’لالہ، ہر چیز کی حد ہوتی ہے‘

’لالہ، ہر چیز کی حد ہوتی ہے‘
 ’لالہ، ہر چیز کی حد ہوتی ہے‘

  



جب حاجی احمد ملک کی زبان سے غصے میں یہ الفاظ نکلے تو مَیں آبکاری روڈ پہ واقع انارکلی ہوٹل میں بعد از نمازِ عشا اپنے مخصوص انداز میں مولوی کی نقل اتار رہا تھا۔ اسلوب علامہ اظہر حسن زیدی کا جن کے دھیمے پن کی مثالیں آج بھی دلوں پہ نقش ہیں۔ ابتدائی تدریس کے اُن دنوں میں، جو طالب علمانہ زندگی کی توسیع تھے، دوستوں کے کہیں بھی یکجا ہو جانے پر ہماری یہ محفل آرائی کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ اُس روز البتہ گُل نواز بلوچ، قیصر ذوالفقار بھٹی، طاہر یوسف بخاری اور چودھری اقبال کی دوستانہ تحسین کی بدولت میرے زورِ بیان میں سیالکوٹ والے مفتی حبیب احمد ہاشمی کا ترنم بھی گونجنے لگا۔ یوں زیدی صاحب کی آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے برعکس، سیالکوٹی خطابت کے مینوئل گئیر مجھے شعوری کوشش سے بدلنا پڑے۔ یہی ایک اجتہادی غلطی تھی کیونکہ ایک جگہ گیئر اچانک پھنسا اور حاجی احمد جوش میں آ گئے۔

ہمارے غیر رسمی جلسے کی کارروائی تو اردو میں تھی، مگر کیمسٹری کے لیکچرر اور بعد ازاں پیمرا کے ڈائرکٹر جنرل حاجی احمد ملک کے منہ سے پہلا جملہ میانوالی کے لہجے میں نکلا۔ ”لالہ، ہُن ایہہ بکواس بند کر۔ ہر چیز دی کوئی حد ہوندی اے۔“ حد تو واقعی ہوتی ہے، لیکن آدمی پوچھے کہ حد کراس کرنے کا کیا یہ پہلا موقع تھا؟ چند ہی دن پہلے ہم دونوں عید میلادالنبیؐ کی خوشی میں لوہاری دروازہ کے باہر دھمال ڈالنے کا مظاہرہ کر چکے تھے جسے اتفاق سے ہمارے گورنمنٹ کالج لاہور کے دو تین شاگردوں نے بھی دیکھ لیا۔ اب ہوٹل میں شوقیہ خطاب کے دوران ٹوکے جانے پر مَیں سٹپٹایا تو سہی، لیکن یکایک دوست کے مسلکی جھکاؤ کا خیال آ گیا۔ صورت حال کو معمول پہ لانے کی خاطر پوچھا: ”لالہ، تَیں مومن ایں؟“ جواب ملا: ”نئیں لالہ، مَیں منافق آں۔“

میرے ہمکار اور اُس دَور میں چوبیس گھنٹے کے ساتھی حاجی احمد ملک کے دوست گواہی دیں گے کہ اِس مکالمے کے ایک ایک لفظ پر ہمارے یار حاجی کے نام کی مہر لگی ہوئی ہے۔ بول چال میں ’لالہ‘ کی اہمیت سے ہر کوئی آگاہ تھا، لیکن ہمکلامی میں اِس لفظ کی مقبولیت کا سکہ حاجی احمد ہی نے جاری کیا۔ شروع شروع میں لالہ ملک، لالہ اقبال اور لالہ امین کے القابات سننے میں آئے۔ پھر اسی کے زیرِاثر سبھی لوگ حاجی احمد کو لالہ حاجی یا صرف لالہ کہنے لگے جیسے لالہ اُس کے نام کا حصہ نہیں، اُس کا رینک ہو۔ ایک بار مَیں نے کہا کہ جب کبھی بڑے عہدے پر لگو گے تو ماڈرن بننے کے لئے خود کو ایچ۔ اے۔ ملک یا ایم۔ایچ۔ احمد کر لینا۔ فرمانے لگے ”لالہ، ایچ۔ اے۔ ملک ٹھیک ہے، ایم۔ ایچ۔ احمد جھانواں لگے گا۔“

