سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 18

Jan 05, 2018 | 15:06:PM

قاضی عبدالستار

وہ تخت کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔ تین مرتبہ کمر سے تلوار کھولی اور باندھی۔ خلیفہ نے داہنے ہاتھ کا اشارہ کیا یعنی سلام قبول کر چکا تھا۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ باغ کی عورتیں بدستور ناچتی رہیں اور اپنے جسم کی ہوش ربا نمائش کرتی رہیں۔

خلیفہ کے چہرے پر تکدر کے آثار نمایاں ہو چلے تھے۔ سوکھا ہوا غبی چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔ اس نے عرض مدعا کرنا چاہا کہ پشت سے ایک کنیز برآمد ہوئی۔ اس کے سر پر سونے کا طشت تھا جس میں سرخ شراب کا شیشہ اور آبگینہ رکھا ہوا تھا۔ دوسری کنیز نے طشت اتار کر اس کو پیش کیا۔ اس نے آبگینہ کو سر تک اٹھایا اور طشت پر رکھ دیا ۔ سینے پر ہاتھ باندھ کر اور سر کو خم دے کر عرض کیا۔

’’میں اس نعمت سے محروم کر دیا گیا ہوں۔‘‘

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 17 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

امیر المومنین حقارت سے ہنس دیئے اور ناچنے والیوں کے ہلکے قہقہوں سے سارا دربار لبریز ہو گیا اور وہ سر سے پاؤں تک ندامت سے شرابور ہو گیا۔ امیر المومنین کے ہاتھ کی جنبش پر باجے گنگنانے لگے، پھر بجنے لگے اور آفتاب و ماہتاب سے حسین دو کنیزیں حوا کا لباس پہنے پاگلوں کی طرح ناچنے لگیں۔ ناچ کے زوال کے وقت وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور خلیفہ کی طرف دیکھا لیکن اس کی نگاہ ناچنے والیوں کے عریاں کولہوں پر ٹنگی ہوئی تھیں۔ اس نے تخت کا طواف کرنے کے بجائے اس کے پارے کا بوسہ دیا اور الٹے پیروں باہر نکل آیا۔ قصر وزارت کے میدان میں قدم رکھتے ہی بوڑھے مردوں، عورتوں ،اور بچوں کا قافلہ نظر آیا جن کے پیروں میں پاپوش کے بجائے گودڑ بندھا ہوا تھا اور بدن پر لباس کی جگہ چیتھڑے لپٹے ہوئے تھے۔ہاتھوں اور پیروں میں خون سے داغدار میلی پٹیاں بندھی تھیں۔ آنکھیں مردوں کی طرح خالی اور چہرے بھکاریوں کے مانند بے کس تھے ۔ ایک چھ سات برس کا ننگا لڑکا اس کے جگمگاتے لباس اور گھوڑے کا سازوسامان آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ عورتوں کے بے نقاب چہرے اس کے وجود سے بے نیاز چہرے روٹی کی فکر کی پر چھائیوں سے آباد تھے۔ اس نے گھوڑا روک لیا اور قریب آتے ہوئے بوڑھے کو مخاطب کیا۔ جس کے چہرے سے نجابت ٹپک رہی تھی۔

’’تم کون ہو ؟ ‘‘

’’ہم کسی زمانے میں انسان ہوا کرتے تھے لیکن اب مٹی کے ڈھیلوں سے بھی سستے ہیں۔ خچروں سے بھی بدتر ہیں یعنی عیسائی لشکروں کی اجاڑی ہوئی رعایا ہیں ۔ آپ کی رعایا ہیں۔‘‘

’’کہاں سے آئے ہو؟ ‘‘

’’صور سے ۔‘‘

’’ہوں۔۔۔ہمارے ساتھ آؤ۔‘‘

پشت پر کھڑی ہوئی غلاموں کی قطار کو حکم ملا۔

’’قافلہ ہمارا مہمان ہے اور رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھائے گا۔‘‘

وزارتِ عظمیٰ کی بارگاہِ خاص کی مسند پر اسے بٹھایا گیا۔ چاندی کی سیلا بچی میں ہاتھ دھلائے گئے اور دستر خوان پر وہ سب کچھ چن دیا گیا جو فرعون مصر کے وزیراعظم کو میسر ہو سکتا تھا۔ بوڑھا کھانا کھاتا رہا، روتا رہا، جب پیٹ بھر گیا اور نارگیلی پیش کی گئی تب بولا۔

