شکریہ پاکستان

شکریہ پاکستان
 شکریہ پاکستان

  

1992ء میں پاکستان کو بوجوہ خیر باد کہہ کر دیار غیر میں قطب شمالی پر واقع ایک فلاحی ریاست اور کم آبادی والے چھوٹے سے ملک ’فن لینڈ‘ میں جا بسیرا کیا تو پاکستان کے ساتھ محبت دوگُنا ہو گئی۔ اتنا عرصہ پاکستان سے دور رہنے کے بعدمیرا تجربہ ہے کہ ہم پاکستانی جب اپنے وطن کو چھوڑ کر باہر جا بستے ہیں تو ہماری حب الوطنی دو چند ہو جاتی ہے۔ہم اچھی بری ہر چیز کا موازنہ پاکستان کے ساتھ کرتے ہیں۔جہاں ہمیں ہماری گلیاں، محلے، سکول، کالج، دوستیاں، عزیز و اقارب یاد آتے ہیں وہیں ہم دیار غیر کے سماجی و ثقافتی نظام و انصرام اور سیاست کے ساتھ بھی اپنے وطن کا موازنہ ہر لمحے اورروزمرہ کی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے وطن کے بد عنوان سیاسی نظام، انفرادی سطح پر نفسانفسی، اجتماعی سطح پررشتوں کی پامالی، عام آدمی کی عزت و احترام، غیرت کے نام پر قتل، بنیادی انسانی حقوق، صحت و صفائی کے معاملات، لوڈ شیڈنگ، تعلیم کے یکساں مواقع، خواتین کے حقوق، کم عمر بچوں سے بیگار لینا ، جہیز کی لعنت ، نمود و نمائش کی زندگی، دولت کی ہوس، بے جا مہنگائی ، جرائم، اور دیگر بے شمار سماجی مسائل اوربرائیاں بہت آزردہ کرتی ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو لاشعوری طور پر ایک عام آدمی کو ذہنی مریض بنا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ، کم ناپ تول اور منشیات کے استعمال جیسی لعنتیں ہمیں دیگر ممالک خصوصاً یورپ و امریکہ میں نسبتاََ بہت کم نظرآتی ہیں۔ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی خواہش کرتے ہیں کہ کاش انہیں پاکستان کے اندر یورپ جیسی بنیادی سہولتیں میسر ہوں تو پاکستان سے باہر نہ جانا پڑے۔ یہ لوگ بیرونی ممالک میں آکر یہاں کیقوانین کا احترام کرتے ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں، سوچتے ہیں کہ اگر پاکستان میں بھی قانون کی عملداری اور پاسداری ہو تو وہ وہاں بھی اسی طرح ٹیکس ادا کریں جس کے بدلے حکومت انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔سوچتے ہیں کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ سوچتے ہیں کہ غریب آدمی بازار میں ٹھیلہ لگا کر روزی کمائے تو ناجائز تجاوزات کے قانون کے تحت پکڑا جاتا ہے، جرمانہ ادا کرتا ہے ، سزا کا حقدار ٹھہرتا ہے لیکن امیر آدمی کا بیٹا قتل کر کے بھی بچ نکلتا ہے۔ سوچتے ہیں کہ عام پاکستانی تو سرحدی قوانین کے تحت مخصوص رقم سے زیادہ ملک سے باہر نہیں لے جا سکتا لیکن دوسری طرف ایک ماڈل گرل لاکھوں ڈالر ملک سے باہر لے جاتی ہوئی گرفتار ہو جائے تو وہ مکھن سے بال کی طرح صاف نکل کر ملک سے با عزت باہر چلی جاتی ہے سوچتے ہیں۔ پاکستان سے باہر مقامی افراد ان سے پاکستان کے بارے میں تلخ سوالات کرتے ہیں اور انہیں ان لوگوں کے سامنے پاکستان کی صفائیاں پیش کرنی پڑتی ہیں۔ پاکستان کے دفاع کا مقدمہ لڑنا پڑتا ہے۔ یورپی ممالک میں کسی ممبر پارلیمنٹ کا قریبی رشتے دار ناجائز طور پر مراعات نہیں لے سکتا،وہاں تمام بچوں کو یکساں تعلیم کی سہولتیں میسر ہیں اور ہر امیر و غریب کے بچوں کے لئے ایک ہی نصاب ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں اور ان میں ملاوٹ نہیں، انہیں صحت کے اصولوں کے مطابق مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں بر وقت طبی سہولتیں موجود ہیں اور انہیں نقلی دوا نہیں دی جاتی، ان کے لئے بستر موجود ہیں، جبکہ ہمارے حکمران اپنی بیماری کی صورت میں فوراََ یورپ کا رخ کرتے ہیں اور ایک عام آدمی ہسپتالوں کے ٹھنڈے فرش پر اپنے لواحقین کے ہاتھوں میں ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر جاتا ہے۔ہم سوچتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟

یورپ و ترقی یافتہ ممالک میں ملاوٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے مرد و خواتین لمبی عمریں پاتے ہیں اور صحت مند زندگی جیتے ہیں۔ ہم پاکستانی دوسرے ممالک میں اپنے وطن کے حقیقی سفیر ہوتے ہیں۔ جو اپنے قول و فعل سے اپنے وطن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم باہر بیٹھ کر اپنے وطن کے حالات کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں اس فیصلے پر پہنچنے میں بہت آسانی ہوتی ہے کہ یورپ اور پاکستان میں انسانی بنیادی حقوق، ریاست کی طرف سے دی جانے والی سہولتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی میں کیا فرق ہے۔ہماری اشرافیہ سمندر پار کمپنیوں (آف شور) میں رکھے اربوں ڈالر کی مالک ہے،اشرافیہ حکومت تو پاکستان پر کرتی ہے لیکن انکے خاندان یورپ و امریکہ میں آباد ہیں، انکے کاروبار باہر ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے پاکستان ان کے لئے آف شور ہو۔

یہ پاکستان میں سیاست و اقتدار کا کھیل،کھیلتے ہیں۔ پاکستان پر حکمران طبقے محب وطن نہیں بلکہ عام پاکستانی ہیں جو عرب ممالک کے گرم موسم میں محنت مشقت کر کے پاکستان زر مبادلہ بھیجتے ہیں، اصل محب وطن وہ پاکستانی ہیں جو یورپ و قطب شمالی کے سرد ممالک میں منجمد درجہ حرارت میں محنت مشقت کرتے ہیں اور پاکستان رقم بھیجتے ہیں۔ ان کی رقم پر طرح طرح کے ٹیکس لگا کر حکومتیں انہیں پاکستان سے بدظن کر دیتی ہیں۔ یہ اشرافیہ پاکستان کو لوٹ کر خوش ہے اور کہتی ہے شکریہ پاکستان۔ ایک غریب دہقان اپنی جمع پونجی کے عوض، اپنی زرعی اراضی فروخت کر کے اپنی بیوی کے طلائی زیورات بیچ کر اپنے بچوں کو غیر ممالک میں کمائی کے لیے بھیجتا ہے ۔یہ دہقان اپنے طور پر کہتا ہے ، شکریہ پاکستان! میں سوچتا ہوں کہ ایک مزارعے کی بیٹی جب چلنا پھرنا سیکھتی ہے تو اسے حویلی کے برتن مانجھنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ وہ حویلی کی چودھرانی کی ڈانٹ ڈپٹ بھی سنتی ہے اور اپنی ہم عمر لڑکیوں کو سکول جاتے دیکھتی دیکھتی جوان ہو جاتی ہے۔ اس کی ماں اس کا جہیز نہیں بنا سکتی تو اسے قرآن کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے۔ اسی حویلی کے چودھری اسے بے عزت کرتے ہیں اور بعض اوقات اسے غیرت کے نام پر قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ میں سوچتا ہوں یہ بیٹی، اس کی ماں اور اس کا باپ پاکستان کا شکریہ کیسے ادا کرے؟

مزید :

کالم -