پاکستان کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟

پاکستان کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟
پاکستان کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟

  

روزِ اول سے ہی میری یہ خواہش ہے کہ پاکستان دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں کی قطار میں شامل ہو جائے، ایسا کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے جہالت کو ختم کرنا ہوگا۔ ہر شہری کے لئے بامقصد تعلیم کا حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ گاو¿ں گاو¿ں اور شہر شہر لاکھوں سکول کھولنے ہوں گے۔ اس کے بعد قانون سازی کی بدولت قوم کے بچوں کو100 فیصد درس گاہوں میں داخل کرنا ہوگا۔ دفاع کے بعد تعلیم کو اولیت مل جائے گی۔ قومی بجٹ کا کم از کم7 فیصد تعلیم کی مد پر خرچ ہوگا۔ اساتذہ کو زندگی میں اعلیٰ مقام دیا جائے گا۔ تمام شہریوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اساتذہ کا دل کی گہرائی سے احترام کریں گے۔ اُن کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں معقول اضافہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں تمام اساتذہ کو”وی آئی پی“ کا مقام عطا کیا جائے گا۔ ایسا کرنے سے ہی قوم کے بہترین دماغ محکمہ تعلیم میں شامل ہونے پر فخر محسوس کریں گے۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے ہماری قوم ترقی کی منزل کی طرف چل پڑے گی۔ اس قسم کے کام ہمیں کم از کم پانچ سال میں مکمل کرنا ہوں گے۔ ہم پہلے ہی اپنا انتہائی قیمتی وقت ضائع کر چکے ہیں۔ مزید وقت ضائع کرنا خودکشی کے برابر ہوگا۔

 چین، کوریا، سنگا پور، ملائیشیا وغیرہ کی شاندار مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تمام تر مشکلات کے باوجود ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کو وسیع پیمانے پر حاصل کرنا ہوگا۔ ان جدید علوم کو حاصل کئے بغیر ہم کبھی بھی کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکیں گے، ہمیشہ کے لئے تاریک کنوو¿ں میں پڑے رہیں گے۔ ایک دوسرے کا قتل عام کرتے رہیں گے۔ اپنے ملک اور قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے چلے جائیں گے۔ آخر کار ہماری آزادی کو بھی بے شمار خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ یہ کام ہمیں قومی تحریک کی شکل میں مکمل کرنا پڑے گا۔ پاکستان کی تمام جیلوں میں قیدیوں کو لازمی تعلیم دینا ہوگی۔ اس تحریک میں وہ قیدی بھی شامل ہوں گے، جن کو قتل کے مقدمات میں سزائے موت کے احکام ہو چکے ہیں۔ تعلیم بالغاں کا آغاز بھی ملک کے کونے کونے سے کیا جائے گا۔ جہالت کو ایک مکروہ قسم کا جرم قرار دیا جائے گا۔ ہم سب چھوٹے بڑے پاکستانی ہیں۔ ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

1947ءمیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ انتہائی قلیل تعداد میں سکول اور کالج تھے۔ صرف ایک پنجاب یونیورسٹی تھی۔ آج پاکستان میں تعلیمی اداروں کا جال بچھ چکا ہے، اس کے باوجود ابھی تعلیم کے میدان میں بہت کام کرنا باقی ہے۔ ہمارے گاو¿ں تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ آئندہ پانچ برسوں میں ہمیں تعلیم کے میدان میں 100 فیصد ہدف حاصل کرنا ہوگا۔ آج کے معاشرے میں بامقصد تعلیم اسی طرح ضروری ہے، جس طرح انسان کے لئے ہوا، پانی، لباس اور خوراک وغیرہ ضروری ہوتے ہیں۔ اچھی خوراک سے انسان اور حیران توانا اور صحت مند ہوتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے حصول سے انسان دماغی لحاظ سے ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ آج کا انسان ترقی کرتے کرتے ایک ہی اُڑان میں چاند پر اتر چکا ہے۔ اس عظیم الشان کامیابی کے بعد دیگر اَن گنت سیاروں پر پہنچنے کے لئے وہ مسلسل تیاریوں میں لگا ہوا ہے۔