یہ چالیس سال پہلے کی بات ہے۔ اب گزشتہ بدھ کے روزنامہ ڈان پہ نظر ڈالی تو دل کی دھڑکن رک سی گئی۔ دوکالمی خبر ملاحظہ ہو: ”میانوالی: پیمرا کے سابق ڈائرکٹر جنرل حاجی احمد ملک منگل کو حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ وہ وزارتِ اطلاعات میں سینئر جوائنٹ سیکرٹری اور قائمقام سیکرٹری سمیت کئی اہم عہدوں پہ فائز رہے اور چند برس قبل ریٹائرمنٹ کے بعد میانوالی میں مقیم ہو گئے۔ حاجی احمد ملک گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم کے طور پر ایم ایس سی کیمسٹری میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ اسی مضمون کی تدریس سے وابستہ تھے کہ سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں شامل ہو گئے۔ حاجی احمد ملک کے پسماندگان میں اُن کی اہلیہ، ایک بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج دس بجے دن حاجی مخدوم قبرستان، میانوالی میں ادا کی جائے گی۔“

سینئر عہدے سے ریٹائر ہو کر وفاقی دارالحکومت سے آبائی شہر لوٹ جانے والا ہمارا لالہ کہیں دُور جا بسا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں اسلام آباد اور میانوالی، ایچ۔ اے ملک اور ایم۔ ایچ۔ احمد، لیکچرر کیمسٹری اور ڈی جی پیمرا کا درمیانی فرق معدوم ہو جاتا ہے۔ فرق تو پہلے بھی نہیں تھا، لیکن کئی حقیقی اور فرضی تضاد ہمارے دیکھتے دیکھتے زندگی کی پہلی اور دوسری ازدواجی اننگز کے وقفے میں ابھرے۔ اِس دوران پیشہ ورانہ مصروفیات کے سبب مَیں کوئی دس برس وطن سے باہر رہا۔ اِس لئے میرا کیمرہ حاجی احمد کے جو فریم آپ کے سامنے لائے گا اُن میں کلوز اپ کم اور وائیڈ اینگل کے شاٹ زیادہ ہیں۔ زمانی ترتیب سے چلوں تو پہلا فریم اولین ملاقات کا ہے جو حاجی کے پرانے ہم جماعت چودھری اقبال کی میزبانی میں اولڈ کیمپس کیفے ٹیریا میں ہوئی۔ ملاقات کیا تھی؟ بس حاجی احمد بولتا رہا، ہم سنتے رہے۔

دلچسپی کی پہلی بات یہ تھی کہ ہمارے ہی کالج میں انگریزی اور کیمسٹری کے تفاوت کے ساتھ میری ہی سینیارٹی کا ایک استاد مگر تن و توش مجھ سے ڈیڑھ گنا۔ دوسرے اندازِ تکلم کے جوش خروش اور باڈی لینگویج کے درمیان کوئی عجیب و غریب تعلق دکھائی دے رہا تھا۔ وقفے وقفے سے یہ دونوں عناصر کبھی ہم آہنگ ہو جاتے اور کبھی ایک دوسرے کی نفی کرنے لگتے۔ جیسے حاجی احمد نے ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر رفیق کار کو تھپڑ مارنے کا واقعہ سنایا۔ روئداد رونگٹے کھڑے کر دینے والی تھی، لیکن لگتا تھا کہ حاجی کا اپنا کوئی رونگٹا کھڑا نہیں ہوا۔ اچھے خاصے چوبیس پچیس سالہ جوان کے چہرے پر پرائمری اسکول والی معصومانہ مسکراہٹ تھی۔ کچھ ہی دیر میں لطیفے چلنے لگے مگر اب منہ ہے کہ مصنوعی غصے کا تاثر دے رہا ہے۔ مجھے ایک ہی کردار کے اندر کیفیتوں کی آنکھ مچولی دلکش لگی۔

یہ تو ہوا ابتدائی کلوز اپ۔ درمیانی فریم کی طرف بڑھیں تو مَیں اور میرے چھوٹے بھائی دانش ملک، جو کنگ ایڈورڈ میں داخل ہوئے تھے، کچھ دن آبکاری روڈ پر لالہ حاجی والے ہوٹل میں رہے۔ پھر وائی ایم سی اے ہاسٹل میں آ گئے، لیکن وہ جسے فارسی میں ملجا و ماویٰ کہتے ہیں، وہ تو انارکلی کو مال روڈ سے ملانے والی نکڑ پہ چینیز لنچ ہوم تھا۔ خالد حسن ہوتے تو کہتے ”شاہ جی، غریب پرور ہوٹل۔“ ماہانہ گاہکوں کے لئے گوشت کے سالن رعایتی فکسڈ پرائس پہ اور اضافی آئٹم اصل قیمت پر۔ حاجی اور مَیں کھانا کھانے بیٹھے ہیں تو ایک نے بالفرض بھنڈی گوشت اور دوسرے نے قیمہ آلو کا آرڈر دے دیا۔ اب دیکھا کہ خواجہ وقار عباس، صغیر حسین شاہ یا ضیا ڈار چلے آ رہے ہیں تو اسی آرڈر میں ایک پلیٹ شامی کباب یا دال ماش شامل کر لی، جس میں دال تڑکا اور دال مصالحہ کی آپشن ہمیشہ موجود تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کھانا بابرکت ہو جاتا۔

کسی کسی دن یہ برکتیں شام کی سیر میں نازل ہونے لگتیں۔ ہم دو تین دوست شام کی سیر کو نکلتے اور رفتہ رفتہ تعداد بڑھنے لگتی۔ گورنمنٹ کالج نیو ہاسٹل سے قیصر ذوالفقار بھٹی اور طاہر بخاری، اُن کے ساتھ پرویز مجید، تفویض قریشی اور شرجیل انظر، کبھی کبھار لا کالج سے فواد حسن اور زاہد مسعود، پھر ایک ایک کر کے اِن کے دوست اور دوستوں کے دوست۔ عید میلاد النبیؐ کی شب دھمال کی پرفارمنس کے بعد ایک سوزوکی پک اپ کو روک کر اجنبی ڈرائیور سے کہا کہ ہمیں پوری سرکلر روڈ کا چکر بھی لگوائے۔ نصف شب کے بعد نامعقولوں کی یہ پلٹن حاجی کی کمان میں گورنر ہاؤس کے عین سامنے پریڈ کر رہی تھی۔ کمانڈر نے ایک آرائشی محراب سے کیلے کا پودا اکھاڑ کر فوجی بینڈ کے روایتی قائد کے طور پر دونوں میں تھام رکھا تھا اور مقلدین باقاعدہ آوازیں نکال رہے تھے: ”ڈم نا ما، ڈم ناما، ڈم۔۔۔ ڈم نا ما، ڈم ناما، ڈم۔۔۔“

مُوڈ آ جائے تو حاجی احمد کے زیرِ قیادت سرگرمیوں میں ادبی مشاغل بھی شامل ہو جاتے۔ جیسے ایک سہ پہر ترنگ میں آکر انہوں نے کیمسٹری ڈپارٹمنٹ میں اردو مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا۔ یہاں وہ ماحول تو نہ تھا جو اورینٹل کالج سے مخصوص ہے۔ البتہ ویسا نیم خوشگوار شور شرابا ضرور مچا رہا جو آج کل ہر ادبی فیسٹیول کی پہچان بنتا جا رہا ہے۔ یہ دینی سبق تو ہمیں بچپن میں یاد کرا دیا گیا تھا کہ لوگوں سے اُن کی عقلوں کے مطابق بات کرو۔ سو، مشاعرے میں میری باری آئی تو ایک فی البدیہہ قطعہ کہا اور غزل سے پہلے پیش کر دیا۔ سب نے داد دی اور حاجی احمد تو یہ سوچ کر خوشی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ میرا اشارہ شاید ڈپارٹمنٹ کے لڑکے لڑکیوں کی طرف ہے۔ آپ بھی یہ چار مصرعے سُن لیجیے:

ادب نواز ہو محفل تو مدعا کہیے

جو بات دل میں کھٹکتی ہے برملا کہیے

سخن کی بحث چلی الکلی و ایسڈ میں

اِسے بھی شعبدہء علمِ کیمیا کہیے

چودہ پندرہ سال کے وقفے سے بی بی سی لندن میں میعاد پوری کر کے میری پاکستان واپسی ہوئی تو اوٹ پٹانگ شعروں پہ دل کھول کر داد دینے والے حاجی احمد اوٹ پٹانگ باتیں روکنے والے محتسبوں میں شامل ہو چکے تھے۔ مَیں اسلام آباد میں ایکرڈیشن کارڈ لینے کے لئے اُس وقت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر اشفاق گوندل کے پاس بیٹھا تھا کہ حاجی احمد کوئی فائل بغل میں دبائے کمرے میں داخل ہوئے۔ اب اشفاق گوندل لاکھ شریف النفس آدمی سہی، لیکن تھے تو افسر۔ اِس لئے حاجی احمد نے تپاک ظاہر تو کیا مگر ”لالہ، کیہہ حال اے؟“ کی آواز ذرا دبی دبی سی لگی۔ مَیں نے کہا: ”گوندل صاحب، انہیں کِس کام میں ڈال دیا ہے۔ اِن کا وظیفہ لگائیں اور مزے مزے کی باتیں سُنا کریں۔“ جواب ملا: ”قسم دے کے پوچھیں، وظیفہ ہی لگایا ہوا ہے۔“ مَیں نے سوچا ہر چیز کی حد ہوتی ہے، سول سروس نے کیمسٹری کے دل پسند استاد کو مونگ پھلی بنا کر رکھ دیا۔ کیا پتا انسانی زندگی کے علمِ کیمیا کی شعبدہ بازی یہی ہو۔

مزید : رائے /کالم