’’عالی جاہ۔۔۔ہم عیسائی ہیں۔۔۔اس لئے کہ ہم عیسائی گھروں میں پیدا ہوئے جہاں تک واقعی مذہب کا سوال ہے تو ہمارا مذہب ہے بھوک روٹی اور مصیبت ۔ ہم جو اپنے بچوں کا دوزخ بھرنے کیلئے خچروں کی طرح محنت کرتے ہیں اور آدھا پیٹ کھا کر سو رہتے ہیں ۔ روح اقدس کی صفات کیا جانیں ۔ وحدانیت ار تثلیث کے رموز کیا سمجھیں۔مدتیں ہو گئیں عالی جاہ۔ جس طرح حاکم عیسائیوں کے گھوڑے ہمارے کھیتوں میں رہتے ہیں اس طرح ہم خود اپنے گھروں میں نہیں رہ سکتے۔ ہمارے جسم لباس کی لذت فراموش کر چکے۔ زبان ذائقہ بھول چکی۔ ہم چشموں سے پیاسے لوٹ آتے ہیں کہ حاکموں کے جانوروں کی بے حرمتی کے سزا وار ٹھہرائے جائیں ۔ ہم اپنے بیٹے اس لئے پالتے ہیں کہ وہ اپنے سینے تیراندازی کی مشق کرتے ہوئے عیسائی حاکموں کے تیروں کا ہدف بنائیں، گردنیں آوارہ عیسائی لونڈوں کی تلواروں کے غلاف ہو جائیں ۔ ہم بیٹیاں اس لئے پیدا کرتے ہیں کہ وہ اپنی بے کس ماؤں، مجبورباپوں اور مقتول بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے عیسائی حاکموں کی نفسیاتی آگ بجھائیں۔‘‘

’’عالی جاہ! ہم کو اب قیامت کا انتظار نہیں رہا۔ ‘‘

’’وہ ہمارے لئے آچکی۔‘‘

’’ہمارے سروں سے گزر چکی۔‘‘

اس نے اپنے اطلسیں شملے سے آنکھیں پوچھیں۔ ذہین سائل ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔اس نے اپنا مہر وزارت سے مرصع ہاتھ بوڑھے کے کمزور شانے پر رکھ دیا اور اعلان کیا۔

’’تمہاری گردنین تلوار کا غلاف بن چکیں لیکن رب العالمین کی قسم ایک ایک گردن کا ایک ایک ہزار گردن سے حساب ہو گا۔‘‘

بوڑھا سائل آنسوؤں کی نذر قدموں پر نچھاور کر کے چلا گیا ۔ اس کا ہاتھ تلوار کے قبضے پر اسی طرح جما رہا ۔ فریاد اسی طرح کانوں میں زہر ٹپکاتی رہی اور آنکھوں میں امیر المومنین کا دربار نا چتا رہا۔ نماز مغرب کے بعد سنگ مرمر کی دیوار پر آب زر سے بنے ہوئے نقشے میں وہ صور کا شہر دیکھ رہا تھا کہ نقیب نے افسر البرید (خفیہ پولیس اور محکمہ ڈاک کا ناظمِ اعلیٰ) کی آمد کی اطلاع دی۔ اس نے آتے ہی ایک سرخ لفافہ ہاتھ کی کشتی پر رکھ کر پیش کیا۔ اس نے گردن ہلادی ۔ افسر البرید نے مہر توڑ کر پڑھنا شروع کیا۔

ٍ ’’یکم محرم الحرام ۵۶۷ ؁ء کی صبح کو غزہ پر یوروشلم کی شاہی فوجوں نے ہلہ بول دیا۔ جامع مسجد میں آگ لگا دی، قرآن مجید کی جلدی پھونک دیں۔ عیسائی اور مسلمان آبادی کو تہ تیغ کر دیا ۔ شکیل اور جوان عورتیں تقسیم ہو چکیں۔ بچے غلام بنا لئے گئے۔ بوڑھے اور زخمی مضافات میں ہجرت کر گئے۔ فوج اب ان بستیوں کے گرد گھیرا ڈال رہی ہے اور قتل عام کی تیاری کر رہی ہے۔ صبارفتار قاصدوں کے ذریعہ وزارتِ عظمیٰ کو مطلع کیا جاتا ہے۔

(مہر برائے ) خادم البرید ۲، محرم الحرام ۵۶۷ ؁ء

وہ کچھ دیر تک سوچتا رہا۔ پھر تالی بجائی، غلام کو حکم دیا۔

’’امیر عسا کر ۔۔۔افسر الشرط۔۔۔اور میر عدل کو طلب کیا جائے۔‘‘

افسر البرید نے پیشانی کی شکن سے بہت کچھ سمجھ لیا اور گزارش کی۔

’’بارگاہِ خلافت سے حضور کی واپسی کے انداز کو امیر المومنین نے ناپسند فرمایا ہے۔خواجہ سراحریم سے تخلیے میں گفتگو فرمائی۔ خاندانی کے معتوب بزرگوں کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی ۔ اس کا امکان ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں کسی سیاسی طوفان کا پیش خیمہ بن جائیں۔ قاہرہ کے مضافات میں وہ ہزار وں سوڈانی شمشیر زن موجود ہیں جنہوں نے صدیوں خلافت کی خدمت کی ہے اور جن کو آپ نے معزول کر دیا ہے۔‘‘

