غریب رشتے دارکاخیال رکھیں!

غریب رشتے دارکاخیال رکھیں!
غریب رشتے دارکاخیال رکھیں!

  

کان جس طرف سے بھی پکڑیں،بات ایک ہی،مہنگائی زیادہ ہے یاآمدن کم ہے،دونوں کا نتیجہ غریب کی بھوک،کچن کی ویرانی اورکف افسوس ملنے کی صورت میں ہی نکلتاہے۔

امیرطبقے کو چھوڑکرباقی سب اس چکی میں پس رہے ہیں،کسی کا آٹا باریک ہے تو کوئی ذرا دانے دار ہے،پسنا بحرحال سبھی کامقدربن چکاہے،عام غریب اورخط غربت سے بھی نیچے زندگی بسرکرنے والوں کوپھر بھی پیٹ کی آگ بجھانے کا ایک آسرا ہمیشہ رہتاہے کہ وہ دست سوال دراز کرلینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے مگر مڈل کلاس کی ٹانگیں غریبی میں اور سرامیری کی طرف بڑھانے کی کوشش میں نظرآتاہے۔وہ دست سوال دراز نہیں کرتے،دائیں بائیں سے پکڑکر،جگاڑلگاکر،ادھارکی گٹھری اٹھاکریاکچھ بھی کرکرا کرسفیدپوشی کابھرم رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں،بعض دفعہ توجب امیدوں کےسب دئیے گل ہوجائیں،سب دروازے بند ہو جائیں تو پھر مسائل سے چھٹکارہ زندگی سے ہی آزادی کی صورت میں نکلتاہے،وہ بے حس معاشرے کی بھینٹ چڑھ کرجنت یادوزخ میں سے کسی ایک کامکین بن جاتاہے اور بیوی بچوں کو پھر ایک نئے امتحان میں ڈال جاتاہے،جہاں سے پھر نئی کہانیاں شروع ہوتی ہیں،بیوہ کی الگ کہانی،یتیم بچوں کی الگ داستانیاں ،کون کون کیاکیاکرنے پرمجبورہوجاتاہے؟یہ دلخراش داستانیں بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں۔

حکومت تو حکومت رہی،انہیں کچھ نہ کہیں، کہ ان کے اپنے ہی مسائل ہیں،غربت،کم آمدن، مہنگائی، بے روزگاری، یہ سب تو ہمارے مسائل ہیں،جو مسائل ہمارے ہیں تو پھر حل بھی ہم نے ہی کرنے ہیں،آج کون کسی کا مسئلہ اپنا مسئلہ سمجھتاہے؟ہم سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے،ہمیں اپنے کم آمدن ،بیروزگار اورغریب رشتے داروں کی معاشی حالت پرنظررکھنے کی ضرورت ہے۔

کسی چچاکوملنے کے بہانے،کسی چچی کوملنے کے بہانے،کسی آپاکی خیریت پوچھنے کے لیے،کبھی ان کے کچن میں جائیں ،ان کے راشن کے برتن دیکھیں،خود ہی پانی پینے کے بہانے فریج کھولیں،کم سن بچوں سے باتوں باتوں میں پوچھیں کہ کل کیا پکایاتھا؟پرسوں کیا کھایاتھا،آج ماما کیا پکا رہی ہیں،آپ کو حالات نظرآجائیں گے۔

کچن میں جائیں تو ضروردیکھیں کہ آٹے والے برتن میں کتنا آٹاہے؟چاول پڑے ہیں؟دالوں کی صورتحال واضح ہوجائے گی،اشیائے ضروریہ دیکھیں،کیچپ دیکھنے کی ضرورت نہیں،بریڈ نہ دیکھیں، انڈے، اچار، مصالحے بالکل نہ دیکھیں۔۔۔بچوں کے لیے چاکلیٹ،کھلونے،ٹافیاں،بسکٹ ،بچوں کے کپڑے، جوتے، کتابیں،مکان کا کرایہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ۔فریج کھولیں تو یہ نہ دیکھیں کہ پھل پڑے ہیں۔دودھ،دہی پڑا ہے،لیمن،ٹماٹر،سبزی وغیرہ نہ دیکھیں۔فریج کھولیں گے تو رشتے دار کے پیٹ کی طرح خالی فریج ہی سب کہانی بیان کردے گی۔۔۔ان کاجائزہ لیں اور پھر اپنے حالات دیکھیں کہ کیاہماری یہ ذمہ داری نہیں کہ اپنے اس رشتے دار کی مالی مدد کریں؟خاموشی کچھ پیسے بچوں کے ہاتھ پکڑادیں؟کبھی کوئی کپڑے، جوتے، کھلونے لے دیں؟کبھی آتے ہوئے پھل لے آئیں؟کبھی اُنہیں کہیں  کہ  آج موسم اچھا ہے،آؤ مل کر آئس کریم کھاتے ہیں۔۔۔

سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیاہم دوسروں کو غم ہی دے سکتے ہیں؟کیاخوشیاں نہیں دے سکتے؟۔۔حکومت کرے گی سو کرے گی،اس کا انتظار نہ کریں،خود ہی ایک دوسرے کی مدد شروع کردیں،ہرخاندان خود سے مالی طورپر کمزور خاندان کی کچھ نہ کچھ مدد شروع کردے توکتنے ہی مسائل ختم ہوجائیں گے۔خلوص نیت سے غریب رشتے دارکاخیال رکھیں گےتودلی سکون ملےگا۔

 (بلاگرمناظرعلی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز کےنیوزروم سے وابستہ رہ چکےہیں،آج کل لاہور کےایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں۔عوامی مسائل اجاگرکرنےکےلیےمختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں۔ان سےفیس بک آئی ڈی  munazer.ali  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -