قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 116

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 116
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 116

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دو عظیم سربراہانِ شعبہ

ادبی صحافت میں میرا آغاز’’ادب لطیف‘‘ سے ہوا لیکن اس کے بعد ایک ایسا دور آیا کہ میں فلمی صحافت سے منسلک ہوا اور اس وقت کے سب سے بڑے پرچے ہفتے وار ’’اداکار‘‘ میں مَیں ایڈیٹر مقرر ہوا جو سید عطاء اللہ شاہ ہاشمی کی ملکیت میں چل رہا تھا۔ یہ پرچہ قیام پاکستان سے پہلے دو مقامات سے نکلتا تھا۔ ایک لاہور سے اور دوسرا ممبئی سے۔ قیام پاکستان سے پہلے سب سے بڑا فلمی پرچہ ’’چتراویکلی‘‘ تھا۔ اس کے ایڈیٹر دھرم ویر تھے۔ یہ پرچہ بڑی تعداد میں بکتا تھا۔ اس میں لیٹر بکس کے عنوان سے ایک کالم ہوتا تھا۔ جس میں لوگ سوالات بھیجتے تھے اور اس کالم میں ان سوالات کے جوابات دئیے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ انگریزی صحافت میں ’’فلم انڈیا ممبئی‘‘ میں بھی بہت مقبول تھا۔ اس کا معیار ’’چترا‘‘ سے بہت اونچا تھا اور اس کے جوابات بہت بامعنی ہوا کرتے تھے لیکن ’’چترا‘‘ کی سطح نیچی ہونے کے باوجود یہاں بھی یہ سلسلہ بہت پاپولر تھا۔ چنانچہ ’’چترا‘‘ اس زمانے میں فلمی پرچوں میں اول نمبر پر شمار ہوتا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر ’’اداکار‘‘ آتا تھا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 115  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قیام پاکستان کے بعد چترا ممبئی میں منتقل ہوگیا تو ’’اداکار‘‘ پاکستان میں فلمی پرچوں میں سرفہرست آگیا۔ کسی زمانے میں مَیں اس پرچے میں افسانے لکھا کرتا تھا اور حالات اور اتفاقات دیکھئے کہ میں اسی پرچے میں ایڈیٹر بھی مقرر ہوا۔ اتفاقات کا سلسلہ عجیب ہوتا ہے۔ جب میں فلمی نغمہ نگاری کے سلسلے میں لاہور بلایا گیا تو جس فلم کے لئے مجھے یہاں بلایا گیا تھا وہ قیام پاکستان کے بعد رک گئی اور مکمل نہ ہوسکی۔اس کے بعد پاکستان بننے کے بعد کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ مجھے ملی جس کے پروڈیوسر دیوان سرداری لال تھے۔ یہ پکچر بھی درمیان میں رہ گئی۔

اس کے بعد مجھے جو باقاعدہ فلم ملی وہ بھی سید عطاء اللہ شاہ ہاشمی کی تھی جس کا نام ’’اکیلی‘‘ تھا۔ گویا ’’اداکار‘‘ میں مَیں نے لکھنا شروع کیا ’’اداکار‘‘ہی میں ایڈیٹر مقرر ہوا اور ’’اداکار‘‘ میں رہتے ہوئے ہی نغمہ نگاری کی باقاعدہ ابتداء ’’اداکار‘‘ کے مالک عطاء اللہ شاہ ہاشمی کی فلم سے ہوئی۔ ’’اکیلی‘‘ کی نغمہ نگاری کے سلسلے میں مَیں الگ بات کرچکا ہوں یہاں میں آپ کو فلمی صحافت کے کچھ تجربات بتانا چاہتا ہوں۔

فلم ’’اکیلی‘‘ بننی شروع ہوئی تو اس کا یونٹ الگ تھا اور اخبار ’’اداکار‘‘ کا عملہ الگ تھا۔ دونوں کا آپس میں انتظامی طور پر کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہر چند کہ دونوں کے مالک شاہ صاحب ہی تھے اور شاہ صاحب نے ’’اداکار‘‘ کا باقی کام کلیتہ میرے سپرد کررکھا تھا۔ میں جو لکھتا تھا اس کی مجھے آزادی تھی۔ شاہ صاحب کی طرف سے کچھ عمومی ہدایات ہوتی تھیں جن کے تحت ہم کام کرتے تھے۔ ان کی پکچر کی کاسٹ میں راگنی ہیروئن تھیں۔ بے بی اختری پارٹیشن سے پہلے اس نام سے بہت مشہور ہوئی تھیں۔ اس فلم میں وہ سائیڈ ہیروئن تھیں۔ ان کا تعلق ہیرا منڈی سے تھا لیکن شادی ایک بڑے ادارے کے منیجر سے ہوجانے کے بعد انہوں نے اپنے رکھ رکھاؤ میں اضافہ کرلیا تھا اور ذرا ذرا سی بات پر Touchy ہوجاتی تھیں۔ ’’فلم انڈیا‘‘ اور ’’چترا‘‘ کی طرز پر ہم نے ’’اداکار‘‘ میں بھی سوال و جواب کا ایک سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ اس میں کس نے سوال کیا کہ بے بی اختری کا ایڈریس کیا ہے تو جو اس کا آبائی ایڈریس تھا وہ میں نے لکھ دیا یعنی ہیرا منڈی لاہور۔

یہ سوال و جواب کہیں اختری کے خاوند نے پڑھ لیا اور اسے محسوس کیا حالانکہ اس میں کوئی بددیانتی نہیں تھی۔ اس وقت تک بے بی اختری کا وہی ایڈریس تھا۔ اسی رات ایک دعوت میں عطاء اللہ شاہ ہاشمی، ان کے ساتھی کرشن کمار، جو اب کے خورشید ہیں اور جو اس فلم کے ڈائریکٹر تھے اور فلم کا دوسرا سٹاف بھی موجود تھا۔ اس دعوت میں بے بی اختری اور ان کے خاوند نے شاہ صاحب سے بہت احتجاج کیا اور کہا کہ آپ کے پرچے میں ہمارے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے اور آپ اس کے ایڈیٹر کو نکال دیں۔ شاہ صاحب بڑے بہادر اور بااصول آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ پرچے کا معاملہ الگ ہے اور پرچے کے ایڈیٹر کو ہم نے کلی اختیارات دے رکھے ہیں اور اگر آپ کو ایڈریس پر اعتراض ہے تو آپ نیا ایڈریس دے دیں ہم وہ چھاپ دیں گے۔ وہ کہنے لگے کہ نہیں صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ایڈیٹر ساتھ معافی بھی مانگے۔ شاہ صاحب نے کہا کہ اس میں معافی کا کیا سوال ہے۔ جو کچھ ہوا ہے غلط فہمی سے ہوا ہے اور بدنیتی پر مبنی نہیں ہے۔ اس لئے معافی کی ضرورت نہیں ہے۔ بے بی اختری اور ان کے خاوند مصر ہوگئے کہ پرچے کے ایڈیٹر ہم سے معافی مانگیں ورنہ ہم فلم میں کام نہیں کریں گے۔ فلم کی دوریلیں بن چکی تھیں۔ شاہ صاحب نے کہا کہ پرچے اور فلم کے معاملات الگ الگ ہیں اس لئے آپ فلم میں کام کو پرچے کے ساتھ منسوب نہ کریں۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ جن کے ساتھ ان کا واسطہ پڑا ہے۔ وہ عطاء اللہ شاہ ہاشمی ہیں۔ شاہ صاحب ان دنوں آگ تھے اور بڑی بڑی اصولی لڑائیاں لڑچکے تھے اور ساری فلم انڈسٹری ان سے گھبراتی تھی اور اب بھی جو باقیات و صالحات تھے یہی کچھ تھے۔ چنانچہ شاہ صاحب نے کہا کہ آپ اچھی طرح سوچ لیں کیونکہ ’’اداکار‘‘ اور ’’اکیلی‘‘ دونوں الگ الگ ادارے ہیں۔ ہم یہ تو کرسکتے ہیں کہ آپ پرچے پر کیس کردیں۔ میں مداخلت نہیں کروں گا اور اگر آپ کی واقعی توہین ہوئی ہے تو ایڈیٹر کو عدالت سے سزا مل جائے گی۔ وہ کہنے لگے کہ میں فلم کا آپ کو معاوضہ دے رہا ہوں جس میں آپ کام کررہی ہیں۔ اگر آپ فلم میں کام نہیں کریں گے تو یہ آپ کی مرضی ہے اور پھر ہمیں یہ حق ہوگا کہ آپ ہمیں بلا وجہ جو نقصان دیں گی اس کے ازالے کے لئے ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ غرض بات بڑھ گئی اور بے بی اختری نے کہہ دیا کہ ہم فلم میں کام نہیں کریں گے۔

ہوا یوں کہ اگلے دن شاہ صاحب نے یہ کہا کہ فلم میں بے بی اختری کا جتنا کام ہوچکا تھا۔ قینچی رکھوا کر اسے کاٹا اور اس کام کا ایک رول بنا کر شاہ صاحب نے بے بی اختری اور ان کے شوہر کو بھیج دیا اور انشاء اللہ یہ آپ کی آخری فلم کی شوٹنگ ثابت ہوگی۔ اس رول کو اچھے وقتوں کی یادگار سمجھ کر دونوں میاں بیوی دیکھتے رہئے۔ اس کے ساتھ ہی شاہ صاحب نے بے بی اختری کو اپنی فلم سے الگ کرنے کی نیوز چار کالمی چھاپی اور عطاء اللہ شاہ ہاشمی صاحب کی زبان ایسی سچی ثابت ہوئی کہ وہ فلم واقعی بے بی اختری کی آخری فلم ثابت ہوئی اور اس کے بعد کسی نے اسے اپنی فلم میں کاسٹ نہیں کیا اور اچھا ہی ہوا کہ اس طرح وہ اپنی گھریلو زندگی میں آباد ہوگئی۔پھر کسی نے اسکو سٹوڈیو میں نہیں دیکھا،

اصول کی بات ہے۔ کوئی اور ہوتا تو اپنا نقصان نہ کرتا کیونکہ اس جھگڑے میں شاہ صاحب کا بھی نقصان ہوا اور انہیں بے بی اختری کی جگہ دوسری اداکارہ ڈال کرازسرنوجن مناظر کی شوٹنگ کرنی پڑی ان سے خرچ بڑھا۔ لیکن شاہ صاحب یہ خرچ برداشت کرگئے۔ مگر انہوں نے اپنے پرچے کے ایڈیٹر کی توہین برداشت نہیں کی۔

میں اب بھی اس واقعہ پر فخر کرتا ہوں کہ مجھے پرچے کا مالک ایساملا جس نے مجھے کسی کے سامنے LEAD DOWN نہیں کیا۔

اس طرح صبیحہ خانم فلم انڈسٹری میں نئی نئی آئی تھیں۔ ان کے سر پرست ہمارے ایک دوست اداکار تھے۔ انہوں نے پہلے سٹیج اور تھیٹر سے کام شروع کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ شروع میں ہر آدمی اسی طرح آغاز کرتا ہے اور شروع میں کچھ بھی نہیں ہوتا اور اس وجہ سے پبلسٹی کے ذرائع بھی تلاش کرتا ہے لیکن ان کے سرپرست نے یوں کیا کہ صبیحہ کے نام کے بعد ایم اے لگانا شروع کیا۔ میں نے ’’اداکار‘‘ میں اپنے طنزیہ کالم میں اس بات پر تبصرہ کیا۔ یہ انہیں برا لگا اور وہ صاحب ناراض ہوئے۔

انہوں نے پہلے تو مجھے پیغام بھیجا کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے اس سے صبیحہ کی بے عزتی ہوئی ہے اور ہم آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ اخبار نویسی میں یہی کچھ ہوتا ہے اور سب سے پہلے ٹانگیں توڑنے کی ہی دھمکی آتی ہے۔ پھر اگر ایڈیٹر اپنے قدموں پر مضبوط ہے تو دوسرا پیغام یہ آیا کرتا ہے کہ ہم آپ پر کیس کردیں گے۔ اس پر بھی اگر ایڈیٹر ثابت قدم رہے تو پھر درمیان میں صلح کے لئے آدمی پڑجاتے ہیں اور اگر پارٹی تھوڑی سی مالدار ہے اور اخبار والا تھوڑا سا بلیک میلر ہے تو معاملہ پیسوں پر طے ہوتا ہے۔ یہ بات میں اپنی فلمی اخبار نویسی کے حوالے سے کررہا ہوں۔

