نگران وزیر اعظم پاکستان کون ہوگا؟

نگران وزیر اعظم پاکستان کون ہوگا؟
نگران وزیر اعظم پاکستان کون ہوگا؟

  

پاکستان میںبروقت قومی انتخابات ہوں گے۔ عار ضی وقت کے لئے نگران حکمران آئیں گے۔اور وہی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں گے۔ میری سوچ کے مطابق سر زمین بلوچستان سے کسی شخصیت کو نگران وزیر اعظم پاکستان سے اتفاق رائے سے نامزد کیا جائے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ہماری نا قابل معافی غفلت کی بنا پر آج تک بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ بھرپور انصاف نہیں کیا گیا۔ وقت آ گیا ہے کہ حق حکمرانی بلوچستان کے لوگوں کے حوالے کیا جائے۔ میری یہ زبردست خواہش ہے کہ انتخابات کے بعد بھی وزارت عظمیٰ کا قلمدان مستقل طور پر کسی بلوچ شخصیت کے حوالے کیا جائے، اس طرح سامنے آنے والے حکمران سب سے پہلے بلوچستان کے لوگوں کے مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کریں گے۔ بلوچستان کی پسماندگی کو جلد از جلد ختم کرتے ہوئے پاکستان کے دیگر علاقوں کے برابر ترقی یافتہ بنائیں گے۔اب ماضی کی تمام غلطیوں کودہرانے کا وقت نہیں ہے۔ وقت تبدیل ہو چکا ہے، ہمارے دشمن تیزی سے سرزمین پاکستان میں داخل ہو کر ہمارے اندر غلط فہمیاں پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان تمام قسم کی غلط فہمیوں کو بلوچستان سے آنے والے حکمران ہی دور کریں گے۔

میرے نزدیک ہمارے تمام مسائل کا حل اس طرح ہی ممکن ہوگا کہ ہم پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں کے لوگوں کو اقتدار میں شامل کریں۔یہ ایک سنہری موقع ہے اور اس موقع کو ہمیں کسی صورت بھی ضائع نہیںکرناچاہیے۔ ہمارے پنجاب اور سندھ سے آنے والے حکمران فراخدلی کا مظاہرہ کریں اور اس طرح پاکستان کے تمام غیر ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانا ہوگا۔ مَیں تو بلوچستان اور خیبرپختون خواکے لوگوں کو پاکستان کے ”دل“ کی حیثیت سے دیکھتا ہوں۔ ہمیں اپنے ”دل“ کی دیکھ بھال پوری طرح کرنا ہو گی ۔دل چلے گا تو سارا جسم بھی حرکت کرے گا۔ہمارا دل کبھی بھی کمزور نہ ہونے پائے۔ دل کی طرف جانے والی تمام نالیوں کو کھلا اور صاف ستھرا رکھا جائے تاکہ خون کی حرکت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آ سکے۔ اگر خون جسم کے تمام حصوں کو نہ مل پائے تو جسم کے ایسے حصے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ جسم بالکل بری طرح ”اپاہج“ ہو جاتاہے۔ ایسے جسم پر دوائی بھی اثر اندازنہیںہوتی ۔

 مَیں نے بلوچستان میں کچھ عرصہ گزارہ ہے۔ میری وہاں ہر قسم کے لوگوں سے ملاقات ہوتی رہی ہے۔ ان کی ”حب الوطنی“ بلا شبہ قابل رشک ہے۔ وادی زیارت کے ایک خالص بلوچ شہری سے ایک بار ملاقات ہوئی۔ اس شہری کے خیالات سے مَیں بہت ہی خوش ہوا۔ اس بلوچ شہری کے مطابق سر زمین پنجاب سے اس کو سستا آٹا ملتا ہے۔ جس سے وہ اپنی اوراپنے بچوںکی بھوک کو ختم کرتا ہے۔ بلوچستان کے لوگ انتہا درجے کے مہمان نوازہیں۔ وہ لوگ خود بھوک برداشت کر لیں گے مگر وہ مہمانوں کی خدمت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیںآنے دیں گے۔ مجھے تو بلوچستان کا بچہ بچہ عظیم پاکستانی نظر آتا ہے۔ بلا شبہ وہ ہم سے زیادہ اچھے اور بہتر پاکستانی ہیں۔ میری تجویز ہے کہ پنجاب کے حکمران زیادہ سے زیادہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو پنجاب کی درسگاہوں میں داخلہ دلوائیں اور ان کے تمام قسم کے اخراجات کو حکومت خود برداشت کرے۔ ایسا کرنے سے پاکستان کے لوگوں کے درمیان خیر سگالی کے جذبات پیدا ہوں گے۔ پنجاب کے حکمران میری اس تجویز پر غور کریں ۔ اگر وہ اس کو قابل عمل خیال کرےں تو اس پر بلا تاخیر عمل کریں۔

اگر سابق حج صاحبان کے حوالے عبوری حکومت کو کرنا مقصود ہو تو ایسا کرتے ہوئے جج صاحبان کی ثابت شدہ سنیارٹی کو ہر حالت میں سامنے رکھنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا الجہاد کیس کا فیصلہ سامنے رکھنا پڑے گا۔ تمام سابق حج صاحبان انتہائی قابل احترام ہیں۔چیف جسٹس سمیت سب جج صاحبان برابر ہوتے ہیں۔ ان کے عدلیہ کے متعلق اختیارات بھی بالکل برابر ہوتے ہیں۔ فیصلہ کرتے وقت جو نیئر جج سینئر جج سے اختلاف کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں وہ اپنا الگ فیصلہ لکھے گا۔ سیاسی لیڈر اور موجودہ حکمران عبوری حکومت سازی کے وقت اپنی پسند اور نا پسند کو ایک طرف رکھیں۔ بہترہوگا عبوری حکومت سازی میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ بلا شبہ ہماری عدلیہ ہر لحاظ سے غیر جانبدار ہے۔ اس کی رائے سے کسی جماعت یا لیڈر کو اختلاف نہیں ہوگا۔

یہ خوشی کی بات ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ سابق جج مسٹر جسٹس فخر الدین جی ابراہیم مکمل طور پر غیر جانبدار ہیں۔ وہ صاف اور شفاف انتخابات کرانے کے لئے کوئی بھی کسر نہ چھوڑیں گے۔ امن و امان کو قائم رکھنا موجودہ انتظامیہ کا کام ہوتا ہے۔کراچی، کوئٹہ اور پشاو ر وغیرہ میں وسیع پیمانے پر قانون شکنی ہوتی رہتی ہے۔ دنیا بھرکے بڑے بڑے شہروں میں امن و امان قائم رہتا ہے۔ بدقسمتی سے کراچی، کوئٹہ اور پشاور ہی ایسے شہر ہیں جہاں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوتا ہے۔ اس کام میں بیرونی عناصر بھی ملوث نظر آتے ہیں۔ جدید قسم کا اسلحہ اور گولہ بارود کہاں سے آتا ہے؟ ان کاموں کے لئے مالی وسائل کون مہیا کرتا ہے؟ ہمارے دشمن کھل کر یہ کام کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنی افواج پر پورا پورا اعتماد اور بھروسہ ہے۔   ٭

مزید :

کالم -