انسان کی یہ کاوش قابلِ تعریف ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح کے کام انجام دینا ہوں گے۔ آج ہم ایک دوسرے کے قتل عام میں مصروف ہیں۔ کیا ہمارے لئے قتل و غارت کا کام کرنا ہی باقی رہ گیا ہے؟.... ایک نہ ایک دن اس گندے کام کو چھوڑنا ہی ہوگا۔ ہم سب پاکستانی ہیں، ہم سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ سرزمین پاکستان ہم سب کی مشترکہ جائیداد ہے۔ اس جائیداد کی حفاظت کرنا ہم سب کا مقدس فرض ہے۔ ہر پاکستانی کا یہ پیدائشی حق ہے کہ وہ اچھی سے اچھی زندگی بسر کرے۔ اس کی زندگی، جان، مال، عزت کی حفاظت کرنا حکومت کا سب سے بڑا فرض ہوتا ہے۔حقِ زندگی ہر شہری کو دینا ہی پڑے گا۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ امیر امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ غربت اور جہالت ہی ہمارے سب سے بڑے مسائل ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا اور ضرورت ہے۔

امیر اور دولت مند پاکستانیوں کا سرمایہ دنیا کے بیرونی ملکوں کے بنکوں میں جمع ہے۔ کیا یہ ہم سب کے لئے رونے کا مقام نہیں ہے؟.... کیا ایسے لوگ محبِ وطن لوگ کہلانے کے حق دار ہیں؟.... ایسے لوگوں کو مَیں زور دے کر کہوں گا کہ وہ بیرونی بنکوں سے اپنا سرمایہ واپس پاکستان لے آئیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم قوم کے بہترین مفاد میں قوم پر حکمرانی کرنا چھوڑ دیں۔ ہمیں سچا پاکستانی بننے کے لئے ایسا کرنا ہی پڑے گا۔ قوم مایوسی اور محرومی کا شکار بن چکی ہے۔ جب ہم پاکستان اور پاکستانی قوم سے دل کی گہرائی سے پیار کریں گے تو قوم کی یہ مایوسی خودبخود ختم ہو جائے گی۔ غربت اور محرومی کو ختم کرنے کا واحد طریقہ پاکستان کے تمام وسائل کو استعمال میں لانا ہوگا۔ آج کا سب سے اہم مسئلہ ”انرجی“ کا قحط ہے۔ بجلی کی ضرورت سے کم پیداوار کی وجہ سے ہمارا وطن تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہے۔ ایران کے تعاون سے بلاشبہ ہم اپنے انرجی بحران پر قابو پا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔ دنیا کے کسی اور ملک کو قطعی طور پر ہمارے اندرونی کاموں میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ ہمیں بیرونی دباو¿ کو مسترد کرنا پڑے گا۔ ہم دنیا کی ایک آزاد قوم ہیں۔ ہمیں دنیا کی آزاد قوموں کی مانند اپنے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر اتحاد و اتفاق کا شاندار مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ جب ہم سب ایک ہو جائیں گے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جرا¿ت نہیں کر سکے گی۔

پاکستان میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کو ووٹ دینا ہوں گے جو جہالت اور غربت کو ختم کرنے کا عملی پروگرام رکھتے ہیں۔ جو لوگ دن رات جائز و ناجائز طریقوں سے دولت اکٹھی کرتے ہیں، کیا وہ لوگ ہمارے ووٹ حاصل کرنے کے حق دار بن سکتے ہیں؟....بالکل نہیں، بلکہ اُن لوگوں کو ووٹ ملیں گے جو ابھی تک آزمائے نہیں گئے۔ آئندہ پانچ سال کے لئے 100 فیصد نئے تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی آزمانا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ معاشی طور پر تباہ و برباد ہوگیا تھا۔ مشہور زمانہ لیڈر چرچل کی زیر قیادت برطانیہ کو فتح ملی تھی، مگر انتخابات کے دوران چرچل کو حیران کُن شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ لوگوں کی عام رائے کے مطابق امن میں کسی اور رہنما کی ضرورت ہے، جو تباہ شدہ برطانیہ کی از سر نو تعمیر کر سکے۔

