تضاد

تضاد
تضاد
کیپشن: waseem tarrar

  

اس کے چہرے پر ایک عجیب متانت تھی، لہجے میں درشتی چھلک رہی تھی اور باتوں میں مایوسی اورانگیخت کا ملاجلا تاثر تھا.. اس نے ایک جھرجھری لی اور اپنی دردناک کہانی بیان کرنے لگا۔اس کا رواں رواں بیدار ہو گیا اور آنکھیں بھر آئیں۔اس نے بتایا کہ چند ماہ پہلے شوگر مافیا نے بھاری مقدار میں چینی ذخیرہ کر لی..ملک میں چینی کی قلت پیدا ہو گئی اور اس مصنوعی بحران کے باعث اس کی قیمتیں دوگنا ہوگئیں.. ایک روز وہ اپنی معمولی سی دکان پر بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اچانک ایک لمباچوڑا شخص وارد ہوا.. وہ ایک پاؤ چینی کا خریدار تھا، اس شخص کے جانے کے چند لمحوں بعدایک پولیس موبائل آکر رکی، اسے گراں فروشی کے جرم میں دگرفتار کر لیا گیا، چند روزبعد اسے سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔ اب صعوبتوں کا دور شروع ہوا۔گھر خبر پہنچی تو کہرام مچ گیا۔متعلقین کسی بڑے آدمی تک دسترس نہیں رکھتے تھے۔ اس کی رہائی کے لئے اہل خانہ نے بہت ہاتھ پاؤں مارے ،مگر کچھ فائدہ نہ ہوا، جیل میں اس کے ساتھ انتہائی نامناسب سلوک روا رکھا گیا، اسے نامعیاری کھانا دیاجاتا اور ذہنی ٹارچڑ کیاجاتا، وہ کئی د ن تک نہ سوپایا، پورے گھر میں سراسمیگی پھیلی ہوئی تھی۔ دن گزر تے گئے،آخرجب بحران کی شدت ٹوٹ گئی تو اسے چھوڑ دیا گیا۔. اس نے بات مکمل کی اور ایک لمحے کے توقف کے بعد پھر گویا ہوا: ’’ میرا قصور کیا تھا‘‘؟

یہ کہانی صرف محمد شکیل کی ہی نہیں ،بلکہ پاکستان میں ایسے کئی شکیل روزانہ اٹھالئے جاتے ہیں، ان کے بارے حکومت کے پاس کوئی جوازنہیں ہوتا، ملک میں جب بھی ایسے بحران سامنے آتے ہیں تو حکومت اپنی ناقص کارکردگی کی پردہ پوشی اور محض خانہ پری کی خاطر گراں فروشی کے خلاف آپریشن کا اعلان کر دیتی ہے.. ایسے میں غریب اور متوسط طبقے کے دکان داروں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے ، انہیں جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے اور بسا اوقات تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے افراد کے لئے آواز بلند کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، دریں اثنا حکومت کی جانب سے ان لوگوں کو بحران کی جڑ ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں،پھر جب میڈیا میں معاملہ سردپڑ جائے تو انہیں چھوڑدیا جاتا ہے،جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں،جو درحقیقت ایسے بحرانوں کی جڑ ہوتے ہے ،شہر کے سب سے بڑے پارسا اور معززین گردانے جاتے ہیں۔ایسے افراد پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت کوئی نہیں کرتا..یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہرروز بڑے بڑے سرمایا دار قانون کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔

چونکہ یہ مافیاز بالواسطہ یا بلاواسطہ اعلیٰ سیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔حکومت بھی ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی بجائے ان کی دست گیری کرتی ہے،چنانچہ معاشرے میں پنپنے والے اس تضاد سے محمد شکیل جیسا عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔ آپ پاکستان کی شوگرانڈسٹری کو ہی لے لیں..پاکستان میں کل78 بڑی شوگر ملیں ہیں، جن میں،آدھی سے زائد سیاست دانوں کی ملکیت ہیں، باقی ماندہ ملوں کے مالک وہ افراد ہیں جو کسی نہ کسی طرح سیاست دانوں کے رفیق ہیں.. یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً ہر سال بااثر مافیاز بڑی عیاری سے اشیائے خورونوش کے مصنوعی بحران پیدا کر کے راتوں رات مالا مال ہو جاتے ہیں، دوسری جانب غریبوں کے لئے دو وقت کی روٹی بھی سب سے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ آج عوام کے ذہن میںیہ سوال مچل رہا ہے کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون سب کے لئے برابر ہے؟کیا پاکستان وہ اسلامی جمہوریہ نہیں،جہاں اگرکوئی سائیکل سوار بھی اشارہ توڑ دے تو جرمانے کی صورت میں اس کے ماتھے پر قانون شکن کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ،لیکن جب کوئی فوجی آمرپورے آئین کو ردی کا ٹکڑا سمجھ کر پھاڑ دے تو اسے سرکاری ہسپتالوں میں مہمان بنا کر رکھا جاتا ہے۔

مزید :

کالم -