ڈاکٹرامجدثاقب اور اخوت کاسفر

ڈاکٹرامجدثاقب اور اخوت کاسفر
ڈاکٹرامجدثاقب اور اخوت کاسفر

  

بچپن میں والدین،سکول میں اساتذہ اور تنہائی کی ساتھی کتابوں سے آج تک یہی سیکھاہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اگر یہ محنت بھلائی کے کاموں میں ہو تو پھر دنیا وآخرت دونوں میں ہی ایسا اجرہے کہ انسان دنگ رہ جائے۔میں آج تک بے شمار افراد،شخصیات سے ملا،ہرانسان کی زندگی دوسرے سے مختلف ہے اور ہرانسان کا مزاج اپناہے مگربعض لوگوں سے مل کر آپ کا دل کرتاہے کہ انہیں بار بار ملا جائے،آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر دلی سکون بھی میسر ہوگا اور کچھ سیکھنے کابھی موقع ملے گا کیوں کہ ایسے لوگوں کی باتوں میں ان کی زندگی کا نچوڑ ہوتاہے،ان کے پاس سنی سنائی باتیں سنانے کا وقت نہیں ہوتابلکہ وہ ذاتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں گفتگو کرتے ہیں۔۔۔

ایسی ہی ایک شخصیت سے یونائٹیڈ جرنلسٹس فورم آف پاکستان کے وفد کے ہمراہ ملاقات کاموقع ملا،نام لیں تو کون ہے جو انہیں جانتا نہ ہو اور ان کے آئیڈیاکی تعریف نہ کرے،ان کے ادارے کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔یو جے ایف پی کے صدر رضوان رفیق باجوہ،سیکرٹری جنرل رضامحمداورمیں بطورسینئر نائب صدراپنے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ جب گلبرگ میں اخوت فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچا تو ایک خوبصورت عمارت کی بالائی منزل پر ایک پُرسکون ہال میں ملاقات کااہتمام کیاگیا۔

وقت کی پابندی کالحاظ تو ہرکوئی کرنے کی تلقین کرتاہے مگر عموما یہی دیکھاگیاہے کہ کبھی مہمان لیٹ تو کبھی میزبان تاخیرکاشکارہوجاتاہے لیکن اخوت کے دفتر میں ایسا نظر نہیں آیا،ہم دس بج کر 25منٹ پر میٹنگ ہال میں موجود تھے،ٹھیک ساڑھے دس بجے ایک ملازم نے آکر پوچھا کہ آپ کے سب عہدیدارتشریف لاچکے ہیں تو ملاقات شروع کرائی جائےجس پر ہم نے ہاں میں جواب دیاتو اگلے ہی لمحے ایک مسکراتا چہرہ،ایک خوبصورت شخصیت ہمارے سامنے موجودتھی،جی ہاں آپ میں سے بہت سے لوگ ڈاکٹرامجدثاقب سے ملاقات کرچکے ہوں گے اور میری باتوں کو مبالغہ آرائی نہیں کہیں گے۔

ہم نےڈاکٹرامجدثاقب سے اخوت کی خدمات پرکچھ سوالات کیے جس پر انہوں نے ہمیں مطمئن کیا اور ضرورت مندوں کو بلاسودقرضوں کے حوالے سے روشنی ڈالی،یہ پاکستان میں ایک بہت بڑی سہولت ہے جہاں کوئی آپ کو سو روپے بھی دے تو وہ توقع کرتاہے کہ اس پر اسے منافع کتنا ملے گا مگر یہ خوشگوار حیرت کی بات ہے کہ اخوت فاؤنڈیشن قرضے فراہم کرتاہے مگر اس پر سود کی شرح صفر فیصد بھی نہیں،پھر اس سے بڑی نیکی کسے  کہیں گے کہ جب کسی ضرورت مند کو اس کی ضرورت کے مطابق رقم مل جائے اور اس پر منافع کامطالبہ بھی نہ ہو،ان قرضوں کے حوالے سے تمام تفصیل ان کی ویب سائٹ،دفتراور گوگل پر لکھ کر آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہیں،یہ ایک انتہائی آسان طریقہ کار کے تحت قرضے فراہم کرنے والا ادارہ ہے جس کی مثال  نہیں ملتی۔

