خود سوزی کا سانحہ اور وزیراعظم کا ”فوری نوٹس“

خود سوزی کا سانحہ اور وزیراعظم کا ”فوری نوٹس“
خود سوزی کا سانحہ اور وزیراعظم کا ”فوری نوٹس“

  

کسی سانحہ کے وقوع پذیر ہونے پر نوٹس لینے کے حوالے سے عمران خان حکومت نے ماشاء اللہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ جب سے دو صوبوں اور مرکز میں پی ٹی آئی کو اقتدار دلایا گیا ہے، تب سے یہ حکومتیں نوٹس پر نوٹس لیتی چلی آ رہی ہیں۔کوئی وزیراعلیٰ ہو یا وزیراعظم،کسی المیے پر اتنی جلدی نوٹس لیتے ہیں کہ یوں گمان ہوتا ہے جیسے نوٹس پہل ہی سے تیار تھا، بس واقعہ کا انتظار تھا۔ ایسی حکومتوں کے سیکرٹریوں کی فوج ظفر موج اپنا فرض سمجھتی ہے کہ اِدھر کوئی واقعہ ہوا اور اُدھر انہوں نے فوراً نوٹس تیار کر دیا۔جو خبر جاری کی جاتی ہے اس میں ”فوری نوٹس لے لیا“ کے الفاظ بڑے اہتمام سے شامل کئے جاتے ہیں۔مقصد عوام کو مرعوب و متاثر کرنا ہوتا ہے،لیکن عوام روز کا معمول سمجھ کر ایسی خبروں کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیتے۔

پاکستانی حکومتیں عام طور پر یہی سمجھتی ہیں کہ عوام بھلکڑ ہوتے ہیں۔انہیں کہاں یاد رہ گیا ہو گا کہ تھوڑے دن پہلے جو آٹے چینی کی غیبت پر وزیراعظم نے فوری نوٹس لیا تھا اور جب تک رپورٹ تیار ہو کر ان کی میز پر نہ پہنچ گئی، وہ آٹا غائب کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنانے کا اعلان بھی تسلسل سے دہراتے رہے،لیکن بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق، اِدھر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے وعدے ابھی ہو ہی رہے تھے کہ اچانک کورونا وائرس کی مصیبت شروع ہو گئی اور وہ وعدے طاقِ نسیان کی زینت بن گئے۔ آٹے چینی والی رپورٹ کا کسی نے نہیں پوچھا۔ پوچھنا کس نے تھا، پہلے کبھی کسی نے پوچھا ہو تو اب بھی پوچھتا۔ہمارے وطن ِ عزیز کے ذخیرہ اندوزوں اور رشوت خور افسروں کا قسمت خوب ساتھ دیتی ہے۔اِدھر احتساب کا ہاتھ ان کی طرف بڑھنے لگتا ہے،اُدھر کوئی نیا بحران سر اٹھا لیتا ہے۔

معافی چاہتا ہوں تمہید ذرا دراز ہو گئی، مقصد تو ایک نئے سانحہ پر لئے گئے ایک ”فوری نوٹس“ پر اظہارِ خیال کرنا تھا۔واقعہ یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے عین سامنے ایک شہری نے خود کو نذرِ آتش کر لیا۔اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ انتقال کر گیا۔خبر میں سانحہ کی جو تھوڑی بہت تفصیل دی گئی ہے اس کے مطابق شہری کے پاس سے وزیراعظم ہاؤس کو لکھا گیا خط بھی ملا، جس میں کہا گیا ہے کہ میرا اتنا قصور ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور لوگوں سے مانگا بھی۔خط میں حکومتی پارٹی کے عہدیدار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مَیں پیرودھائی تھانہ گیا،لیکن کارروائی نہیں کی گئی۔ میرے اوپر20لیٹر شراب کا جھوٹا پرچہ بھی کرایا گیا، مَیں نے حکمران جماعت کے ایک عہدیدار کے خلاف وزیراعظم سیکرٹریٹ میں درخواست دی تھی۔خط کے مطابق درخواست سی پی او راولپنڈی کو مارک کی گئی تھی۔

وزیراعظم نے معمول کے مطابق اس واقعہ کا بھی فوری نوٹس لے لیا اور چیف کمشنر کو فوری جوڈیشل انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اندر انکوائری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کے پابند ہیں۔معلوم نہیں اس رپورٹ کا بھی کیا بنے گا، کیونکہ پی ٹی آئی حکومت کے ڈیڑھ سالہ دور میں وزیراعظم آفس ایسی بے شمار رپورٹوں سے لبا لب بھر چکا ہو گا۔ممکن ہے سیکرٹریوں کی فوج ظفر موج پہلے وزیراعظم کو یہ رپورٹ کرے کہ آپ کے دفتر میں ایسی رپورٹوں کو رکھنے کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں رہ گئی۔اس کے لئے نئی عمارت کی تعمیر کے لئے ٹینڈر کال کئے جائیں۔اس کا فوری فائدہ یہ ہو گا کہ ٹینڈر دینے والوں کو نئی مصروفیت مل جائے گی، دوسرے ان لوگوں کی زبان بھی بند ہو جائے گی جو روزانہ سرکاری اشتہار نہ ملنے پر چیں بجبیں رہتے ہیں۔ تیسرا اور بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اپوزیشن لیڈر ”نئی عمارت“ پر کچھ بیان داغنے میں لگ جائیں گے اور خود سوزی والا واقعہ اس شور شرابے میں غائب غُلّہ ہو جائے گا۔!

مزید :

رائے -کالم -