی کی فیس بک  وال پر دیکھی،ڈاکٹرطارق ہاشمی کا تعلق علم وادب سے ہے اور وہ اپنے حلقے میں خاصے مقبول بھی ہیں،وہ اپنے اہل خانہ سمیت معروف سیاحتی مقام مالم جبہ سوات سیر کیلئے گئے۔انہوں نے وہاں مختلف فیملیز کی جانب سے پھیلائے گئے کوڑا کرکٹ،شاپنگ بیگز،پھلوں کے چھلکوں کو جمع کرنا شروع کردیا،میں نے یہ ویڈیو دیکھی ہےاگر آپ بھی چاہیں تو آپ کو دکھائی جاسکتی ہے،مارگلہ ہلز پر بننے والی تصویر میں اور اس ویڈیو میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ برطانوی ہائی کمشنر کے ہاتھوں میں گندگی کے بیگ تھے اوریہاں ایک پاکستانی استاد اوران کی ننھی بچیوں کے ہاتھوں میں کوڑا کرکٹ ہے،یہ بچیاں ڈاکٹرصاحب کیساتھ مل کر وہ مقام چند ہی منٹوں میں صاف کردیتی ہیں۔

ویڈیو دیکھتے ہوئے میں یہ سوچ رہاتھا کہ اگر ان پاکستانی بچیوں کی جگہ کوئی غیر ملکی سیاح ہوتا تو اب ہمارے میڈیا پر بریکنگ کی طرح چل رہاہوتا اور پوری قوم اس پر غیر ذمہ داروں کو  کوستی دکھائی دیتی مگر ڈاکٹرطارق ہاشمی کی پوسٹ کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو یہ ویڈیو شئیر کرنے کا مقصد تھا،در اصل یہ ویڈیو پوری قوم کو جھنجوڑنے کیلئے کافی ہے کہ ایک فیملی اگر انتہائی ذمہ دارانہ رویہ اپنا سکتی ہے تو پھر ہم سب ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟۔۔ہم بے شک صفائی نہ کریں کہ تقریبا اکثر جگہوں پر اداروں کے اہلکار اس کام پرمامور ہیں مگر ہم یہ تو کرسکتے ہیں کہ جہاں بیٹھیں،جو کچھ کھائیں،پئیں، اس کی باقیات اسی بیگ میں ڈال لیں جس میں وہ چیز یں لے کر آئے تھے اور قریبی کوڑا دان میں پھینک دیں،ہم اپنی لاکھوں روپے کی گاڑٰ ی کوصاف رکھنے کیلئے اندر کا گند باہر سڑک پر تو پھینک دیتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ اگر گاڑٰ ی صاف رکھنا ضروری ہے تو پھر ملک کی سڑکوں  کی صفائی کس کی ذمہ داری ہے؟کیا یہ ملک ہمارا نہیں؟کیا سیاحتی مقام ہمارے نہیں؟کیاتاریخی مقامات اور شمالی علاقہ جات ہمارے وطن عزیز کاحصہ نہیں؟

عام طورپر ہم نے یہی دیکھاہے کہ لوگ ایسے مقامات کی خوبصورتی دیکھنے جاتے ہیں مگر ان خوبصورت جگہوں کو بدصورت بنانے میں اپنا اپنا حصہ ڈال کر واپس آجاتے ہیں،ہر کوئی ان مقامات کی خوبصورتی بڑھانے میں کردار اداکرنے کی بجائے انہیں مزید گندا کرکے واپس آجاتاہے اور پھر جب حسن مانند پڑنا شروع ہوجاتاہے تو پھر ہم حکومتی اداروں کو کوستے ہیں کہ صفائی کا بندوبست نہیں،برا حال ہے،سہولیات نہیں،اپنے ہی کیے گئے گناہوں کو بھی حکومت وقت پر ڈالتے ہوئے ذرا بھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ گناہ ہمارے ہی نامہ اعمال پردرج ہیں،پھر ان کا ذمہ دار کوئی اور کیسے ہوسکتاہے؟۔

صفائی نصف ایمان ہے، یہ ہمارے ہی پیارے نبی پاکﷺ کی حدیث مبارکہ ہےجن پر درود پڑھنے کے بغیر ہماری نمازمکمل نہیں ہوتی،جن کے بغیر کلمہ طیبہ نامکمل ہے،جن پر ایمان کے بغیر ہم مسلمان نہیں ہوسکتے،جن کی شفاعت کے بغیر ہم جنت میں نہیں جاسکتے اور جن کے بغیر ہم نہ دنیا میں کچھ ہیں اور نہ آخرت میں ہمارا کوئی آسرا ہے،پھر انہیں کی حدیث مبارکہ ہمیں خود سے سمجھ کیوں نہیں آتی؟کیا اس کے لیے ایک غیرملکی کاٹویٹ کرنا بھی ضروری ہے؟۔۔

اگر ڈاکٹرطارق ہاشمی جیسے محب وطن شہری اپنی بچیوں سمیت خود ہی صفائی کرکے ایک پہاڑٰ ی کو صاف ستھرا کرسکتے ہیں تو کیاہم اتنا بھی نہٰیں کرسکتے کہ  اپنے کھانے کی باقیات سمیٹ کر متعلقہ جگہ پر پھینکیں؟مقام غور وفکر ہے،ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک ذمہ دار شہری ہیں یا پھر غیرذمہ داری کی انتہائی حدوں کو چھو رہے ہیں۔

(بلاگر مناظرعلی مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں، آج کل لاہور کے ایک ٹی وی چینل پر کام کررہے ہیں۔ ان سے فیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -