”سچ تو یہ ہے“ (2)

”سچ تو یہ ہے“ (2)
”سچ تو یہ ہے“ (2)

  

قائد اعظمؒ نے الفاظ کے فرق کے ساتھ اس مفہوم کو بار بار اپنی تقاریر میں پیش کیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی اور جمہوری ریاست ہوگا۔ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی مختلف تحریروں میں یہ ثابت کیا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل 101 بار اور قیام پاکستان کے بعد 14 بار قائد اعظمؒ نے بڑے واضح الفاظ اور غیر مبہم انداز میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ پاکستان کا آئین، نظام حکمرانی، قانون اور انتظامی ڈھانچے وغیرہ کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ جو حکومت اسلامی اصولوں کے مطابق ہو گی اور جس اسلام کو قائد اعظمؒ نے بار بار مکمل ضابطہئ حیات کہا ہو جو ذاتی، اجتماعی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی پر بھی محیط ہو، اس کا سیکولر ازم سے کیا واسطہ؟ ڈاکٹر صفدر محمود اپنے مضامین اور کتابوں میں قائد اعظمؒ کی 25 جنوری 1948ء کی تقریر کا حوالہ بھی اکثر دیتے ہیں، جس تقریر میں قائد اعظمؒ نے ایسے افراد کو شرارتی عناصر قرار دیا تھا جو یہ کہتے تھے کہ دستور پاکستان کی بنیاد اسلامی شریعت پر نہیں ہو گی۔ جب پاکستان کا دستور اسلامی حدود و قیود کے اندر رہ کر تشکیل دیا جائے گا تو پھر سیکولر ازم بیچ میں کہاں آئے گا؟ قائد اعظمؒ نے پاکستان کے دل لاہور میں 30 اکتوبر 1947ء کو جلسہئ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے اگر ضرورت پڑی تو ہم اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے۔ قائد اعظمؒ نے اپنی اسی تقریر میں کہا تھا کہ اگر ہم قرآن سے ہدایت اور رہنمائی لیتے رہے تو حتمی فتح ہماری ہو گی۔ قائداعظمؒ کے وژن، تصور اور نصب العین کو اگر سمجھنا ہو تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے قائد اعظمؒ کا خطاب انتہائی اہم ہے، جس میں قائد اعظمؒ نے کہا تھا کہ مغربی نظام معیشت کے مقابلے میں ہمیں دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی بنیاد انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچے اسلامی تصور پر استوار ہو۔

ڈاکٹر صفدر محمود نے قائد اعظمؒ کی تقاریر سے مستند حوالے دے کر سیکولر عناصر کی اس بیماری کا اچھی طرح سے علاج کر دیا ہے، جس عارضے میں مبتلا افراد بے بنیاد طور پر دعوے کرتے تھے کہ قائداعظمؒ پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر صفدر محمود کا سب سے بڑا اعزاز، افتخار، امتیاز اور شناخت یہ ہے کہ قائداعظم،ؒ علامہ اقبالؒ اور تحریک پاکستان کے حوالے سے جس نے بھی جھوٹ بولا، جس نے بھی غلط بیانی کی اور جس نے بھی تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی، ڈاکٹر صفدر محمود نے ناقابل تردید ثبوت کے ساتھ ان عناصر کا ایسا جواب دیا کہ کھرا اور کھوٹا الگ الگ کر دیا۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کا ہو گیا۔ اب وہ لوگ تقریباً اپنے بِلوں میں گھس گئے ہیں جو قائد اعظمؒ کا رشتہ اسلام کے بجائے سیکولر ازم سے جوڑتے تھے۔ 

قائداعظمؒ کی بطور گورنر جنرل تقریب حلف وفاداری کے حوالے سے بھی بہت غلط بیانیاں کی گئیں اور جھوٹ پر مبنی کہانیاں تخلیق کی گئیں۔ قائداعظمؒ کی اردو زبان کے حوالے سے ڈھاکہ میں جو تقریر تھی، اس کے حوالے سے بھی بہت جھوٹ گڑھے گئے۔ ریڈ کلف ایوارڈ سے متعلق مختلف مؤرخین کے جو جھوٹ ہیں،  اُن سب کا جواب بھی ڈاکٹر صفدر محمود نے تاریخ کے مستند حوالوں کے ساتھ دیا ہے۔ ریڈ کلف نے باؤنڈری کمیشن کے چیئرمین کے طور پر پاکستان سے جو نا انصافی کی اور اس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا جو کردار تھا، اسے بھی ڈاکٹر صفدر محمود نے پوری طرح بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود نے تاریخ کے اس سب سے بڑے جھوٹ کا بھی پول کھول  کر رکھ دیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد سے قائداعظمؒ نے پاکستان کے لئے پہلا ترانہ لکھوایا تھا۔ قائداعظمؒ جگن ناتھ آزاد کے نام سے بھی واقف نہیں تھے اور نہ ہی جگن ناتھ آزاد کی قائد اعظمؒ  سے کوئی ایک بھی ملاقات ثابت ہوئی ہے۔ قائد اعظمؒ کے آخری ایام کے حوالے سے جو سازشی افسانے اور جھوٹ گڑھے گئے، ان کا جواب بھی ڈاکٹر صاحب نے واقعات کے عینی گواہوں کی شہادت کی بنیاد پر بڑے مؤثر انداز میں دیا ہے۔

ڈاکٹر صفدر محمود کے اکثر و بیشتر مضامین اور کالم مَیں پہلے بھی پڑھ چکا ہوں، لیکن مَیں ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحب کا ممنون ہوں کہ اب انہوں نے ان کالموں کی مستقل اہمیت کے پیش نظر ان کو اپنی ایک کتاب ”سچ تو یہ ہے“ میں محفوظ کر دیا ہے۔ یہ ہماری قومی تاریخ کی وہ صداقتیں ہیں، جنہیں نوجوان نسل کی راہنمائی کے لئے کتابی شکل میں محفوظ کر کے ایک ناگزیر قومی فریضہ ادا کیا گیا ہے، جس پر مَیں ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں تہنیت اور تشکر کے جذبات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب ”سچ تو یہ ہے“ کے تقریباً ہر صفحہ پر حیات قائداعظمؒ کے منور گوشوں کا آپ مطالعہ کریں گے، لیکن کتاب کے صفحہ 151 پر ڈاکٹر صفدر محمود نے قائداعظمؒ سے اپنے عشق کا حق ادا کر دیا ہے۔ تھوڑی سی تبدیلی ئ الفاظ کے ساتھ مَیں یہاں ڈاکٹر صاحب کے خیالات پیش کر کے اپنا کالم ختم کرنا چاہتا ہوں۔

قائداعظمؒ وہ جنہوں نے زندگی بھر کبھی سیاسی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی وفاداریوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہوئے۔

قائد اعظمؒ وہ جنہوں نے خود بھی قوانین پر سختی سے عمل کیا اور قانون کی حکمرانی کے لئے مثالیں قائم کیں۔ 

قائد اعظمؒ وہ جنہوں نے قومی خزانے کو ایک روپے کا بھی نقصان نہ پہنچایا۔

قائد اعظمؒ  نے قومی خزانے سے بیرون ملک علاج سے اجتناب کیا۔

قائد اعظمؒ جن کے ملک کے باہر اثاثے تھے اور نہ بینک اکاؤنٹ۔ (قیام پاکستان سے پہلے کا تعمیر کیا گیا قائد اعظمؒ کا ملکیتی گھر ہندوستان میں ضرور موجود تھا)

اقربا پروری، دوست نوازی اور خوشامدیوں میں نے کسی کو قومی خزانے سے نوازنے کا ایک الزام بھی قائد اعظمؒ پر نہیں تھا۔

قائد اعظمؒ وہ جنہوں نے کبھی کسی کی سفارش نہ کی اور اپنے سرکاری منصب کو کبھی کسی کے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہ کیا۔

قائد اعظمؒ وہ جنہوں نے قومی خزانے سے اپنی ذات پر خرچ ہونے والی ایک ایک پائی کا حساب رکھا۔

قائد اعظمؒ وہ جنہوں نے موت سے قبل اپنی تمام جمع پونجی قوم کو دے دی اور اس کا بڑا حصہ تعلیمی اداروں کے لئے وقف کر دیا۔ (قائداعظمؒ زندہ باد)(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -