اردو ادب کا درخشندہ ستارہ ۔احمد ندیم قاسمی

اردو ادب کا درخشندہ ستارہ ۔احمد ندیم قاسمی
اردو ادب کا درخشندہ ستارہ ۔احمد ندیم قاسمی

  

احمد ندیم قاسمی کانام پاکستان کے ترقی پسند شاعر ،ممتاز افسانہ نگارسعادت حسن منٹو کے ہم عصر سمجھا جاتا ہے ۔ اردو ادب کے درخشندہ ستارے تھے جنہیں انسانی فطرت کے عین مطابق لفظوں سے سے کھیلنے کا خوب ہنر آتا تھا ۔احمد ندیم قاسمی جنہوں نے نئی نسل کی آبیاری کی اور ہمیشہ معاشرے کی اصلاح کرتے رہے جبکہ آپ کانام علم و ادب کی دنیا میں ایک معتبر ،ایک استاد کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔بے شمار کتب تصنیف کیں اور ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔ آپ نے افسانے اور غزل کے حوالے سے بہت زیادہ شہرت حاصل کی۔احمد ندیم قاسمی کو ہم سے جدا ہوئے14برس بیت گئے ہیں ۔آج ان کی برسی منائی جار ہی ہے ۔

احمد ندیم قاسمی مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گا¶ں انگہ ضلع خوشاب میں 20نومبر1916ءکو پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔جب کہ ندیم ان کا تخلص تھا۔اپنے پردادا محمد قاسم کی رعایت سے ”قاسمی“ کہلائے، آپ کے والد پیر غلام نبی اور والدہ غلام بی بی تھیں۔آپ کے والد پیر غلام نبی مرحوم اپنی عبادت، زہد اور تقویٰ کی وجہ سے اہل اللہ میں شمار ہوتے تھے۔ ندیم کی ابتدائی تعلیم گا¶ں میں ہوئی۔ 1920ءمیں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ 1923ءمیں والد کے انتقال کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے۔ وہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا۔ 1921ءمیں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ءمیں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ءصادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہو گئے جہاں سے 1935ءمیں بی اے کیا۔

قاسمی صاحب کی ابتدائی زندگی کافی مشکلات بھری تھی۔ جب وہ اپنے آبائی گا¶ں کو خیرباد کہہ کر لاہور پہنچے تو ان کے گزر بسر کا کوئی سہارا نہ تھا۔ کئی بار فاقہ کشی کی بھی نوبت آ گئی لیکن ان کی غیرت نے کسی کو اپنے احوال سے باخبر کرنے سے انہیں باز رکھا۔ انہی دنوں ان کی ملاقات اختر شیرانی سے ہوئی۔ وہ انہیں بے حد عزیز رکھنے لگے اور ان کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ قاسمی صاحب اختر شیرانی کی شاعری کے گرویدہ تو پہلے ہی سے تھے، ان کے مشفقانہ رویے نے قاسمی صاحب کو ان سے شخصی طور پر بھی بہت قریب کر دیا۔ اختر شیرانی رند بلانوش تھے لیکن ان کے ساتھ خاصا وقت گزارنے کے باوجود قاسمی صاحب نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ان کی طبیعت میں لاابالی پن آیا۔ اس سے ان کے مزاج کی استقامت اور اپنے آپ پر قابو رکھنے کی ان کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اختر شیرانی کی شاعری اور شخصیت سے قاسمی صاحب کا لگا¶ آخر تک رہا۔

اسی دوران احمد ندیم قاسمی کی ملاقات امتیاز علی تاج سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنے ماہانہ رسالے پھول کی ادارت کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ پھول بچوں کا رسالہ تھا۔ اس کی ایک سالہ ادارت کے زمانے میں قاسمی صاحب نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں جو بچوں میں بہت پسند کی گئیں۔1936ءمیں ریفارمز کمشنر لاہور کے دفتر میں بیس روپے ماہوار پر محرر کی حیثیت سے ملازم ہوئے اور ایک سال تک یہیں کام کرتے رہے۔اس دوران ایکسائز سب انسپکٹر کے طور پر ملازمت کی۔1939ءمیں محکمہ آبکاری میں ملازم ہو گئے۔ 1942ءمیں مستعفی ہو کر لاہور چلے آئے۔ تہذیب نسواں اور پھول کی ادارت سنبھالی 1943ءمیں (ادب لطیف) کے ایڈیٹر مقرر ہوئے 1945ءمیں ریڈیو پشاور سے بحیثیت اسکرپٹ رائٹر وابستہ رہے تقسیم کے بعد ڈیڑھ سال ریڈیو پشاور میں ملازم رہے۔1948ءمیں ریڈیو پاکستان کی ملازمت چھوڑ دی اور واپس لاہور چلے آئے یہاں انہوں نے ہاجرہ مسرور کے ساتھ مل کر ایک نئے ادبی رسالے ”نقوش“ کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک کامیاب رسالہ ثابت ہوا۔قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتداء1931ءمیں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہ ہی نہیں بعد میں بھی 1934ءاور 1937ءکے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انہیں عالمِ نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

1941ءمیں ہفت روزہ ’پھول ‘1943ء’تہذیبِ نسواںماہنامہ ادبِ لطیف1947ءمیں ماہنامہ سویرا(چار شماروں)1950ءمیں ماہنامہ ”سحر“ لاہور (ایک شمارہ)1953ءمیں روزنامہ ”امروز“ لاہور کی ادارت1964ءسے ماہنامہ ”فنون“ کی ادارت1952ءمیں روزنامہ ’امروز‘ لاہور میں کالم ”حرف و حکایت“ لکھتے رہے ۔روزنامہ ’امروز‘ لاہور اخبار کے ایڈیٹر بن جانے پر کالم ”پنج دریا“ بھی لکھتے رہے۔1959ءمیں امروز سے الگ ہونے پر روزنامہ ہلالِ پاکستان میں ”موج در موج“ اور ’پنج دریا‘ کے نام سے فکاہیہ کالم نویسی۔1964ءمیں روزنامہ ”امروز“ لاہور میں کالم ”حرف و حکایت“ کی شروعات کی مگر پنج دریا کی بجائے نام ”عنقا“ رکھ لیا۔1970ءکے دوران“روزنامہ جنگ“ کراچی میں کالم ”لاہور۔ لاہور ہے۔“پھر جنگ کو چھوڑ کر روزنامہ حریت کراچی میں فکاہیہ کالم ”موج در موج“ اور ہفتہ وار کالم ”لاہوریات“ پیش کرتے رہے۔اپریل 1972ءمیں دوبارہ امروز میں وہی کالم لکھنے لگے۔1964ءسے امروز لاہور میں ادبی، علمی اور تہذیبی موضوعات پر ہر ہفتے مضامین لکھتے رہے۔ہاجرہ مسرور سے مل کر (نقوش) کی ادارت سنبھالی اور امروز سے بھی وابستہ رہے۔ حرف و حکایت والا کالم عنقا کے قلمی نام سے لکھتے رہے۔(فنون) ادبی پرچہ ان کے زیر نگرانی نکل رہا تھا۔

بے شمار کتب تصنیف کیں اور ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔ افسانے اور غزل کے حوالے بہت شہرت حاصل کی۔پہلا شعراحمد ندیم قاسمی نے 1926ءمیں پہلا شعر کہاجبکہ پہلی مطبوعہ تخلیقات میںپہلی نظم 1931ءمیں مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر کہی جو روز نامہ ’سیاست‘ لاہور میں چھپی۔ پہلا شعری مجموعہ 1942ءمیں اردو اکیڈمی لاہور سے اور پہلا افسانوی مجموعہ 1939ءمیں شائع ہوا۔1936 میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کے بعد قاسمی صاحب نے اس انجمن سے وابستگی اختیار کر لی تھی۔ وہ انجمن کے سکریٹری بھی رہے لیکن آگے چل کر جب انجمن نظریاتی تشدد پسندی کا شکار ہوئی تو قاسمی صاحب نے اس کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

مطبوعات میں جوافسانوی مجموعے شامل ہیں۔چوپال،بگولے،طلوع و غروب ،گرداب،سیلاب ،آنچل،آبلے،تین طویل کہانیاں،آس پاس،در و دیوار،سناٹا ،بازارِ حیات،برگِ حنا ،سیلاب و گرداب ،گھر سے گھر تک،کپاس کا پھول ،نیلا پتھر،کوہ پیما ،پت جھڑ،اس راستے پر،جبکہ شاعری میںدھڑکنیں،رِم جھم ،جلال و جمال ،شعل گُل،دشتِ وفا ،محیط،دوام،لوح خاک،ارض و سمائ(آخری مجموعہ کلام)بسیط شامل ہے ۔ ان کی دیگر کتب میں ندیم کی نظمیں،ندیم کی غزلیں،احمد ندیم قاسمی کی منتخب نظمیں(ڈاکٹر ناہید قاسمی)۔ندیم بیت بازی،انوار جمال(حمد، دعا،نعت،سلام)تحقیق و تنقید ۔تہذیب و فن ،ادب اور تعلیم کے رشتے ،علامہ محمد اقبال ،میرے ہم قدم (شخصی خاکے) کیسر کیاری(فکاہی کالم اور مزاحیہ مضامین) شامل ہیں ۔

احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006ءکو مختصر علالت کے بعد حرکت قلب بند ہونے سے قریبا 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہفتہ 8 جولائی کو انہیں سانس کی تکلیف کے باعث لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کروایا گیا جہاں انہیں عارضی تنفس فراہم کیا گیا تھا، لاہور ہی میں ملتان روڈ پر ملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ احمد ندیم قاسمی کو ہم سے بچھڑے 14برس بیت گئے لیکن علم و ادب سے محبت رکھنے والوں کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -