پاکستان میں کالے دھن کی بہتات

پاکستان میں کالے دھن کی بہتات
پاکستان میں کالے دھن کی بہتات

  



ماہرین معاشیات کی نظر میں کالا دھن عوام کا وہ روپیہ پیسہ ہے جو حکومتی اِداروں کی نظر سے اوجھل ہواور جس پر مروّجہ فارمولے کے مطابق ٹیکس نہ دیا گیا ہو۔ کالے دھن یا پوشیدہ دولت کی پیداوار کے کئی ذریعے ہو سکتے ہیں۔ کچھ ذرائع کالے دھن کی پیداوار کے مجرمانہ اور غیر انسانی ہیں اور کچھ ذرائع محض غیر قانونی ہیں۔ ناجائز اسلحہ کی فروخت، منشیات کی فروخت یا معاشرتی جرائم کے نتیجے میں جو سرمایہ پیدا ہوتا ہے وہ تو خالص مجرمانہ کالا دھن ہوتا ہے، لیکن ایسی رقم جو جائز دھندے سے کمائی جائے، لیکن اُس پر حکومتی ٹیکس نہ دیا جائے وہ غیر قانونی کالا دھن ہے۔ رشوت خوری یا فراڈ سے کمائی ہوئی رقم،ذخیرہ اندوزی یا جعلی اور ناخالص اشیاء کی فروخت سے کمایا ہوا روپیہ بھی معاشرتی جرائم کے زمرے میں آئے گا اور وہ بھی کالا دھن کہلائے گا۔ ٹیکس کی چوری سے یا جرائم سے کمایا ہوا کالا دھن، سماجی، معاشرتی بلکہ سیاسی بُرائیوں کو جنم دیتا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں تو ہر غیر اِخلاقی اور غیر انسانی کارروائی کا اِرتکاب دولت کمانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ایسی غیر قانونی دولت طبقاتی Divide (تقسیم) پیدا کرتی ہے۔ ایسی اِمارت جس کو حاصل کرنے کے لئے محنت نہ کی گئی ہو، وہ دولت کی مجرمانہ نمائش اور فضول خرچی کا باعث بنتی ہے۔ہمارا وہ طبقہ جسے مڈل کلاس کہتے ہیں، آہستہ آہستہ لوئر مڈل کلاس بنتا گیا، پھر غربت کی لکیر کو چھونے لگے گا، یعنی کالے دھن سے امیر بے تحاشہ امیر ہو جاتے ہیں اور غریب مزید غربت میں دھنستے چلے جاتے ہیں،جس معاشرے میں متوسط طبقہ ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے وہاں سے علم، فنونِ لطیفہ، ایجاد اور دریافت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

تمام دُنیا میں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ جس سماج میں متوسط طبقہ وسیع ہو گا، وہاں ہر قسم کی ترقی جنم لے گی۔ غریب آدمی تو اپنی دال روٹی کے محور سے باہر نہیں نکل سکتا،جبکہ امیر طبقہ ذہنی کا وشوں سے محروم ہوتا ہے۔ وہ اپنی دولت کے بَل بوتے پر بہترین دماغ خرید سکتا ہے اور توانا مزدور حاصل کر سکتاہے۔پاکستان کے بڑے تاجروں اور صنعت کاروں کا علمی معیار نہایت نچلے درجے کا ملے گا۔ پاکستان میں کالے دھن کا مالک ملک کی صنعتی ترقی میں حصہ ڈالنے کی بجائے اپنی سیاہ دولت بیرونِ ملک بھجواتا ہے، دبئی، سپین اور برطانیہ میں جائیدادیں بناتا ہے۔پاکستان میں بے نامی پراپرٹی خریدتا ہے۔ حکومتی اِدارے بھی کالے دھن کی کھپت کے لئے دانستہ سکیمیں بناتے ہیں۔ پرائزبونڈ کے اجرأ سے دراصل حکومت ِ پاکستان عوام کے کالے دھن کو بطور قرض اُٹھاتی ہے۔ کسی سے یہ سوال نہیں پوچھا جاتا کہ پرائز بونڈ خریدنے کے لئے تمہا رے پاس رقم کہاں سے آئی ہے؟ پرائز بونڈ کے ذریعے لیا ہوا قرض بجائے ترقیاتی منصوبوں میں لگنے کے سیاسی لٹیروں کی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ جوں جوں پاکستانی روپے کی قدر کم ہوتی رہی، اُسی طرح سے پرائز بونڈ کی قیمت 10 روپے سے بڑھ کر 40000 روپے ہو گئی اور یوں انعامی رقم بھی کروڑوں پر جا پہنچی۔ کالے دھن کو سفید کرنے کا ذریعہ حکومت ہی بن گئی۔ یہ مجرمانہ فعل پچاس سال سے جاری ہے۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(LDA) کی اوپن فائلیں بھی کالے دھن کو زمین میں دفنانے کے مترادف ہیں۔ پلاٹوں میں دفن شدہ کالا سرمایہ بڑھتے بڑھتے پانچ، چھ سال میں تگنا اور چوگنا ہو جاتا ہے۔اوپن فائل چونکہ بے نامی ہوتی ہے اِس لئے کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ اس فائل میں سرمایہ کاری کہاں سے آئی ہے اور کس نے کی ہے؟ جس ملک میں بلیک منی کی سرکاری سرپرستی ہو گی، وہاں ٹیکس جمع کرنے کا نظام ناقص اور ناکام ہو گا۔ حکومتی یا آئی ایم ایف کی سطح پر ٹیکس کے نظام کو وسیع کرنے کا زبانی جمع خرچ کتنا ہی ہو،پاکستان میں ٹیکس دھندہ نو فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان میں کالے دھن کی بہتات کا ایک اور بڑا ذریعہ ہے زرعی آمدنی پر ٹیکس نافذ نہ ہونا۔ بڑے بڑے صنعت کاروں نے زرعی اراضی کے وسیع و عریض رقبے خرید کر اُن پر Intensive کھیتی باڑی کا فراڈ رچایا ہوا ہے۔ Intensiveزراعت کا مطلب ہے کہ اراضی بڑے سائنسی طریقے سے کاشت ہو رہی ہے، اس لئے اس کی فی ایکڑ پیداوار عام کا شتکاری سے زیادہ ہے۔ ایسی اراضی کی فرضی اور کثیر پیداوار پر جو نقدی ملتی ہے، وہ ٹیکس سے مبّرا ہے۔ یہ فرضی آمدنی کالے دھن کو سفید کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کالے دھن کے روز بروز اضافے کا باعث مالی کرپشن بھی ہے۔ سرکاری اہل کار جو کام پہلے پانچ،دس ہزار میں کرتا تھا، اَب وہ لاکھوں مانگتا ہے۔ بڑا افسر کروڑوں مانگتا ہے۔ بہت بڑے پروجیکٹ کی منظوری کے لئے نوکر شاہی اور حکومتی سیاست دان مل کر اربوں روپے کی رشوت لیتے ہیں اور رشوت کی یہ رقم ڈالروں کی شکل میں کارندوں کے ذریعے اور ھنڈی کے ذریعے باہر بھجوا دی جاتی ہے۔ کتنا ظلم ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری آنے کی بجائے ہمارا سرمایہ باہر جا رہا ہے۔ دراصل آئین کی دفعہ 6 اِن کرنسی سمگلروں پر لگنی چاہئے، کیونکہ یہ مملکت ِ پاکستان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ مالی کرپشن اور پلاٹوں سے کمائی ہوئی دولت پر نہ ہی حکومت کو کچھ ملتا ہے (ٹیکس کی صورت میں)اور نہ ہی اللہ کا ٹیکس زکوۃٰ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ کالے سرمائے سے پیدا شدہ منافع کو دوبارہ اوپن فائل میں لگا دیا جاتا ہے، یوں غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ دولت میں مزیداضافہ ہوتا جاتا ہے۔کالے سرمائے کی پیداوار کا ایک اور بڑا ذریعہ خریداریوں پر اربوں روپے کا کمیشن ہے۔گذشتہ دِنوں آواز اُٹھی تھی کہ سندھ حکومت نے پولیس کی بکتر بند گاڑیوں پر 14 کروڑ روپے فی گاڑی کمائے ہیں یا کمانے والی ہے۔

ایسی بکتربند گاڑیاں چالیس کے قریب آنی تھیں۔ اندازہ لگالیں کہ ایک ہی سودے میں کتنے ارب روپے غیر قانونی ہو گئے۔یقینا یہ سرمایہ بھی پاکستان سے باہر چلا جاتا اور ہمارا سرکاری خزانہ مزید خالی ہو جاتا۔

دراصل کالا سرمایہ سماجی اور معاشرتی تباہی پھیلانے کا سبب بنتا ہے، چونکہ یہ روپیہ آسانی سے حاصل شدہ ہوتا ہے، اس لئے اسے تعیشات پر بے دریغ خرچ کیا جاتا ہے۔ لاہور میں ایسے ریسٹو رنٹ بھی ہیں،جہاں فی کس کھانا fixed menu کے حساب سے چار ہزار روپے کا ملتا ہے۔ لاہور میں مردانہ ڈیزائنر مغربی لباس ڈیڑہ لاکھ سے تین لاکھ تک میں ملتا ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں ڈیزائنر ملبوسات، گھڑیوں، زیورات، کاروں اور پرفیومز کی بہتات اِن کالے دھن والوں کی وجہ سے ہی ہے۔ اِن کے نوجوان بچے اِن مہنگے سودوں کے گاہک ہوتے ہیں۔ اِن لوگوں کی اولادیں ہی آسمان کو چھوتی ہوئی فیسوں والے سکولوں میں داخلہ لیتی ہیں۔ اِن لوگوں کی شادیوں میں شمولیت کرنے کا مجھے اتفاق ہوا ہے۔ 7000 روپے فی مہمان والی شادی تواِن کے ہاں عام ہے۔ حیرت اور شرم کی بات یہ ہے کہ ہر قسم کے مغربی مشروبات اِن شادیوں میں کھلے عام میّسر ہوتے ہیں۔ ایسی شادیوں میں جج، اعلیٰ پولیس افسر، بڑے قانون دان، فیڈرل سیکرٹری اور سیاسی حکمران خوشی خوشی شامل ہوتے ہیں۔

ایسی لشکارے مارتی ہوئی شادیاں ہمارے متوسط اور غریب طبقے میں احساسِ محرومی تو پیدا کرتی ہی ہیں، دولت کی ایسی مجرمانہ نمائش غریب نوجوانوں کو باغی بناتی ہے، وہ اپنے آپ کو نا انصافیوں کا شکار سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے وہ لاقانونیت پر اُتر آتے ہیں۔ دراصل کالے دھن کا تصور صنعتی اِنقلاب کی آمد سے شروع ہوا۔ اس سے پیشتر معیشت کا انحصار زراعت اور تجارت پر تھا۔ اُس وقت کے حکمران اپنی اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے زرعی رقبے پر مالیانہ لیتے تھے اور تجارت پر ایک قسم کی کسٹم ڈیوٹی لیتے تھے، چونکہ معیشت پیچیدہ نہیں تھی اور تجارت بھی کھلے عام تھی،اس لئے ٹیکسوں کی بھرمار نہیں تھی اور سمگلنگ کا تو ابھی رواج آیا ہی نہیں تھا۔ بڑا ہی خفیف درآمدی مال ایسا ہوتا ہو گا، جس پر کسٹم ڈیوٹی چوری کی جاتی ہو گی۔بادشاہتوں کے زمانہ میں کرپشن کی قسم اور ہوتی تھی۔ کوئی وزیر یا فوج کا سپہ سالار اپنے بادشاہ سے غداری کر کے جو دولت رشوت میں حاصل کرتا تھا، وہ زیادہ تر ہیرے جواہرات یا سونے کی شکل میں ہوتی تھی، اس رشوت کا پھیلاؤ سماج تک نہیں پہنچتا تھا۔ ہندوستان میں جب انگریزی راج آیا تو وہ اپنے ساتھ برطانیہ کا مروّجہ ٹیکس کا نظام بھی لایا۔ ہندوستانی عوام جو صرف مالیانے کو بطور ٹیکس جانتے تھے، اُن کے لئے انگریز کا دیا ہوا ٹیکس کا جامع نظام اجنبی تھا۔ انگریز نے جب نہری نظام بنایا تو آبیانے کی شکل میں زرعی ٹیکس کی ایک اور قسم بھی وصول کرنا شروع کر دی۔

پاکستان بننے تک بلیک مارکیٹ کا رواج آچکا تھا۔ دوسری جنگ ِ عظیم کی وجہ سے اشیائے ضرویات کی طلب کے مطابق رسد کم ہو گئی تھی۔ ہندو تاجروں نے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی۔ حکومت نے اُن اشیائے ضروریات مثلاً آٹا، چاول، چینی، یہاں تک کہ کپڑے کی راشن بندی کر دی۔ رسد کی کمی اور ذخیرہ اندوزی نے بلیک مارکیٹ کو جنم دیا، لیکن اس بلیک مارکیٹ سے کالے دھن کی اِتنی بے تحاشہ فراوانی نہیں ہوئی، عمومی طورپر ہمارے معاشر ے میں ابھی سادگی پسندی تھی۔ پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعے فیشن کی چکاچوند بھی نہیں آئی تھی۔چمکتی اور قیمتی کاروں کی بھی بہتات نہیں تھی،ابھی آبادی کا زیادہ ترحصہ محلوں میں رہتا تھا،جہاں ہر کوئی اپنے ہمسائے کو اچھی طرح جانتا تھا۔اِس لئے اچانک امارت یا دولت مندی لوگوں کی نظروں میں آ جاتی تھی، اَب تو بڑے اور بنگلہ نما گھروں میں کوئی بھی مالی کرپشن ہو، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ کچھ ہم لوگ بھی بے حس ہو گئے ہیں۔ ہمارے سامنے ہی اُونچے اور عالیشان معیار والی رہائشی کالونیاں بن گئیں،جہاں کالے دھن کی وجہ سے شاندار تعمیرات ہو رہی ہیں۔

اب ہم اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتے۔ محلے داری کی شرم جو ہمیں کرپشن سے روکتی تھی،اب عنقا ہوتی جا رہی ہے۔ آج سے صرف پچاس سال پہلے ہمارے ہاں عزت، شرافت اور بڑے پن کا معیار دولت کی فراوانی نہیں تھا۔ اُس وقت حسب ونسب، علمیت اور خاندانی پس منظر عزت کے معیار ہوتے تھے۔ آج کے دور میں تیزی سے امیر ہوتے ہوئے لوگ زیادہ توقیر کے مستحق ہوگئے ہیں۔ دولت کی ہوس نے کالے سرمائے کی آبیاری کی اور آج ہمارا معاشرہ ناجائز دولت کے حامل انسانوں کو زیادہ عزت دیتا ہے۔ ہماری ہر حکومت ٹیکسوں کی وصولی میں ناکام رہی۔ نتیجتاً کالا دھن نہ صرف زیادہ ہوتا گیا،بلکہ وہ ہنڈی اور کرنسی سمگلنگ کی وجہ سے ملک سے باہرجانا شروع ہو گیا۔ ملک مزید غربت کا شکار ہو گیا۔ حکومت بجائے Flight of Capitalکو روکتی اور اپنے اخراجات پورے کرتی، اُس نے مزید بلاواسطہ ٹیکس لگانے شروع کر دیئے،جس کا اثر غریب پر زیادہ پڑا۔ ایسے غیر منصفانہ ٹیکس کے نظام سے ہر حکومت عوام میں غیر مقبول ہو جاتی ہے۔ عوام بالاخر ملک میں مارشل لاء کی خواہش کرنے لگتے ہیں،حالانکہ مارشل لاء بھی عوام کے مالی دُکھوں کا مداوا نہیں کر سکتا۔

مزید : رائے /کالم