سرعام پھانسی دینے کی قرار داد بے سود، نتائج منفی ہوں گے

سرعام پھانسی دینے کی قرار داد بے سود، نتائج منفی ہوں گے

  



تجزیہ؛ سعید چودھری

قومی اسمبلی نے بچوں کو بد اخلاقی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد جمعہ کے روزمنظور کر لی،پیپلز پارٹی،وزارت انسا نی حقوق اور کئی وزراء کی طرف سے قرار داد کی مخالفت کی گئی،کیا اس قرار داد کے بعد بچوں کو بداخلاقی کے بعد قتل کرنے والے مجرموں کو سر عام لٹکایا جا سکے گا؟اس سلسلے میں ہماراآئین اور ملکی قوانین کیا کہتے ہیں؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس قرارداد کی حیثیت قانون کی نہیں،اسے محض ایک مطا لبہ یا رائے کہا جا سکتا ہے جس پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا۔ہمارا دستور انسانی حرمت اور وقار کا ضامن ہے۔سپریم کورٹ کے ایک حکم کے مطابق سر عا م پھانسی کے قانون پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکتا جبکہ یہ تو ایک قرارداد ہے۔

پاکستان کا آئین،فوجداری قوانین اور سپریم کورٹ کا فیصلہ سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتا۔1994ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ،جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس سعد سعود جان،جسٹس عبدالقدیر چودھری اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل لارجر بنچ سرعام پھانسیوں کیخلاف ازخود نوٹس کیس میں قراردے چکا ہے کہ کسی مجرم کو سرعام پھانسی دینا آئین کے آرٹیکل 14(1) کے منافی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت ہرانسان کی حرمت او ر و قا ر کی ضمانت دی گئی ہے،1990ء کی دہائی میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان نے سپیڈی ٹرائل کی خصوصی عدالتوں کے قانون مجریہ 1992 ء کے تحت سرعام پھانسیوں کے معاملے پر از خود نوٹس لیا تھا اور 6فروری 1994ء کو مذکورہ لارجر بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ سنایا تھا۔اس وقت کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ممتاز علی مرزا نے عدالت کو حکومت کی طرف سے یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ کسی شخص کو سرعام پھانسی نہیں دی جائے گی،جس پر یہ از خود نوٹس کیس نمٹا دیا گیا تھا۔سپیڈی ٹرائل کی خصوصی عدالتوں کا ایکٹ مجریہ1992ء ملکی تاریخ کا واحد قانون تھا جس کے سیکشن10میں حکومت کسی شخص کو پھانسی دینے کیلئے جگہ کا تعین کرنے کا اختیار دیا گیا تھا،اس قانون کے تحت حکومت کو اختیار تھا کہ مجرم کو پھانسی دینے کیلئے جیل سے باہرکسی بھی چوراہے یا میدان کا تعین کرسکتی تھی،سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے بعد اس قانون کے تحت بھی سرعام پھانسیاں روک دی گئی تھیں،اب یہ قانون بھی تحلیل ہوچکا ہے۔ملک میں اس وقت کوئی ایسا قانون رائج نہیں جو سرعام پھانسی کی اجازت دیتا ہو،جبکہ سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کیس میں دیا گیا فیصلہ ابھی تک نافذالعمل ہے۔اس بابت 1994ء ایس سی ایم آر 1028کو حوالہ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔قصور کی معصوم بچی زینب کے کیس میں بھی مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا،اس سلسلے میں اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیاتھا، تاہم ایسی درخواستیں اس بنیاد پر مسترد کردی گئیں کہ کسی قانون کے تحت کسی مجرم کو سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی،ماضی میں 100بچوں کے قاتل جاوید اقبال کو ٹرائل کورٹ نے مینار پاکستان پر پھانسی دینے اور اس کے 100ٹکڑے کرکے تیزاب میں ڈالنے کا جو حکم دیا تھا اس پر بھی اعلیٰ عدالتوں نے عملدرآمد روک دیا تھا جبکہ سرعام پھانسی اور قاتل کے ٹکڑے کرکے تیزاب میں ڈالنے کے عدالتی فیصلے کو غیر منطقی قراردینے کی آبزرویشن دی تھی،دسمبر 2019ء میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کے سربراہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس وقار احمد سیٹھ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی نعش کو گھسیٹ کر ڈی چوک اسلام آباد میں لانے اور اسے 3دن تک لٹکائے رکھنے کا فیصلہ دیا تو اس سے بنچ کے دوسرے رکن مسٹر جسٹس شا ہد کریم نے عدم اتفاق کرتے ہوئے قراردیا کہ ایسا کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے،ایسا حکم عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز ہوگا،حالانکہ جسٹس شاہد کریم نے بھی پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قراردے کر انہیں سزائے موت کا حکم سنایاتھا۔یورپ میں تو سزائے موت پر ہی پابندی ہے، پا کستان پر بھی اس پابندی کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،ان ممالک میں مقیم ہمارے سنگین مقدمات میں ملوث ملزموں کی واپسی کی راہ میں بھی سزائے مو ت کو رکاوٹ بیان کیا جاتا ہے،قومی اسمبلی کی قرار داد سے مطلوبہ نتائج تو حاصل نہیں ہوں گے لیکن پاکستانیوں کی شدت پسند قوم کے طور پر تصویر کشی کرنیوالوں کے ہاتھ ایک اور دلیل لگ جائے گی اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تجزیہ، سعید چودھری

مزید : تجزیہ