تحریکوں کا موسم

تحریکوں کا موسم
 تحریکوں کا موسم

  



سب سے زیادہ غیر یقینی موسم اگست کے مہینے میں ہوتا ہے۔ کبھی دھوپ، کبھی چھاؤں، کبھی بادل، کبھی برسات،اچانک حبس اور پھر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، بارش کہیں کم تو کہیں زیادہ اور کسی جگہ نہ ہونے کے برابر۔ یہ ساون بھادوں کا موسم نصف جولائی سے نصف ستمبر تک رہتا ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ چند برسوں سے سیاسی بے یقینی میں اضافہ اس موسم میں ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے سیاست دان تحریک کا اعلان اسی موسم میں کرتے ہیں۔ اِس بار بھی عمران خان اور طاہر القادری نے بالاترتیب7اگست اور6اگست کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ محض حسن اتفاق ہے یا کوئی منصوبہ بندی، کہ دونوں سپہ سالار اپنے لشکروں کے ہمراہ حکومت پر حملہ آور ہونے کے لئے ایک ہی وقت میدان میں آ رہے ہیں۔2014ء میں بھی دونوں صاحبان ایک ہی وقت میں میدان میں آئے تھے۔ اُن کے لشکروں کا پڑاؤ بھی ساتھ ساتھ ہی تھا اور ان میں پیار محبت اِس قدر بڑھی کہ کیمروں کے سامنے یہ آپس میں کزن بن گئے تھے۔ تقریباً دو سال تک تو یہ دونوں کزن خبروں کی حد تک تو ایک دوسرے سے خفا خفا نظر آتے رہے ہیں، لیکن رشتہ داروں میں اَن بن تو معمول کی بات ہے اور رشتے دار تو آخر رشتے دار ہی رہتے ہیں۔ اب کی بار معلوم نہیں کہ یہ کزن آن دی ریکارڈ ایک دوسرے کے ساتھ گلے ملتے ہیں یا نہیں؟ دیکھئے آگے آگے ہوتا ہے کیا؟ 2014ء میں عمران خان نے جو مطالبات کئے تھے اور ڈاکٹر طاہر القادری نے جو مطالبات کئے تھے اور طاہر القادری نے جو نعرے بلند کئے تھے اُن کی گونج اب بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے کبھی کبھی سنائی دیتی ہے اور جو میڈیا کے پاس محفوظ تھے اس بار عمران خان پاناما لیکس پر انکوائری اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری پاناما لیکس پر احتساب پلس قصاص کے نعرے بلند کرتے ہوئے نمودار ہوئے ہیں۔

معلوم نہیں یہ ایجی ٹیشن ہو گی یا آگہی مہم، لیکن سڑکوں پر نکلنے کے اِس عمل کو ایجی ٹیشن ہی کہا جائے گا۔ اس ایجی ٹیشن کا انجام کیا ہو گا اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں، پہلے پاکستان کی تاریخ میں احتجاج کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔1953ء میں مذہبی جماعتوں نے قادیانیوں کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ اِس تحریک میں کافی لوگوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے اور پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں پہلی بار کچھ جگہوں پر مارشل لاء لگانا پڑا۔ اسے آپ چھوٹا مارشل لاء کہہ لیں، جو پھر 1958ء میں پورے مارشل لاء کی صورت میں نمودار ہوا۔ساٹھ کی دہائی کے آخر میں جناب ایوب خان کے خلاف ایجی ٹیشن شروع ہوا، جس میں طالب علموں، مزدوروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ اس احتجاج میں بھی بہت سے طالب علم مارے گئے۔ ایوب خان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اقتدار یحییٰ خان کے حوالے ہوا اور اِس کے بعد پاکستان کی تاریخ کا بدترین لمحہ پیش آیا اور 1971ء میں پاکستان دو لخت ہو گیا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ یہ بھی تاریخ ہے کہ ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پاکستان نے عظیم الشان معاشی کامیابیاں حاصل کیں اور پھر ساٹھ کی دہائی کے آخر اور ستر کی دہائی میں معاشی شرح نمو جمود کا شکار ہوئی۔ 1977ء میں مذہبی جماعتوں اور کچھ قوم پرست جماعتوں نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی یہ تو جماعتوں کا اتحاد تھا جسے اُس وقت نو ستارے بھی کہا گیا۔ یہ تحریک الیکشن میں دھاندلی کے نعرے سے شروع ہوئی تھی، لیکن اس میں جذباتیت پیدا کرنے کے لئے اس میں مذہبی عنصر داخل کر دیا گیا اور اسے نظام مصطفی کی تحریک کا نام دیا گیا، اس تحریک میں مذہبی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جمعتہ المبارک کا دن حکومت کے لئے بہت بھاری ہوتا ہے۔ مسجدوں میں خطیب جمعہ کے روز نمازیوں کو اپنے خطبات میں جوش دلاتے تھے اور نمازِ جمعہ کے بعد لوگ باہر نکل کر دیوانہ وار جانوں کے نذرانے پیش کرتے تھے۔ اس تحریک میں بہت سے بے گناہ لوگ مارے گئے، جن کا بعد میں کوئی بھی پُرسان حال نہیں تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیا الحق نے مُلک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ تقریباً 11سال تک حکومت کی۔ اِس دوران ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اِس دور کے ثمرات سے قوم آج تک مستفید ہو رہی ہے اور کلاشنکوف کے ذریعے قتل و غارت کا جو کھیل اُس دور میں شروع ہوا تھا ہنوز جاری ہے۔ 1983ء میں مُلک کے کچھ حصوں میں جنرل ضیا الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک شروع ہوئی۔ یہ تحریک صوبہ سندھ کے اُن علاقوں میں زیادہ کامیاب ہوئی جن میں بااثر وڈیرے اور زمیندار سیاسی کھیل کا حصہ تھے۔ صوبہ پنجاب کے عوام تقریباً اس تحریک سے لاتعلق رہے۔ اس کے بعد2014ء میں عمران خان اور طاہر القادری نے دھرنا تحریک شروع کی،جس کے نتائج عمران خان کے بقول عوامی شعور کی بیداری اور حکومت کے بقول ملکی ترقی میں رکاوٹ اور وقت کا ضیاع تھے۔

پاکستان میں ایجی ٹیشن کی سیاست اور تحریک کے نتیجے میں آج تک تو کبھی خیر کا پہلو نہیں نکلا۔ اللہ کرے اِس بار عمران خان اور طاہر القادری کی تحریکوں کے نتیجے میں کرپشن کا خاتمہ ہو جائے اور پاکستان فرشتوں کی سرزمین کہلانے کا مستحق ٹھہرے۔ یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ ان تحریکوں میں عوام کس قدر دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بظاہر لگتا تو ایسے ہے کہ خود تحریک چلانے والوں کو عوام سے کچھ زیادہ توقعات نہیں ہیں، ورنہ وہ تحریک کا اعلان ٹوٹوں میں نہ کرتے اور لگاتار تحریک چلاتے۔ ویسے بھی1977ء کے بعد سیاسی لیڈروں نے جس طرح عوام کے خون سے غداری کی اُس کے بعد عوام نے کبھی تحریک چلانے میں سیاست دانوں پر زیادہ اعتبار نہیں کیا۔ دیکھیں اِس بار کیا ہوتا ہے؟ تاریخ اپنے آپ کودہراتی ہے یا پھر نئی تاریخ رقم ہوتی ہے، جو بھی ہو پاکستان کے لئے بہتر ہو اور موسمی بے یقینی کی طرح سیاسی بے یقینی زیادہ دیر تک نہ رہے۔

مزید : کالم