(ن)لیگ پیپلز پارٹی کی محاز آرائی تحریک انصاف کو باہر رکھنے کی پالیسی تونہیں؟

(ن)لیگ پیپلز پارٹی کی محاز آرائی تحریک انصاف کو باہر رکھنے کی پالیسی تونہیں؟

  

پنجاب میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں بڑھتی ہوئی سیاسی محاز آرائی کہیں اس پالیسی کا حصہ تو نہیں ہے؟ جس کے تحت پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اتفاق کرچکی ہیں کہ تمام تر اختلافات اور تحفظات کے باوجود ایسی پالیسی بنائی جائے گی جس پر عمل کرکے تحریک انصاف کو سیاسی ماحول سے باہر رکھنا ہوگا، حالیہ دنوں میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو کی مسلم لیگ ن کے خلاف جملے بازی اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی جوابی سیاسی فقرے بازی دونوں جماعتوں کے اس انداز نے تو اس پالیسی اور حکمت عملی پر مہر لگا دی ہے کہ دونوں حکمران جماعتوں مرکز کی حکمران پیپلزپارٹی اور پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن میں پنجاب کے اندر بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کا صرف ایک ہی مقصد اور مطلب ہے کہ سیاسی ماحول کو کچھ اس اندازمیں گرمایاجائے کہ عوام میں صرف ایک تاثر ابھرے کہ آئندہ انتخابات کا سیاسی دنگل صرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ میں ہی ہوگا تحریک انصاف یا کسی اور جماعت کی حیثیت علاقائی جماعت سے زیادہ نہیں ہے دونوں حکمرانوں کے اس انداز سے لگتا ہے کہ آئندہ انتخابات کا ”ماحول“ بنانے کے لئے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے باقاعدہ آغاز کردیا ہے جس کے تحت دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے سیاسی نشانے بازی تیز کریں گی جس کا مقصد آئندہ انتخابات سے قبل عوام میں یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ انتخابی دنگل صرف اور صرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں ہوگا۔ تحریک انصاف یا کسی تیسری جماعت کی اس دنگل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے لئے پنجاب کو ”چنا“ گیا ہے جہاں میاں منظور وٹو کو مسلم لیگ ن کو آڑھے ہاتھوں لینے کا ٹاسک دیاگیاتھا جس پر انہوں نے باقاعدہ عمل کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو نشانہ پر رکھ لیا ہے جس کے جواب کے لئے مسلم لیگ ن نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان کو منظور احمد وٹو کی فقرے بازی کا جواب دینے کے لئے فری ہینڈ کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دی گئی ہیں جبکہ گورنر کی فقرے بازی کا جواب دینے کے لئے زعیم قادری کا چنا گیا ہے ۔ دونوں کے معاون صوبائی وزیر چودھری عبدالغفور ہونگے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں منظور وٹو نے ایک طرف مسلم لیگ ن کے خلاف محاذ آرائی اور فقرے بازی شروع کرکے پیپلزپارٹی کے سابق گورنر سلیمان تاثیر کا خلاءپورا کردیا ہے تو دوسری طرف پیپلزپارٹی کے لئے پنجاب کے اندرسیاسی ”ماحول“ کا سماں باندھ دیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ دنوں میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو مزید نشانے پر رکھے گی جس کا مقصد تحریک انصاف کی عوام میں بڑھتی ہوئی پذیرائی کو عوام کے ذہنوں سے زائل کرکے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ آئندہ انتخابات صرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں ہوگا باقی کسی کی کوئی جگہ نہیں ہے اس حکمت عملی پر باقاعدہ عملدرآمد شروع ہوگیا ہے اور اس کے تحت باقاعدہ طور پر پنجاب میں میاں منظور وٹو اور رانا ثناءاللہ میں فقرے بازی شروع ہوگئی ہے۔ شاید دونوں جماعتوں کی اس حکمت عملی کو تحریک انصاف کے بڑوں نے بھانپتے ہوئے عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے ۔ کنونشن منعقد کرنے شروع کردیئے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -