الوداع میرے دوست

الوداع میرے دوست
الوداع میرے دوست

  


میں اس وقت سفر میں ہوں اور میری منزل میاں میر صاحب کا دربار ہے جس سے ملحقہ قبرستان میں میرے ایک عزیز دوست کا دو گھنٹے بعد جنازہ ہونا ہے ۔۔۔

گاڑی کے شیشے سے باہر تیزی سے منظر تبدیل ہوتے دیکھ رھا ہوں ۔۔گاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور سب کچھ پیچھے رہ کر دور ہوتے ہوتے نگاہوں سے اوجھل ہو رھا ہے اور پھر نیا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔۔۔اور یوں ہی چلتے چلتے منزل آ جائے گی ۔۔۔

منزل ۔۔۔۔۔

جہاں سب کو بہرحال ایک دن پہنچنا ہی ہوتا ہے ۔

زندگی کی گاڑی بھی تیزی سے بھاگ رہی ہے ۔

ابھی چند دن پہلے ہی تو بات ہوئی تھی ۔اسکے بیٹے کی شادی کے موقع پہ مبارکباد کیلئے فون کیا ۔۔تو آگے سے گلے شکوے شروع’  پیر صاحب تُسی وڈے لوگ ہو جی فون کرو تے چکدے نئیں چپ چاپ لاھور آ کے واپس چلے جاندے او ‘

میں وی ہن اسلام آباد آ کے تہانوں لفٹ نہیں کروانی ۔۔اچھا بھائی جان معافی دے دیں آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی

مجھے کیا پتا تھا کہ وہ اپنی بات کا اتنا پکا نکلے گا

اور اب واقعی کبھی بھی مجھے لفٹ نہیں کروائے گا ۔۔

کئی سال پہلے رات گئے اسلام آباد کے ایک پنج ستارہ ہوٹل کی کافی شاپ میں چند دوستوں کے ہمراہ بیٹھا تھا اتنے میں ایک شخص ہال میں داخل ہوا جسے ہر بندہ پراشتیاق نظروں سے دیکھنے لگا ۔ اسے دیکھ کر میرے ساتھ بیٹھے دوست نے ہاتھ ہلایا وہ مسکرا پڑا اور سیدھا ہماری ٹیبل پہ آ گیا ۔ہم سب نے اسکا استقبال کیا اور ہمارےمشترکہ دوست نے مجھ سے پوچھا انہیں جانتے ہیں میں نے لاعلمی ظاہر کی تو انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان صاحب کا یوں تعارف کروایا کہ جس طرح ُتسی “پیر “ہو اس طرح ایہہ کرکٹ دے پیر نیں تے انہاں دا ناں “عبدالقادر “ہے ۔۔تے ایہہ ساڈے “ہیرو “نیں ۔۔۔۔۔۔

ہماری دعوت قبول کرتے ہوئے دلآویز مسکراہٹ والے وہ صاحب میرے ساتھ والی نشست پہ براجمان ہو گئے اور گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔۔۔۔۔

یہ تھی میری دنیائے کرکٹ کے عظیم باولر عبدالقادر سے پہلی ملاقات جو آگے چل کر دوستی میں بدل گئی ۔اور پھر گاہے بگاہے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔۔۔

پھر یوں ہوا کہ عبدالقادر چیف سلیکٹر بن گئے اور اس سلسلہ میں انہیں اکثر اسلام آباد آنا ہوتا ۔رات کا کھانا اکثر ہم اکٹھے کھاتے ۔ایک دن شام کو میں ہوٹل میں داخل ہوا تو کہنے لگا یار میریٹ کا بے سواد کھانا کھا کھا کر تنگ آ گیا ہوں تو میں نے گاڑی میں بٹھایا اور راولپنڈی کے اندرون شہر میں صدر ہاتھی چوک میں واقع ایک تکے والے کے پاس لے گیا اور عام سی دوکان کے اندر معمولی سی کرسی میز پہ بیٹھ کر عبدالقادر نے رغبت سے کھایا اور کہنے لگا اج بڑے عرصے بعد اندر دا لاھوریا جاگ گیا اے ۔۔۔

کرکٹ سے میری کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ چڑ تھی ۔مجھے چوکے چھکے کا کچھ پتا نہیں تھا ۔معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں ۔میں نے عبدالقادر کو بتایا کہ مجھے کرکٹ یا کرکٹرز کے بارے میں کچھ نہیں پتا اور نہ ہی پسند کرتا ہوں بلکہ چڑ سا جاتا ہوں ۔تو بجائے خفا ہونے کے ہنس دئیے اور کہنے لگے چلیں کوئی بات نہیں ۔۔ ہمارے درمیان ہر قسم کے موضوعات پہ بات ہوتی سوائے کرکٹ کے اور اسکے باوجود عبدالقادر بھائی سے دوستی تھی ۔۔

ایک دن ہم دونوں مارگلہ کی پہاڑیوں میں پیر سوہاوہ کے مقام پہ واقع ایک مونال نامی ریستوران میں گئے تو لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ۔کیا مرد اور کیا خواتین بچے سب نے گھیراو کر لیا لیکن عبدالقادر بجائے اکتانے یا غصہ کرنے کے سب سے مسکرا کر مل رھا رھا آٹو گراف دے رھا تھا تصاویر بنوا رھا تھا ۔ کھانا ٹھنڈا ہو رھا تھا تنگ آکر میں نے انتظامیہ کو شکایت کی لیکن وہ بے بس نظر آئے تو میں نے پارکنگ سے اپناسٹاف بلوایا جنہوں نے بمشکل ہجوم سے نجات دلائی لیکن تب تک سب مزہ کرکرا ہو گیا کھانا پیک کروایا اور واپس روانہ ہوئے لیکن اس شخص کے ماتھے پہ شکن تک نہ آئی اور میں حیرت سے اس شخص کو تکے جا رہا تھا

اس دن مجھے پتا چلا کہ جس شخص کو میں روزانہ رات گئے گاڑی میں لئیے لئیے پھرتا ہوں کبھی ٹریفک جام اور کبھی کسی اور وجہ سے مقررہ وقت سے اکثر دیر سے پہنچتا ہوں اور وہ ہمیشہ انتظار کرتے ہوئے ہوٹل لابی میں ٹہل رھا ہوتاہے لیکن کبھی شکوہ نہیں کرتا وہ کتنا بڑا سٹار ہے اور کتنی دنیا اسکی دیوانی ہے میں نے اس بات پہ جب عبدالقادر سے معزرت کا اظہار کیا تو کھلکھلا کر ہنس پڑا اور کہنے لگا کوئی گل نہیں جی گھر دا پیر ویسے بھی ہولا(ہلکا) ای ہوندا اے ۔ تہانوں کرکٹ دا پتا ہی نئیں تے فیر تسی کی جانوں ایہہ گلاں ....اور بات ختم ہو گئی

جب ہوٹل ڈراپ کرنے لگا تو کہنے لگا میرا انتظار کریں ۔تھوڑی دیر بعد روم سے واپس آیا تو بڑا سا بیگ میرے ڈرائیور کو تھماتے ہوئے کہنے لگا مجھے پتا ہے کہ آپ کو کرکٹ سے کوئی لگاو نہیں لیکن یہ کرکٹ ِکٹ میرے بھتیجوں کیلئے ہے ۔آپ وعدہ کریں کہ جب بھی وہ کرکٹ کھیلنا چاہیں تو انہیں روکیں گے نہیں ۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور بیگ گاڑی میں رکھوا دئیے۔ جس میں عبدالقادر بھائی کے سائن ہوئے بیٹ بالز وغیرہ اور کرکٹ سے متعلق دیگر سامان تھا ۔ میں نے حسب وعدہ گھر جا کر بیٹوں کے حوالے کیا اور انہیں کبھی کرکٹ کھیلنے سے نہ روکا بلکہ اسکے بعد جب بھی میچ ہوتا گھر کے لان میں بچوں کے ساتھ پروجیکٹر لگا کر میچ دیکھتا اور کافی حد تک کرکٹ سے متعلق معلومات بھی حاصل ہو گئیں ۔۔

پھر عبدالقادر بھائی سے ملاقاتوں میں فاصلہ آنے لگا اکثر ہونے والی ملاقاتیں اور رات گئے تک گپ شپ ملکی حالات سیاست سے لے کر لطیفوں قہقہوں والی خوبصورت نشستیں مہینوں اور پھر سالوں میں بدلنے لگیں ۔ باوجود اسکے کہ ہم ملتے نہیں تھے لیکن فون یا وٹس ایپ کے ذریعے سے رابطے میں رہتے اور گپ شپ ہوتی رہتی ۔ ہر دفعہ ملاقات کا پروگرام طے ہوتا لیکن درمیان میں کوئی نہ کوئی مصروفیت آڑے آ جاتی اور چاہنے کے باوجود ملاقات نہ ہو پاتی ۔۔۔ اور پھر آج یہ خبر آن پہنچی ۔۔۔۔بقول منیر نیازی

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں

ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو

بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو

کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

اب ملاقات کیلئے جا تو رھا ہوں لیکن آخری دیدار کرنے کیلئے ۔۔۔ میں نے اپنے دوست کو کھو دیا ہمیشہ کیلئے ۔۔

وہ ایک امام مسجد کے صاحبزادے تھے ۔۔۔ ایک نیک روحانیت ۔۔۔۔۔متانت اور سنجیدگی سے بھرپور ُپروقار شخصیت کے مالک ۔

اصولوں کے پابند ۔ عاجزی انکساری کا پیکر ۔ مخلص اور ملنسار شخص تھے ۔۔۔۔۔۔۔اللہ کریم انکی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں ۔

الوداع میرے دوست

لے او یار حوالے رب دے میلے چار دِناں دے

اُس دِن عید مبارک ہوسی جِس دِن فیر مِلاں گے

لے او یار حوالے رب دے لمبی پئی اے جُدائی

رب مِلایا آن مِلاں گے ہور امُید نہ کائی

(حضرت میاں محمد بخشؒ)

(لکھاری پیرزادہ ثاقب خورشید عالم ملک کی معروف روحانی گدی ’’پیر آف راجڑ شریف‘‘ کے گدی نشین ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی و عسکری اور صحافتی حلقوں میں بھی وسیع اثر و رسوخ رکھتے ہیں جبکہ مختلف ایشوز پر وقتا فوقتا لکھتے رہتے ہیں ) 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...