تاریخ ساز جمہوری سفر

تاریخ ساز جمہوری سفر
تاریخ ساز جمہوری سفر

  

موجود انتخابات سے جو بھی نتیجہ سامنے آیا ہو یا جو بھی منزل سر کر لی گئی ہو، ان کے نتیجے میں اخبارات ، جن کی چیختی ہوئی شہ سرخیاں یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے متعدد تاریخ ساز لمحات کی دھائی دے رہی ہیں، تقریباً ناقابل ِ مطالعہ ہو چکے ہیں، جبکہ ٹی وی کے بزرجمہر وفور ِ جذبات میں بے خودی کی اتنی منزلیں سر کر چکے ہیں کہ معمولات ِ زندگی، جیسا کہ چائے کا ایک کپ پینا، بھی عقربی تاریخی واقعات کے ہم پلہ دکھائی دیتے ہیں۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل یحییٰ کے دور ِ صدارت میں اقتدار سنبھالا تو اُس تاریک شام، جب ملک میں جنگ کی وجہ سے بلیک آﺅٹ تھا، ان کی تقریر شکست خوردہ قوم کو صبح ِ درخشاں کی نوید سنارہی تھی”طویل سیاہ رات کا خاتمہ ہو چکا ہے“۔میںنے، اس وقت نوجوان کپتان والٹن ، لاہور ، میں طیارہ شکن توپ پر متعین تھا، سوچا کہ مصائب کا دور ختم ہونے کو ہے اور کوئی دن جاتا ہے، جب ہم نئے دور کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہوںگے۔ وہ لمحات بھی یقینا خوشی اور امید کے پیغام بر تھے، لیکن پھر کیا ہوا؟ذوالفقار علی بھٹو کی بالا دستی حاصل کرنے کی خواہش اُن کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ اس سے پہلے کہ ہم ”نوجوان “ اُن خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھرتے دیکھتے، 1977ءکے انتخابات کے معرکے کا سٹیج تیار کر دیا گیا ۔ اس کے بعد طویل احتجاجی مظاہر ے شروع ہو گئے۔ اس ڈرامے کا ایپی لاگ (اختتامہ) پارسائی کا لبادہ اوڑھے، چہرے پر دھیمی مسکراہٹ اور آستین میں خنجر چھپائے جنرل ضیاءالحق نامی ایک مصنف نے لکھا۔اپنے اقتدار کا جواز فراہم کرنے کے لئے اُنہوںنے اسلام کا پرچم لہرایا ۔ اس سے پہلے بھی پاکستان بہت سے مسائل کا شکار تھا، لیکن نیکی ، پرہیزگاری اور نظریات کے نام پر کی جانے والی یہ جراحت سب سے سوا تھی۔ اگرچہ مَیں اس وقت پی ایم ایل (ن) کے لیے کوئی بدمزگی پیدا نہیںکرنا چاہتا، لیکن کیا یہ بات غلط ہے کہ نواز شریف بھی اُسی دور کی پیداوار ہیں؟فیلڈ مارشل ایوب خان(جو پتہ نہیں کس جنگ کے فاتح تھے، مگر اسے بھی تاریخی کہا جاتا ہے) نے ذوالفقار علی بھٹو کی سرپرستی کی تو جنرل ضیاءنے نواز شریف کی، لیکن ماضی کو فراموش کر دینا ہمارے قومی اوصاف میںسے ایک (واحد؟) ہے۔

پھر جب جنرل ضیاءالحق راہی ِ ملک ِ عدم ہوئے تو 1988ءمیں بے نظیر بھٹو وزیر ِ اعظم بنیں۔ نصرت بھٹو مرحومہ بڑی والہانہ نظروں سے اپنی نوجوان صاحبزادی کو حلف اٹھاتے ہوئے دیکھ رہی تھیں، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ صنم بھٹو کی نظریں بھی اپنی بہن کے چہرے سے نہیں ہٹ رہی تھیں۔ اُن تاریخ ساز لمحوں میں پاکستان میں جمہوریت اپنی جڑیں گاڑ رہی تھی، لیکن پھر بدقسمتی سے ایوان ِ صدر میں مسند نشیں ایک سابق بیوروکریٹ غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے اس نوخیز جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔ اس کے بعد پھر ہمارے ملک میں جمہوریت کے نام پر بدعنوانی اور لالچ کا دور دورہ ہو گیا۔ اس میں پھردوسروں کے ساتھ ساتھ پی پی پی کی قیادت نے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو میں بے شمار خامیاں ہوں گی، لیکن اُن پر مالی بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں آسکا۔ اُن کا اسلام آباد یا لاہور میں کوئی مکان یا اہم پلاٹ نہیں تھا اور یہ آج کے پاکستان میں عملی طور پر ناقابل ِ یقین لگتا ہے۔

صرف یہی نہیں، اُنہوںنے نہ کسی بنک سے قرض لیا ، نہ معاف کرایا۔ اُن کا لباس بھی عام انسانوں جیسا ہوتا پھر وہ کچھ مشروبات کا ذوق بھی رکھتے تھے۔ بہرحال وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔آج کی لوٹ مار کی سیاست کے مقابلے میں اُن پر اُس زمانے میں لگنے والے مخصوص الزامات کی کوئی حیثیت نہیںہے۔ اسی طرح ہمارے سابق آرمی جنرل بھی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ جنرل یحییٰ دل خوش کرنے کا سامان کرتے رہتے، لیکن یہ بات ماننا پڑے گی کہ اُن کے کوئی غیر ملکی بنک اکاﺅنٹس نہےں تھے۔ اسی طرح جنرل گل حسن ، جو آرمی چیف رہے، کا اپنا کوئی مکان نہیں تھا اور اُنہوںنے اپنی زندگی کے آخری ایام پنڈی کلب میں پورے کئے۔ مسٹر جسٹس کارنیلس فلیٹیز کے ایک کمرے میں ہی مقیم رہے(اے تبدیل ہوتے ہوئے پاکستان ، ٹھہر جا، ہم اگر پرانا پاکستان ہی واپس لے آئیں تو بڑی بات ہے)۔2008 ءکے انتخابات بھی تاریخی ڈراموںسے تہی داماںنہیں تھے۔ ایک طاقتور فوجی حکمران نظام کو اپنی گرفت میں لئے ہوا تھا، لیکن اُن کی نظروں کے سامنے اُن کے زیادہ تر حامیوں کو شکست ہوئی، جبکہ جس شخص (نواز شریف ) کو جلاوطن کر دیا تھا، قومی سیاست کے کینوس پر اُس کا واضح نقش ابھرنے لگا۔ یہ بھی ایک تاریخی عمل تھا،تاہم اُن انتخابات کے نتیجے میں بننے والی زرداری حکومت نے جو کارکردگی دکھائی وہ بھی ”تاریخی “ ہی تھی۔

آج جبکہ شریف برادران کامیابی کا تاج پہن چکے ہیں، جہاںاُن کی خوبیوںکے گن گائے جارہے ہیں، وہیںاُن کو مفت میں مشاورت بھی دی جارہی ہے ۔ اخبارات کے کالم نہایت سنجیدگی سے ملکی مسائل کا نہایت اشک آور تجزیہ کرتے ہوئے دل کے تار وں کو چھو لینے والی مخلص اور تیر بہدف نصیحتوں کے انبار لگارہے ہیں۔ اگر ہیڈلائن پر نظر پڑے تو انسان سر تھام کربیٹھ جائے اور اگر اگلا صفحہ پلٹےں تو پھر وہی عطائی ماہرین کی حکمت کی طرح معاشی حکمت ِ عملی کے نسخے۔ جوش و ولولہ اس قدر ہے، جیسا قوم کو کوئی مہاتیر محمد یا اردگان مل گیا ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ یہ ”وقت ِ دعا“ ہے کیونکہ ہم بھاری بھرکم مینڈیٹ کے کرشمے پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ امیدہے کہ ملک و قوم کی خاطر اس مرتبہ حماقتوںسے گریز کیا جائے گا ۔اگر کی گئی ایک حماقت ، یو ٹیوب پر پابندی، کا ازالہ ہوجائے تو حکومت پر عوام کا اعتماد بڑھ جائے گا کہ وہ واقعی کچھ کرنے کا جذبہ رکھتی ہے۔ مسئلہ صرف ایک ویب سائٹ کا نہیںہے ، بات یہ ہے کہ دنیائے اسلام کی اس واحد ایٹمی قوت نے خود کو دنیا کی نظروں میں مذاق کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ دنیا کے دوردراز خطوںمیںبھی اگر کوئی واقعہ پیش آئے تو ہم اپنے اُوپر سنگ و آہن کی بارش کرناشروع کر دیتے ہیں۔ اس سے کسی کا تو ایک گلاس تک نہیں ٹوٹتا ، ہمارا اپنا وجود ہی زخمی ہوجاتا ہے۔ جب لوگ اصل واقعہ کو بھول بھی جاتے ہیں، ہم پابندیوںکے ذریعے اپنے زخم ہرے رکھتے ہیں۔ جب کوئی قوم بدحواسی کا اس قدر مظاہرہ کرتی ہو، تو کیا اُس سے یہ امید لگائی جا سکتی ہے کہ وہ معاشی میدان میں انقلابی تبدیلی برپا کر ے گی؟

ہمارے کلچر میں کچھ نہ کچھ خرابی ضرور ہے۔ بجلی کا بحران ایک ٹھوس مسئلہ ہے، لیکن ایسے ٹھوس مسائل درست تدبیر اور مہارت سے حل ہو سکتے ہیں۔ جرمنی اور جاپان نے جنگ ِ عظیم کی مہیب تباہ کاریوںکے بعد اپنا انفراسٹرکچر معجزانہ طور پر تعمیر کر لیا ، لیکن ہمارے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ ہم جدید دنیا میں پائی جانے والی معقولیت سے اجتناب کرتے ہیں۔ یوٹیوب پر پابندی اسی خرابی کی ایک علامتی شکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کا بحران راتوں رات نہیں حل ہوگاکیونکہ پاور پلانٹس لگانے میں رقم کے ساتھ ساتھ وقت بھی لگتا ہے، چنانچہ ہمیں صبر کرنا ہوگا، لیکن جو کام آسانی سے ہو سکتے ہیں ،اُن میں ناکامی کا کیا جواز ہے؟مثال کے طور پر پلاسٹک بیگ کی وجہ سے ہماری آبی گزرگاہیں بند ہورہی ہیں، زرخیز میدان بنجر ہورہے ہیں اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک سابقہ سیکرٹری نے مجھے بتایا کہ جب میں پلاسٹک بیگ جیسی اشیاءکے بارے میں لکھتا ہوں تو میرا انداز نرم ہوتا ہے۔ اب خدا کے لئے یہ تو بتائیں کہ جب ہم پلاسٹک بیگ جیسے مسلے سے نہیں نمٹ سکتے تو ہم کون سانیا آسمان تعمیرکرنا چاہتے ہیں۔

میری تجویز ہے کہ فوج پہلے اپنے ہسپتالوں، پھر اپنی سی ایس ڈی شاپس میں ان کا استعمال ممنوع قرار دے۔ ہو سکتاہے کہ دوسرے اس سے شرم محسوس کریں اور اس اقدام کی پیروی کریں۔ خدا کے لئے کاشغر ، یااس سے بھی پرے ریلوے لائن بچھانے کی باتیں فی الحال نہ کریں، کیونکہ ابھی ہمارے ہاں بہت سے معاملات بگڑے ہوئے ہیں۔ ہمارا ریلوے کا نظام تقسیم کے وقت ملنے والا سب سے بہترین اثاثہ تھا، لیکن اس کے بعد ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟1970ءتک ہمارے پاس سفر کے لئے ریلوے سے بہتر کوئی اور چیز نہیں تھی، لیکن مارشل لاءکے دور کی تاریکی نے اسے بھی زنگ آلود کر دیا۔ میرے شہر چکوال میں کیا حماقت ہوئی، کہ جب موٹر وے تعمیر کی جانے لگی تو ریلوے لائن کو اکھاڑ دیا گیا۔ وہ لوہا کس بھٹی میں گیا ، خدا ہی جانتا ہے۔ اُس وقت ملک پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی ۔ ریلوے کی زمین پر بھی قبضہ ہو گیا، چنانچہ کوئی بھی بلٹ ٹرین چلانے سے پہلے کیا اس لوٹ مار کا حساب نہیں ہو جانا چاہیے؟

پس ِ تحریر: راجا پرویز اشرف نے ایک اچھا کام کیا تھاکہ اُنہوںنے چکوال سے مندرہ تک سڑک کی توسیع کا حکم دیا تھا۔ وہ کام بہت تیزی سے شروع ہوا، لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے رکوا دیا۔ اس وقت یہ سڑک موت کا کنواں بن چکی ہے، کیونکہ دونوں طرف سے سڑک گہری کھودی ہوئی ہے اور ہلکی سی غلطی سے انسان کبھی غلطی کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ کیا فاضل جج حضرات فیصلے پر نظر ِ ثانی کرتے ہوئے سڑک کی تعمیر کا حکم دیںگے ؟

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔  ٭

مزید : کالم