بیوروکریسی کا نظام بدلنے کی تیاریاں مگر کیسے؟

بیوروکریسی کا نظام بدلنے کی تیاریاں مگر کیسے؟
بیوروکریسی کا نظام بدلنے کی تیاریاں مگر کیسے؟

  

حکمران بدلتے رہتے ہیں اور بیوروکریسی وہیں موجود رہتی ہے ،مارشل لاء کا دور ہو یا جمہوری حکومتوں کا، بیوروکریسی خاص طور پر پی اے ایس گروپ کے افسران کے اختیارات لا محدود ہی رہتے ہیں اور بنیادی طور پر سدا زمینی بادشاہ یہی ہوتے ہیں۔ یہ فارمولہ برٹش انڈیا کے دور کا ہے۔جبکہ برطانیہ میں آج سول سروسز میں ریکروٹمنٹ یا شمولیت کا طریقہ کار مختلف ہے۔ وہاں سول سروسز کے کچھ قائدے قانون اور اقدار متعین ہیں اور کوئی بھی ان سے بالا تر نہیں۔جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں انتظامی سیٹ پر صرف متعلقہ محکمے کا افسر ہی لگایا جاتا ہے۔لیکن پاکستان میں ہر محکمے میں چئیرمین اور سیکرٹریز کی اکثریت پی اے ایس گروپ سے ہے۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے افسران میں حاکمیت اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ اپنے ساتھی بیوروکریٹس،انفارمیشن گروپ،فارن سروسز،آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس ،کسٹم ،کامرس،ریلوے،پوسٹل ،ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ ،ان لینڈ ریونیو اور آفس مینجمنٹ کے افسران کی راہ میں بھی روڑے اٹکانے سے باز نہیں آتے جبکہ ’’ پرونشل مینجمنٹ سروسز‘‘ کے افسران کی ترقی کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔جس کی وجہ سے آئے روز سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کے درمیان تناؤ کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔

حقیقت یہ ہے ملک میں سی ایس ایس افسران کی ترقی کا سفر تو ہوا کی سپید سے بھی زیادہ تیزی سے اپنی منازل طے کرتا ہے جبکہ پی ایم ایس افسران سمیت دیگر سرکاری ملازمین کی ترقی کے سامنے نہ صرف سوالیہ نشان موجود ہے بلکہ بڑا سا ’’فل سٹاپ ‘‘لگا دیا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر زیادتی کی کیا مثال ہوگی کہ صوبائی یا وفاقی محکمے میں گریڈ17میں بھرتی ہونے والا افسر جب پینتیس سال بعد ریٹائرڈ ہوتا ہے تو گریڈ19 سے آگے نہیں بڑھ پاتا جبکہ سی ایس پی آفیسر اکیس یا بائیس گریڈ کی مراعات اور بھاری بھرکم پینشن کے ساتھی باقی کی زندگی بھی موج میں گزارتا ہے ۔ان افسران کو جیسے سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں کہ ساری اہم سیٹیوں پر صرف انہی کا استحقاق ہے۔چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور صوبائی سیکرٹری تو درکنار پی ایم ایس افسران کو ڈپٹی سیکرٹری سروسز اورایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن کی سیٹ تک نہیں دی جاتی۔ سینئر سیٹ پر کسی جونےئر آفیسر کی تقرری غیر قانونی ہے۔لیکن اب یہ ٹرینڈ بنتا جارہا ہے کہ جونئیر آفیسر کو سنئیر سیٹ پر اپوائنٹ کر کے من مرضی کا کام لیا جاتا ہے۔

پی اے ایس کی طرح پی ایس پی افسران نے محکمہ پولیس میں اپنی اجارہ اداری قائم کر رکھی ہے اور صوبائی پولیس افسران کا استحصال کررہے ہیں۔ اے ایس آئی،سب انسپکٹر،انسپکٹر اورڈی ایس پیز رینک کے افسران کو دس سے بارہ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اگلے گریڈ میں ترقی نہیں مل پاتی۔جبکہ پی ایس پی افسران بطور انڈر ٹریننگ اے ایس پی جس ڈی ایس پی کے زیرنگرانی محرر اور ایس ایچ او سے لیکر ڈی ایس پی تک کے کام کو سیکھتے رہے وہ بیچارے آج بھی وہیں کے وہیں ہیں جبکہ پی ایس پی افسران ڈی پی اور اور آرپی او بن کر انہی پر حکمرانی کررہے ہیں۔ریٹائرمنٹ کا وقت آن پہنچتا ہے لیکن اے ایس آئی اور سب انسپکٹر بھرتی ہونے والوں کی اکثریت انسپکٹر اور ڈی ایس پی سے آگے نہیں جاپاتے ۔ رینکر زپولیس افسران میں سے اگر دوچار پرموٹ ہو بھی جائیں تو انکو ساری زندگی اچھی پوسٹنگ نہیں ملتی۔پی ایس پی آفیسر ایس پی گریڈ 18کے باوجود گریڈ انیس کی سیٹ پر بطور ڈی پی او براجمان ہوتے ہیں جبکہ رینکر ایس ایس پی ہو کر بھی اس سیٹ کیلئے اہل نہیں سمجھا جاتا۔

میں نے دیکھا ہے کہ کچھ افسران خدا کی زمین پر خدائی فوجدار بنے بیٹھے ہیں۔طبع نازک پر ذرا سی بات کیا ناگوار گزری فوری طور پر تھانے دار معطل ،اور تو اور ظلم کی انتہا دیکھئے معمولی سی وجہ اور حکم عدولی پرچھوٹے افسران کی دو دو سال کی سروس ضبط کرلی جاتی ہے۔عیدین و دیگر تہواروں پر بھی چھٹی نہ ملنے،میرٹ کے باوجود ترقی نہ ملنے کے غم میں پریشان حال چھوٹے پولیس ملازمین پر سروس ضبطی کا فیصلہ کسی آفت سے کم نہیں ہوتا۔ناحق سروس ضبط ہونے کے غم میں سینکڑوں افرادپولیس ڈیپارٹمنٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں کچھ بیچارے تو دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلیتے ہیں۔

اگرچہ حاکمیت پسند اوراختیارات سے تجاوز کرنے والے مذکورہ پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کی تعداد بہت کم ہے لیکن اس اقلیت نے فرض شناس اکثریت کا امیج بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ صوبائی افسران کی نسبت سی ایس پی افسران کا رویہ سائلین کے ساتھ بہت نرم اور ہمدردانہ ہوتا ہے۔سی ایس پی افسران کی ایک طویل فہرست ہے جو نہ صرف فرض شناسی اور دیانتداری سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں بلکہ اتوار ،عیدین اور دیگرتعطیلات میں بھی انتظامی ذمہ داریاں نبھاتے نظر آتے ہیں اور عام افراد کی خوشی غمی میں بھی شرکت کرتے ہیں۔سی ایس پی افسران کی انتظامی صلاحیتوں اور قابلیت کے سب معترف ہیں ۔سینٹرل سپرئیر سرسز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مختلف صوبوں کے افسران دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں وہاں کے رہن سہن اور کلچر کے باعث عصبیت کا خاتمہ ہوتا ہے اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔یہ افسران پاکستان کی اکائی کا کردار ادا کرہے ہیں ۔اس لیے سروسز کے خاتمے کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس میں بہتری کی لانے کی ضرورت ہے ۔

بدقسمتی سے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں بنائی گئی سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس میں بھی سب پے اے ایس افسران ہیں ،سی ایس ایس کے دیگر گروپس اور پی ایم ایس سے کسی کو کمیٹی کا ممبر نہیں بنایا گیا۔چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے ہر کسی کی امیدوں کا مرکز عدلیہ ہے اور بطور منصف انصاف کا ترازواس بات کا متقاضی ہے کہ سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس کو کالعدم قرار دیا جائے اورریفارمرز کمیٹی میں سب کو متناسب نمائندگی دی جائے۔انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ اداروں کے درمیاں کھینچا تانی اور اقتدار کی جنگ کا خاتمہ ہو اور سب ملکر وطن عزیز پاکستان کی خدمت کر سکیں۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