جھوٹا گواہ عوامی نمائندگی کا نااہل ، موت کی سزا بھی پاسکتا ہے

جھوٹا گواہ عوامی نمائندگی کا نااہل ، موت کی سزا بھی پاسکتا ہے
جھوٹا گواہ عوامی نمائندگی کا نااہل ، موت کی سزا بھی پاسکتا ہے

  

تجزیہ :سعید چودھری

چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے جھوٹی گواہی کے خاتمہ کے لئے صفرعدم برداشت کی پالیسی کا آغازکردیاہے ،4مارچ کو انہوں نے جھوٹے گواہ کے خلاف کارروائی کے مقدمہ کی سماعت کے دوران قراردیا کہ آج سے سچ کا سفر شروع ہوگیاہے اور جھوٹی گواہی دینے والوں کو سزاملے گی۔اس حوالے سے چیف جسٹس نے جو ریمارکس دیئے ہیں وہ "تزکیۃ الشہود"کے اسلامی اصول کی نمائندگی کرتے نظر آرہے ہیں،اسلام میں گواہ کے لئے عام زندگی میں بھی سچاہونے کا اصول مقررہے ۔ جھوٹے گواہوں کے قلع قمع کے لئے 1860ء سے قانون نافذہے ،جھوٹے گواہوں کے لئے تعزیرات پاکستان مجریہ 1860ء میں مختلف سزائیں مقررہیں تاہم پاکستانی عدالتیں ان قوانین سے صرف نظر کرتی آئی ہیں،اب چیف جسٹس پاکستان نے ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی خوشخبری سنائی ہے ، عدالتوں میں یہ پریکٹس رہی ہے کہ جج گواہوں کے بیانات میں سے چھلنی لے کر سچ اور جھوٹ کو الگ کرتے ہیں اور پھر جوسچ سمجھتے ہیں اس کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے اس بابت "تزکیۃ الشہود"کے اصول کابظاہر ذکر نہیں کیاتاہم عملی طور پر کسی گواہ کی شہادت میں جھوٹ ثابت ہونے پر اس کی پوری شہادت کومستردکرنے کا اصول اسلامی فقہ کا لازمی جزو ہے ۔یہ ایک طے شدہ قانون ہے کہ جسے عدالت جھوٹا قراردے دے اس کی گواہی آئندہ کسی بھی کیس میں قبول نہیں کی جاسکتی۔قانون کے تحت ایسا جھوٹا آدمی گواہی کے لئے نااہل ہوجاتاہے ۔بات آئین کے تناظر میں کی جائے تو آرٹیکل 62(1) ایف کے تحت عدالت کی طرف سے جھوٹاقراردیا گیا گواہ زندگی بھر کے لئے پارلیمنٹ کی رکنیت اور عوامی عہدہ کے لئے نااہل بھی ہوجائے گا۔ تعزیرات ہند،جسے قیام پاکستان کے بعد تعزیرات پاکستان کا نام دے کر نافذکیا گیا ،میں جھوٹے گواہوں کے حوالے سے مختلف سزائیں مقررہیں،تعزیرات پاکستان کے تحت جھوٹے گواہ کوعمر قید توکیا سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے ،تعزیرات پاکستان کی دفعہ 193کے مطابق اگرکوئی شخص جوڈیشل پروسیڈنگ کے دوران کسی بھی مرحلہ پرجان بوجھ کر جھوٹی گواہی دیتاہے تواسے 7سال تک قید بامشقت اورجرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے ،قانون میں وضاحت کردی گئی ہے کہ کسی مقدمہ کی انوسٹی گیشن بھی جوڈیشل پروسیڈنگ کا حصہ ہوگی اگرچہ ٹرائل میں انوسٹی گیشن کو شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔پولیس تفتیش کے دوران جو شخص جھوٹی گواہی دے کا ، دفعہ193ت پ کے تحت وہ بھی 7سال قید کا سزاوارہوگا۔اسی دفعہ کے تحت اگر جوڈیشل پروسیڈنگ کے سوا کوئی شخص جھوٹی گواہی دیتا ہے تواسے 3سال قید اورجرمانہ کی سزاہوگی۔تعزیرات پاکستان کی دفعہ194کے مطابق اگر کوئی شخص ایسے مقدمہ میں جھوٹی گواہی دیتا ہے جس میں مجرم کے لئے موت کی سزا مقررہے تو جھوٹے گواہ کو عمر قید یا10سال قیداورجرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے ،اسی دفعہ میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر جھوٹی گواہی پر کسی بے گناہ کو سزائے موت کا حکم سنایاجائے اور پھر عدالتی حکم پر عمل درآمد بھی ہوجائے تو جھوٹے گواہ کو موت کی سزا دی جائے گی۔اس دفعہ کے تحت یہ بھی کہا گیاہے کہ جھوٹی گواہی پر اگرکوئی بے گناہ قید کی سزاپاتاہے اور وہ یہ سزا بھگت بھی لیتاہے تو جھوٹے گواہ کو قید کی اتنی سزادی جائے گی جتنی اس کی گواہی کے باعث ایک بے گناہ شخص نے کاٹی ہوگی۔تعزیرات پاکستان کی دفعہ195کے مطابق اگرکوئی شخص ایسے مقدمہ میں جھوٹی گواہی دیتاہے جس میں ملزم کے لئے عمر قید یا 7سال قید سے زیادہ سزامقررہے تو جھوٹے گواہ کو اتنی ہی سزا دی جائے گی جتنی اس کی گواہی کے باعث ایک بے گناہ شخص کو دی گئی تھی۔چیف جسٹس کے وژن کے مطابق اگر ماتحت عدالتوں اوراپیلٹ کورٹس نے قانون کے مطابق جھوٹے گواہوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کردیا تو آئندہ چند سالوں میں جھوٹے گواہوں سے جان چھوٹ جائے گی ،جس سے عدالتوں کے لئے سچائی تک پہنچنااور فیصلے کرنا بھی آسان ہوجائے گا۔جھوٹے گواہوں سے متعلق جوقوانین اس وقت نافذالعمل ہیں ان کی بابت آگاہی مہم چلانا بھی ضروری ہے ،عام تاثر ہے کہ جھوٹی گواہی کوئی جرم نہیں ہے ،بس اسے مسترد کردیا جاتاہے،اگر اس بابت لوگوں کو آگاہ کیا جائے تو معاشرتی رویئے میں واضح تبدیلی پیداہوگی اور لوگ جھوٹی گواہی سے اجتناب کریں گے ،کیوں کہ انہیں پتہ ہوگاکہ ایساکرنے سے وہ خود بھی جیل جاسکتے ہیں۔

تجزیہ :سعید چودھری

مزید : تجزیہ