حلال کی روزی

حلال کی روزی
حلال کی روزی

  

گزشتہ ہفتے مَیں اورئنیٹل کالج (پنجاب یونیورسٹی) گیا تو دفتر شعبہ فارسی نے مجھے فیکلٹی علوم شرقیہ کی طرف سے شائع ہونے والے سہ ماہی تحقیقی ”مجلہ ئ تحقیق“ کا تازہ شمارہ عنایت کیا۔اس کے ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر ہیں۔مذکورہ شمارے میں کل سات مقالات شامل ہیں،جن میں سے نازیہ لطیف اور ڈاکٹر اقبال شاہد کی مشترکہ کاوش بعنوان ”تذکرہ الشیخ الخدم“ نے میری توجہ کھینچ لی۔ اس مقالہ میں لاہور کے ایک سہروردی سلسلے کے صوفی بزرگ شیخ حسّو تیلی کے احوال پڑھ کر عرفانی مسرت نصیب ہوئی۔ مَیں نے چاہا کہ قارئین کو بھی اس مسرت میں شریک کر لوں۔فاضل مقالہ نگاران نے کئی ذرائع سے جو معلومات جمع کی ہیں ان کے مطابق شیخ حسّو کا اصل نام تو حسن تھا، مگر شہرت ”شیخ حسّو تیلی“ کے نام سے ملی۔ پہل پہلے وہ کئی سال گورو گورکھ ناتھ کی صحبت میں بیٹھتے رہے،پھر یہی شوق درویشی انہیں حضرت شاہ جمال لاہوریؒ کے دروازے پر لے گیا اور بیعت سے مشرف ہوئے۔اس وقت آپ گندم بیچتے تھے۔

ایک دن مرشد کی خدمت میں اپنی تنگی ترشی کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا:”برابر تولا کرو“۔ چنانچہ اس دن سے انہوں نے اپنا یہ دستور مقرر کیا کہ ترازو اور سنگ ترازو (باٹ) مع غلہ دکان میں رکھ چھوڑتے،خریدار تول کر خود لے جایا کرتے تھے، جو زیادہ لے کر جاتا تھا، اس کا غلہ گھر جا کر کم ہو جاتا اور جو پورا لے جاتا تھا اس کا زیادہ ہو جاتا۔کافی مدت آپ نے یہ طریقہ جاری رکھا۔پھر خدا کے فضل سے اس قدر برکت ہوئی کہ سنگ ترازو سونے کے بنوا لیے۔ایک دن یہ باٹ لے کر شاہ جمالؒ کی خدمت میں گئے اور عرض کیا کہ آپ کی توجہ سے اس قدر کشائش اور برکت ہوئی ہے کہ سنگ ترازو بھی سونے کے بنا لیے ہیں۔انہوں نے فرمایا انہیں لے کر دریائے راوی میں پھینک دو۔حسب الحکم فوراً دریا پر گئے اور وہ سنہری باٹ دریا میں ڈال دیئے۔دو روز بعد دیہات سے غلہ فروش لاہور آتے ہوئے،دریا پر سے گزرے تو وہ سنہری باٹ ان کے پاؤں کے نیچے آ گئے۔اُن کو معلوم تھا کہ باٹ شیخ حسن کے ہیں۔لہٰذا انہوں نے لا کر انہیں دے دیئے۔ شیخ حسن پھر یہ باٹ شاہ جمالؒ کے پاس لے گئے کہ دریا سپرد کئے ہوئے پھر میرے پاس آ گئے ہیں۔ شاہ صاحب نے فرمایا، یہ تیری راستی کا امتحان تھا۔ جب تُو نے کم تولنا چھوڑ دیا تو مال میں برکت آئی،جو مال حلال ذریعے سے حاصل ہوتا ہے، وہ ضائع نہیں ہوتا۔

بعد میں آپ نے کولہو لگا لیا اور تیلی مشہور ہوئے۔تیلی برادری کے لوگ ان کو اپنا پیر تسلیم کرتے ہیں۔آپؒ کا وصال 3شوال 1011ھ 1602/ء بعہد جلال الدین اکبر ہوا۔ آپ کا مزار لاہور میں ایبٹ روڈ پر محفل سینما کے عقب میں واقع ہے۔لوہاری دروازہ کے اندر چوک جھنڈا میں آپ کی دکان اور گھر تھا۔ گردو نواح کے لوگ اب بھی جمعرات کو یہاں چراغ جلاتے ہیں۔مادھو لال حسین لاہوری سے انہیں کمال محبت تھی۔فرمایا کرتے تھے:”حسو حسین اور حسین حسو ہے، دوئی باقی نہیں ہے!

انہی شیخ حسّو کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے مولوی عبداللہ عبدیؒ کو اشارہ ہوا۔ اس وقت عبدی ساہی وال میں بکریاں چراتے تھے۔ اشارہ ملتے ہی اُٹھے اور شیخ کی خدمت میں لاہور پہنچ گئے۔ انہی عبدی کا ذکر حضرت میاں محمد بخشؒ نے اپنی کتاب ”سیف الملوک“کے آخری صفحات میں کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ عبدی آٹا پیستے تھے۔ ایک دن کوئی فقیر دروازے پر آیا تو آپ نے اُسے خیرات دی۔ وہ فقیر بولا، یہ آپ کے کپڑوں پر گرد وغیرہ کیا ہے؟ فرمایا مَیں نے آٹا پیسنے کی چکی لگا رکھی ہے۔ فقیر نے کہا، آپ کو ایک وظیفہ بتاؤں، آپ کریں تو غیب سے کچھ پیسے مل جایا کریں گے،آپ کو اس مشقت سے نجات مل جائے گی۔بچوں نے عبدی سے کہا،ابا جان!آپ ان سے وہ وظیفہ پوچھ لیں! آپ نے فقیر کو جواب دیا، مَیں اپنے ہاتھوں کی کمائی پر یقین رکھتا ہوں، مجھے ایسے کسی وظیفے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہی مولانا عبدی نے پنجابی میں نظم کی صورت میں بارہ فقہی رسالے لکھے ہیں، جن کے مجموعہ کا نام ”باراں انواع“ ہے۔ ماضی قریب تک ”باراں انواع“ ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہی فقیروں، درویشوں کی وجہ سے تاریخ پنجاب کے صفحات جگمگا رہے ہیں!

مزید :

رائے -کالم -