چنانچہ جب مجھے دھمکی ملی کہ ٹانگیں توڑ دیں گے تو میں نے اور لکھا۔ اس کے بعد مجھے کیس کی دھمکی آئی تو میں نے پھر اور لکھا۔ اس کے بعد ہمارے ایک دوست آغا سلیم رضا مرحوم کو بیچ میں ڈالا گیا۔ وہ میرے پاس آئے اور مجھے کہنے لگے کہ قتیل صاحب ان کا پیچھا چھوڑ دیجئے۔ میں نے کہا میں تو ان کا پیچھا چھوڑتا ہوں لیکن یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ ہر روز ہی کوئی نہ کوئی دھمکی آجاتی ہے۔ کہنے لگے کہ میں جانتا ہوں کہ وہ کوئی عقلمند آدمی نہیں ہے۔ پھر کہنے لگے کہ میں اس کو کسی دن یہاں لے آؤں۔ میں نے کہا لے آئیے میرا ان سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔ آغا سلیم رضا جب ان صاحب کو لے کر آئے تو انہوں نے آکر ہاتھ ملایا اور جب دیکھا کہ میں پیار سے بات کررہا ہوں تو انہوں نے وہی سرالاپنا شروع کیا اور کہا کہ جناب آپ نے عورت سمجھ کر صبیحہ کے ساتھ کیا ہے۔ کسی مرد کے بارے میں لکھتے تو اور بات ہوتی۔ میں نے ان کے منہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ بھائی میں نے آغا سلیم رضا کی وجہ سے آپ کو یہاں آنے دیا اور بات ختم کرنے لگا ہوں لیکن آپ بات بڑھارہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سمجھ لیجئے کہ میں نے یہ سب عورت کے بارے میں نہیں لکھا بلکہ آپ کے بارے میں لکھا ہے۔ اب آپ بتائیے۔ چنانچہ میں گرم ہوگیا تو آغا سلیم رضا نے مجھے ٹھنڈا کیا۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

بات آخر مالک تک بھی جاتی ہے اور یہ دعویٰ بھی ہوتا ہے کہ یہ ایڈیٹر کیا چیز ہے۔ یہ بات ہے بھی درست کیونکہ مالک جسے چاہے نکال دے اور جسے چاہے رکھ لے لیکن انہیں یہ نہیں پتہ تھا کہ اس پرچہ کے مالک عطاء اللہ شاہ ہاشمی ہیں۔ وہ صاحب میرے پاس سے تو ٹھیک ٹھاک اٹھے لیکن بعد میں شاہ صاحب کے پاس چلے گئے اور ان سے کہا کہ آپ کے پرچے کے ایڈیٹر نے بہت زیادتی کی ہے اس کی تلافی ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے اخبار کے دفتر میں بھی ہماری بڑی بے عزتی کی ہے ۔ یہ صاحب ابھی زندہ ہیں اور میں عمداً ان کا نام نہیں لینا چاہتا۔ اس زمانے میں بڑے تلخ لہجے کے ہوتے تھے اب کچھ مختلف ہیں۔ خیر شاہ صاحب نے ان سے تفصیل پوچھی تو آغا سلیم رضا نے کہا کہ یار آپ نے بھی تو کچھ زیادتی کی تھی اور آپ نے بھی تو کہا تھا کہ میرے بارے میں لکھتے تو میں یہ کردیتا۔ شاہ صاحب فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ انہوں نے قتیل صاحب سے کہا تھا کہ اگر آپ میرے بارے میں لکھ دیتے تو میں یہ کردیتا۔ آغا صاحب کہنے لگے کہ ہاں اتنا کہا تھا۔ شاہ صاحب کہنے لگے کہ اگر میں قتیل صاحب کی جگہ ہوتا تو آپ کو دھکے دے کر سیڑھی سے نیچے گرادیتا۔ شکر کریں میں نہیں تھا اور آپ بچ گئے اور انہیں کہنے لگے کہ آپ ائندہ ایسی بات مت کریں اور اب آپ کے بارے میں بھی سب کچھ لکھا جائے گا۔ وہ صاحب بالکل گھبراگئے اور اس کے بعد ان صاحب نے شاہ صاحب کے پاؤں پکڑلیے۔

یہ عطاء اللہ شاہ ہاشمی اور ایک مالک اخبار کا کردار تھا جو کہ کبھی اور کہیں دیکھنے میں نہیں آیا اور میں نے ان کی وجہ سے اتنے ٹاٹھ سے فلمی اخبار نویسی بھی کی۔ اب کسی کا درد محسوس کرکے حق و انصاف کی بنیاد پر ساتھ دینے والے لوگ بہت کم نظر آتے ہیں۔ نغمہ نگاری میں بھی یہ مشکل پیش ہوتی ہے۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 117 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے