مسلمان بچے بھی انسان ہیں

مسلمان بچے بھی انسان ہیں

قندوز کے مدرسے پربم باری سے مرنے والے بھی انسانی بچے تھے۔انہیں بھی ماؤں نے جنا تھا۔وہ بھی تمہارے برگر کھانے والے بچوں کی طرح ہی ہنستے تھے تو ماں کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل جاتی تھی۔وہ بھی کسی باپ کی آنکھ کا تارا تھے۔ان کی بہنیں بھی ان کو شہزادوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔ان کے بھی نک نیم تھے۔ ٹیپو،پپو، مون اور باچہ۔۔۔جب وہ پیدا ہوئے تھے تو ان کے والدین نے بھی خوشیاں منائی تھیں۔ ان میں سے کئی تھے جو مرادوں اور منتوں سے مانگے ہوئے تھے۔پھر جب وہ پہلی بار اپنے قدموں پر کھڑے ہوئے ہوں گے تو والد نے سینے سے لگا کر کتنی دعائیں دی ہوں گی۔والد کو اپنے پاؤں پرکھڑا بیٹا دیکھ کر عجب طاقت کا احساس ہوا ہو گا۔ان کی توتلی زبانوں سے نکلنے والا پہلا لفظ آج بھی ان کی ماؤں کے کانوں میں گونج رہا ہو گا۔ پھر انہوں نے پڑھنا سیکھا ہوگا ، پہلا لفظ الف ادا ہوا ہوگا تو کیسے انہوں نے الف سے اللہ یاد کیا ہو گا۔ زمین سے آسمان تک اللہ اللہ کیا ذکر ہونے لگا ہوگا۔پہلا لفظ ہی ایمان کا اقرا ،توحید پر یقین، انہیں کیا پتہ تھا کہ شیطانوں کی دنیا میں وہ یہ جرم کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ کسی فلم کی طرح ماں باپ کے سامنے اس وقت بھی چل رہا ہو گا، لیکن وہ خود ان کی آنکھوں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہوگئے، کیونکہ ان کا قصور یہ تھا کہ ان کے نام محمد، احمد اسحاق ،عیسیٰ، داؤد یوسف جیسے تھے ان کے نام بھی ولیم، ہیری، رابرٹ، جوزف یا ڈیوڈ ہوتے تو تم کبھی ان پر حملہ نہ ہونے دیتے۔ان کا کوئی قصور ہوتا بھی تو کسی ریمنڈ ڈیوس کی طرح انہیں بچا کر لے جاتے۔

ظالمو اتنی جلدی بھی کیا تھی ابھی تو انہوں نے بمشکل زندگی کے آٹھ دس سال ہی دیکھے تھے۔ان معصوموں کو تو ابھی زندگی کا مفہوم بھی معلوم نہیں ہو گا۔جب انہوں نے قرآن پاک ناظرہ پڑھا ہوگا تو والدین کی خوشی کی کیا انتہا ہوگی یہ صرف مسلمان والدین ہی سمجھ سکتے ہیں ۔اور پھر دنیا کا سب سے حسین اور معطر دن جب قرآن حفظ کرلیا اور انہیں اسناد ملنی تھیں۔کسی بھی مسلمان والدین کے لئے دنیا کا سب سے اہم دن ہوتا ہے جب ان کی اولاد میں سے کوئی قرآن حفظ کرلے۔ایسی عظیم سعادت نصیب والوں کو ہی ملتی ہے۔ظالموں نے اکثر کے والدبھی ساتھ ہی شہید کر دئیے۔

آہ ، کاش درندوں کو پتہ ہوتا کہ وہ کتنا بڑ ا ظلم کر رہے ہیں ۔ایک تو معصوم پھولوں جیسے بچے اور ان بچوں کے سینے میں اللہ کا کلام۔۔۔زمین رو پڑی ہو گی ،آسمان سسکیاں لیتا رہا ہوگا دھرتی پر انسان کہنے والوں نے شیطان کا روپ دھار لیا۔بار بار ذہن میں یہ سوال ابھر تا ہے کہ ان کا قصور کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔؟

نائٹ کلبوں کے اندر شراب و شباب میں مست مرنے والوں کی یاد میں موم بتیاں جلانے والے خود ساختہ روشن خیالو! اس وحشت پر کیا کہتے ہو۔ان کا قصور کیا تھا۔دین اسلام کا مذاق اڑانے والوں اور نبی پاکﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لئے رو رو کر آنکھیں سوجھانے والے پتھر دل بے حس لوگو قندوز کے بچوں کی لاشیں تمہیں کیوں نہیں ستاتیں۔ان معصوموں کا خون کیوں تمہارے ضمیروں کو نہیں جگاتا ۔۔۔کیوں وہ انسان نہیں تھے، انہیں کسی ماں نے نہیں جنا تھا۔کسی کھائی میں گرے ہوئے کتے کو باہر نکال کر یو ٹیوب پر فلمیں اَپ لوڈ کر کے خود کو درد مند ثابت کرنے والو یہ کیسی بے حسی ہے۔ان بچوں کی جان بھی اسی طرح قیمتی تھی اور وہ بھی اپنے ماں باپ کے اسی طرح آنکھ کا تارا تھے جیسے تمہارے ہیری اور ریمنڈ ہیں۔ان کا بھی اس دنیا میں جینے کا وہی حق تھا جو واشنگٹن،لندن اور روم کے نائٹ کلبوں کی پیداوار گوری چمڑی والے سور خوروں کو حاصل ہے۔

ان سے تم لوگوں نے حق اس لئے چھین لیا کہ یہ مسلمان بچے ہیں۔ان کے حکمران تمہارے ڈالروں کے عوض تلوے چاٹنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسے خطے میں جنم لیا جہاں دنیا کے طاقتور ممالک پچھلے تیس سال سے وسائل کے حصول کے لئے ان کی نسلیں اجاڑ رہے ہیں۔ان کی بد قسمتی یہ ہے کہ خدا نے انہیں ایسی جگہ پیدا کیا جہاں شیطانی طاقتیں اپنے پورے کروفر کے ساتھ ظلم ڈھانے کے لئے آزاد ہیں۔وحشی بھیڑ یوں کے کھیل میں انہیں ایک کھلونے کی حیثیت حاصل تھی۔ان معصوموں کا یہ قصور تھا کہ ان کے والدین غریب اور بے بس لوگ تھے تمہارے بچوں کی طرح لاولد نہیں تھے۔ان کی مائیں نائٹ کلبوں میں نہیں جاتی تھیں بلکہ برقعہ اوڑھتی تھیں۔فحاشی عریانی کو بے ہودگی سمجھتی تھیں۔ اس لئے ان کی ماؤں کے دُکھ کا کسی کو احساس نہیں۔ ان بچوں کو ان کی ماؤں کو ظالموں نے کس جرم کی سزا دی ہے؟

ان بچوں کا کم از کم قصور توبتا دو، چلو وہ اصول ہی بتا دو جس کے تحت بے گناہوں کا خون بہایا جا سکتا تھا۔کسی اقوام متحدہ کے چارٹر ، کسی عدالت کے فیصلے ، کس کے تحت یہ درندگی کر گزرے۔۔۔ان بچوں کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے قرآن پاک کیوں اپنے سینوں میں محفوظ کیا ہے ۔ انہیں کسی میڈونا کا گانا، کسی ماریہ کرے کا سانگ کوئی واکا واکا دہراتے ہونا چاہئے تھا۔یہ تو اللہ کا کلام دہرا رہے تھے۔ انہوں نے نماز سیکھی جو تمہارے نزدیک ناقابل معافی جرم تھا انہیں کسی مائیکل جیکسن کا ڈانس سیکھنا چاہئے تھا۔انہیں دھت ہو کر جھومنا چاہئے تھا یہ عقل و خرد سے نابلد کیوں نہیں ہوئے تھے۔

تمہارے پاس اس کا کیا کوئی جواب نہیں سوائے اس کے کہ تم کروسیڈ ڈاکٹرائن کے تحت مسلمانوں کا خون بہا رہے ہو۔ تم مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہو۔مسلمانوں کی جان کی تمہارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔مسلمانوں کے معصوم بچوں کو کیڑوں مکوڑوں سے بدتر مخلوق تصور کرتے ہو۔ تمہارے اندر کا انسان مر چکا۔تم لوگ انسان کے روپ میں شیطان ہو اور اپنی وحشیانہ گندی اور بدبودار سوچ سے کہیں کوئی گروپ بنا لیتے ہو اور کہیں کسی نام سے اور انہیں ڈالروں کے عوض لڑا کر مسلمانوں کو تباہ و برباد کر رہے ہو۔داعش، طالبان وغیرہ۔۔۔سب کے پیچھے تمہاری ڈاکٹرائن۔۔۔ان کے پاس ڈالر تمہارے ، اسلحہ تمہارا اور ایجنڈا تمہارا۔۔۔تمہارا مقصد صرف ایک ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑاؤ اور ان کے وسائل سے فائدہ اٹھاؤ۔تم ایران اور سعودی عرب کو ہاتھ نہیں ملانے دیتے،لیکن اسرائیل سے درپردہ رابطے کرا کر تعلقات اچھے کرا دیتے ہو تاکہ اسلحہ کا کاروبار چلتا رہے۔اپنی دیوار برلن گرا دیتے ہو، جبکہ مسلمانوں کے درمیان نئی نئی سرحدیں بنانے کی منصوبہ بندی میں جتے ہوئے ہو۔ اپنے کوریا جیسے ملکوں سے جھگڑے ختم کر کے ہاتھ ملا رہے ہو لیکن ہمارے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر ایک دوسرے کو مارنے کے لئے اکسا رہے ہو۔

تمہارا مقصد صرف ایک ہے کہ ایک اللہ، ایک نبیﷺ،ایک کلمہ اور ایک کتاب کے ماننے والوں کو کسی طرح ایک امہ کی صورت میں متحد نہیں ہونے دینا ،کیونکہ اگر یہ متحد ہو گئے تو پھر تمہاری چودھراہٹ کو زوال ہوجائے گا۔لیکن یاد رکھو وہ دن دور نہیں جب اُمہ متحد ہوگی اور تمہارا زوال ہو کر رہے گا۔۔۔ان شاء اللہ۔

مزید : رائے /کالم