اس کی سوچ گہری ہو گئی۔

سنگ مر مر کے چبوترے پر قالینوں کا فرش تھا۔ آبنوس کرسیوں کا سمیں کام قد آدم شمعدانوں کی روشنی میں جگمگارہا تھا۔ آسمان پر چاند روشن تھا۔ چبوترے کے نیچے چاروں طرف سنگ سیاہ کی نہر سے پانی اچھل رہا تھا جس پر سنگ مر مر کا چھوٹا ساپل تھا اور جس کی آخری سیڑھی سبزے پر رکھی تھی اور انجیروں کے جھنڈے کے پاس مسلح ترکمانوں کا ہجوم کھڑا تھا۔ آگے آگے میر عدل قاضی عماد الدین تھے جن کے سفید عمامے اور سفید جبے پر سیاہ داڑھی نے وجاہت کو دو چند کر دیا تھا۔ ان کے پیچھے امیر لشکر ملک العادل تھے۔ جن کے طرز پوش میں پکھراج کی کلغی لگی تھی اور تلوار کا نیام زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ ان کی پشت پر امیر الشرط طفرل تھے جو لوہے میں جکڑے جوانی کے نشے میں چور جھومتے چلے آرہے تھے۔ اس نے کھڑے ہو کر آنے والوں کو تعظیم دی اور وہ تینوں دست بوسی کر کے کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ رسمی گفتگو کے بعد اس نے معاملے کی بات چھیڑی۔

’’ہماری سرحدوں پر مسلمان بستیوں کی حالت قابل رحم ہو چکی ہے۔ اجڑے ہوئے قافلوں کی داستانوں نے ممالک محروسہ کے اسلامیوں پر افرنجیوں کی ہیبت بٹھا دی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اس صورتِ حال سے پوری ملت بے حس نہ ہو جائے اور اپنی بدحالی پر قانع ہو رہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ایک جرار لشکر جائے اور عیسائی شہروں کو ہمارا ادب کرنا سکھلائے ۔‘‘

’’اس کیلئے آپ نے اتنا اہتمام کیوں کیا۔ کسی غلام کو حکم دیتے اور ہم گھوڑوں پر سوار ہو جاتے۔ ‘‘

لیکن قاضی عمادالدین خاموش بیٹھے رہے اور ان کی داڑھی جبے کے زردگریبان پر ہلتی رہی۔

’’مجھے اس رائے سے اتفاق نہیں۔ امیر عسا کر اور افسر الشرف مجھے معاف کریں۔ اگر دس بیس ہزار کا لشکر جاتا ہے تو اس کا خطرہ ہے کہ وہ ساحل کے عیسائی قلعوں کے زنجیر ے میں پھنس کر غارت ہو جائے اور افرنجیوں کا فاتح لشکر قاہرہ کی دیواروں کے نیچے موجیں مارنے لگے اور اگر جرار لشکر روانہ ہوتا ہے یعنی پچاس ہزار سوار کوچ کرتے ہیں ۔۔۔تو میر اخیال ہے کہ گھات میں بیٹھا ہوا حریم، جھاڑیوں میں چھپے ہوئے سوڈانی سوار اور فاطمیوں کے خزانے سازش کر لیں گے اور وزیراعظم کو کسی دوسرے اور مضبوط دشمن سے نپٹنا پڑے گا۔ ‘‘

’’دمشق سے لشکر مانگوں؟‘‘

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

’’دمشق کا سلطان وزیراعظم کی بڑھتی ہوئی شہرت سے خائف ہے اور وہ خود آپ کی رکاب کے شامی لشکر کی واپسی کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ مجھے توقع نہیں کہ وہ مزید لشکر دے گا۔ اور اس کی کیا ضمانت ہے کہ آنے والا لشکر آپ کے بازوؤں کی طاقت بننے کے بجائے مصر کے تخت پر قبضے کا منصوبہ نہ بنائے گا۔‘‘

’’پھر میں کیا کروں میر عدل؟ ‘‘۔

’’آپ وہی کیجئے جو بار بار عرض کیا جا چکا ہے اور آپ جسے بار بار نظر انداز کر چکے ہیں۔ ‘‘

’’یعنی ؟‘‘

’’یعنی فاطمی خلافت کی پرانی مسند لپیٹ کر کونے میں رکھ دیجئے۔ بیمار عاضد (خلیفہ ) کو محل کی عورتوں کے حوالے کر دیجئے اور مصر کے تخت پر اپنا نیزہ گاڑ دیجئے اور جامع مسجد میں نورالدین محمود اور خلیفہ عباسی کا خطبہ پڑھا دیجئے اور بادشاہوں کے تخت اور عوام کے دل اپنی مٹھی میں کر لیجئے۔ پھر یروشلم پر فیصلہ کن چڑھائی کا منصوبہ بنائیے۔‘‘

پھر اسی چبوترے پر عشا کی نماز ہوئی اور قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھائی گئیں اور ساری رات مملوکوں کے گھوڑے دوڑتے رہے اور صبح ہوتے ہوتے حریم اور خلافت کے حقدار وں کو حراست میں لے لیا گیا۔(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں