کمشنر (ر) راجہ مقصود احمد خان (مرحوم )تاریخ ساز شخصیت

کمشنر (ر) راجہ مقصود احمد خان (مرحوم )تاریخ ساز شخصیت
 کمشنر (ر) راجہ مقصود احمد خان (مرحوم )تاریخ ساز شخصیت

  

کمشنرریٹائرڈراجہ مقصود احمد خان مرحوم تحریک آزادی کشمیر کے نامور مجاہد راجہ نور علی خان کے گھر 1936ء میں پیدا ہوئے راجہ نورعلی خان 1947 ء سے پہلے ریاست جموں وکشمیر کے چندگِنے چنے مسلمان افسروں میں شامل تھے، جنہوں نے اپنی خدادصلاحیتوں کی بدولت ہندووں کی دشمنی اور تعصّب کے باوجودسول سروسزمیں اعلی مقام حاصل کررکھاتھا۔1947ء میں آزادی کے وقت وہ گلگت میں وزیر کے عہدہ پر فائز تھے راجہ مقصود احمد خان نے بھی اپنے والد مرحوم کی سروس کی وجہ سے ابتدائی تعلیم جموں و کشمیرکے مختلف علاقوں ،جبکہ بی۔اے گارڈن کالج راولپنڈی اورایل ایل بی کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے کچھ عرصہ وکالت کی اوربعدمیں بطور تحصیلدار ملازمت کا آغاز کیاجس کے بعد سب ڈویژنل مجسٹریٹ، ڈپٹی کمشنر ،ایڈیشنل کمشنر ،ڈپٹی سیکرٹری سروسز، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ،رجسٹرارامداد باہمی ،ممبربورڈآف ریونیو اور کمشنر فرائض سرانجام دیئے۔

اپنی سروس میں کمشنر راجہ مقصود احمد خان نے قانون و ضابطے کی مثالی پاسداری کرنے کے ساتھ دیانت وشرافت میں آزاد کشمیر کی بیورو کریسی میں وہ مقام حاصل کیا، آج بھی اعلیٰ بیوروکریسی ان کی سرکاری سروس کوقابل تقلید سمجھتی ہے۔ مرحوم جن اعلی و ارفع صفات کے مالک آفیسر تھے اس سے کہیں بڑھ کرعظیم انسان دوست تھے وہ جہاں بھی سول سروس میں تعینات رہے اپنے فرائض کی ادائیگی کو قانون وقاعدہ سے ہم آہنگ کیا، اسی وجہ سے ان کی ایمانداری اور دیانتداری پر خطہ کے لوگ رشک کرتے ہیں۔ راجہ مقصود احمد خان مرحوم دیانتداری اور ایمانداری کا عملی مجسمہ تھے۔ مرحوم کی ساری زندگی مثالی گزری وہ آزادکشمیر سول سروس کے درخشندہ ستارے تھے مرحوم جن اعلی اوصاف اور خصائل کے مالک تھے ،ان جیسے لوگ اور آفیسر ناپیًدہوتے جارہے ہیں، انہوں نے ایمانداری اور دیانتداری کی ایسی مثالیں قائم کیں اور کبھی اپنے فرائض منصبی پر آنچ نہیں آنے دی ۔وہ غلط کاموں کی سفارش کرنے والوں کی باز پرس کرتے تھے لوگ آج کے مادہ پرستی کے دور میں ذرہ سی بات پر بہک جاتے ہیں، لیکن مرحوم راجہ مقصود احمد خان سے کسی غلط کام کے بارے میں سفارش یا بات کرنے میں کسی کی ہمت نہ تھی۔

انہوں نے دوران سروس اور سروس کے بعد بھی نہ تو کبھی سیاسی دباؤ، رشوت اور سفارش کواپنے پاس سے گزرنے دیااور نہ ہی کسی میں یہ جرات تھی کہ وہ ان سے کسی غلط کام کی توقع رکھیں۔ مرحوم آزاد کشمیر کے بڑے عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود جب بطور کمشنر ریٹائرڈ ہوئے تو ان کے ورثہ میں ان کے آبائی گاؤں بنڈالہ میں ان کے والد کے ورثہ میں چھوڑے گئے ایک مکان کے علاوہ اور کوئی ذاتی دوسرا گھر بھی نہیں تھا۔ مرحوم کودوران سروس میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سمیت دیگر کئی عہدوں کی پیشکش ہوئی، لیکن انہوں نے ساری سروس میں ایسے عہدوں پر جانے سے گریز کیا ،جن پر جانے سے ان کے بے داغ ماضی پر کوئی دھبہ لگ سکتا تھا، بلکہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر انہیں ایم ڈی اے کا چیئرمین بنایا گیا تو وہ سروس چھوڑنے کو ترجیح دیں گئے۔ اسی وجہ سے عام آدمی سے لے کر اعلیٰ افسران تک انہیں سب لوگ عزت و تکریم کی نظر سے دیکھتے تھے۔

آج جب وہ ہم میں موجود نہیں ہیں تب بھی لوگ ان کی خدمات کو عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ سول سروس میں، جس بھی منصب پر فائزرہے بے یارومددگار لوگوں کے لئے اپنے آفس کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتے تھے، جب بھی کوئی فریادی ان کے پاس آتا تواس کی بات توجہ سے سنتے اور اگروہ بات جائز ہوتی تو قانون و قاعدے کے مطابق اسے حل کرواتے مرحوم راجہ مقصود احمد خان نے اپنی سروس کے دوران تحصیلدار سے کمشنر کے عہدہ پر سرکاری فرائض سر انجام دیتے ہوئے آزاد کشمیر بھر کے غریب نادار لوگوں کے بلا امتیاز و تفریق خدمات سر انجام دیں بالخصوص اہل علاقہ بنڈالہ، کاولیاں، پنڈوری، ملوٹ کے لئے بجلی ،پانی اور سڑکوں کی اسکیمیں منظور کروائیں اور انسان دوستی کی شاندار روایات قائم کیں۔ان کا پختہ کردار ساری سروس میں ایمانداری اوردیانتداری کے ایسے بندھن میں بندھارہا اور اس مادیت کے زمانے کی کوئی ہواان کے اعتمادکو متزلزل نہ کر سکی، اسی وجہ وہ آج بھی غریب لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔مرحوم کی ہرسال برسی ان کے آبائی گاؤں بنڈالہ میں منعقد کی جاتی ہے ،جس میں لوگ خود بخود شرکت کرتے ہیں۔

مزید : کالم