ڈاکٹرامجدثاقب نے ہمیں بتایاکہ قرضوں کے علاوہ ہم نے بچوں کے لیے ایک یونیورسٹی بھی بنائی ہے جہاں انہیں بغیر فیس تعلیم حاصل کرنے کی سہولت میسر ہے اور اس یونیورسٹی میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیاہے،تعلیمی ادارے بنانااوروہاں مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرناریاست کاکام ہےمگرایک پرائیویٹ ادارہ اپنےوسائل سےیہ کارخیرکررہاہےجویقینا قابل تعریف عمل ہے،اخوت کےمختلف پروجیکٹس پر گفتگو کے دوران نے انہوں نے مسکراتے ہوئے شکوہ بھی کیاکہ ہم لوگوں کی امداد کررہے ہیں اور ہمارا مشن بہت منفرد اور بھائی چارے کاماحول پیداکرنے والا ہے مگر اس کے باوجود کچھ لوگ قرض لے کرواپس دینے کو تیار نہیں ہوتے،حالانکہ اخوت طے شدہ شیڈول کے مطابق وہی رقم واپسی کامطالبہ کرتی ہے جو اس نےلوگوں کے مشکل وقت میں انہیں دی ہوتی ہے۔

اس پر ہم نے سوال کیاکہ پھرآپ قرض کی رقم کیسے واپس لیتے ہیں اور ایک بندہ تنگ کررہاہے تو پھر کیامقدمات درج کرادیتے ہیں؟۔۔توانہوں نے مسکراتے ہوئے کہاکہ یہ ہمارا مشن نہیں،ہم نے اگر لوگوں کو تنگ ہی کرنا ہے توپھر ہم یہ کارخیر کیوں کررہے ہیں؟۔۔ہم پیار سے بات کرتے ہیں اور اسی پیار سے ہی بار بار رقم واپسی کاتقاضا کرتے ہیں،،کوئی رقم واپس کرنے میں کتنا ہی تنگ کرے ہم نے کبھی کارروائی کا سوچا بھی نہیں۔

میں عام طورپرکسی ادارے،کسی شخصیت کے بارے میں یوں تعریف نہیں کرتامگرجہاں کوئی شخصیت اور کوئی ادارہ فلاح انسانیت،خدمت خلق اور بھائی چارے کو عملی صورت میں دکھارہاہے اور ایسی مثال قائم کر رہا ہے جس سے لوگوں کا بھلا ہورہاہے تو پھرتعریف ان کا حق ہے،اخوت کیساتھ ہمارا جس حدتک ممکن ہو تعاون ہونا چاہیے۔ہربندہ اپنی بساط کے مطابق اپنا اپنا کردار اداکرے تو ہرانسان اپنے اپنے علاقے کے لیے اخوت جیسا کام کرسکتاہے۔معاشرے کو ٹھیک کرناہے،دکھی انسانی کی مدد کرنی ہے تو پھر یہ کام ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات سے شروع کرنے کی ضرورت ہے،ہرشخص لوگوں کی بھلائی کا عزم مصمم کرلے تو پھر ہر علاقے میں اخوت اور ہرگلی میں ایک ڈاکٹرامجدثاقب پیدا ہوسکتاہے۔

بلاگر مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں، آج کل لاہور کے ایک ٹی وی چینل پر کام کررہے ہیں۔ عوامی مسائل اجاگر کرنے کےلیے مختلف ویب سائٹس پر بلاگ لکھتے ہیں۔ ان سے فیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے ، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید :

بلاگ -