پاکستانی قوم کو برطانیہ کی اس مثال کو سامنے رکھنا ہوگا۔ قوم تبدیلی چاہتی ہے۔ قوم پاکستان کو جلد از جلد دنیا کے جدید ترین ممالک کی صف میں شامل دیکھنا چاہتی ہے۔ ووٹ کا حق ہمارے پاس بطور امانت ہے۔ یہ حق صرف اُسی کو ملے گا جو اپنے آپ کو اس کا حقدار ثابت کرے گا۔ ہماری زیادہ تر آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ ان لوگوں کی زندگی میں آزادی کے بعد کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ۔ وہ لوگ آج بھی بنیادی تعلیمی اور صحت کی سہولتوں سے بہت حد تک محروم چلے آ رہے ہیں۔ دیہاتی زندگی کو بدل ڈالو۔ بے روزگاروں کو روزگار دو۔ اَن پڑھ آبادی کو جلد از جلد زیور تعلیم سے آراستہ کرو۔ دیکھو کوئی بھی شہری بغیر علاج موت کے منہ میں نہ چلا جائے۔ ہر شہری کے ساتھ انصاف کرو۔ چاہے ایسا کرتے ہوئے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔ انصاف سے مراد سماجی، سیاسی، معاشی، اقتصادی، انصاف ہوتا ہے۔ ایسا انصاف کیاجائے جو ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ قابل اور اچھے لوگوں کی ہمارے ملک میں ہرگز کمی نہیں ہے۔

آج کے انتخابات میں ارب پتی لوگ ہی حصہ لینے کا سوچ سکتے ہیں۔ ہر امیدوار 5 کروڑ سے 10 کروڑ تک انتخابی اخراجات کو پورا کرنے کا بجٹ تیار کرتا ہے۔ اخراجات اس اندازے سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر کوئی بھی سفید پوش محب وطن شہری انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ وسیع پیمانے پر انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں مستحق اور اہل امیدواروں کو مناسب اور مساوی پبلسٹی کا موقع دینا ہی پڑے گا۔ اس طرح تمام امیدوار اپنا اپنا منشور قوم کے سامنے پیش کر سکیں گے۔ آنے والے انتخابات کئی لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ نئے چہرے سامنے آئیں گے۔ انقلابی خیالات سے قوم کو روشناس کرائیں گے۔ پاکستان میں امن کا قیام بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ امن قائم ہو گا تو ہماری قوم ترقی کر سکے گی۔ بدامنی سے قومیں تباہ ہو جایا کرتی ہیں۔ ہر شہری سے جب معاشی انصاف ہوگا تو پھر پاکستان میں امن خود بخود بحال ہو جائے گا۔ صاف اور شفاف انتخابات کرانے سے ملک میں صاف اور شفاف حکومت قائم ہو گی جو قوم کی قسمت کو بدل دینے کا اعلان کرے گی۔ پوری قوم نئے جذبے اور جوش سے شاہراہِ ترقی پر گامزن ہو جائے گی۔ یہ سوچ نہ صرف میری ہے، بلکہ ہر پاکستانی یہی سوچ رکھتا ہے۔ میڈیا نے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا ہے۔ مجھے پاکستانی قوم کا مستقبل انتہائی شاندار اور روشن نظر آ رہا ہے۔ تمام قسم کے دقیانوسی خیالات اپنی موت آپ مر چکے ہیں۔ نئی سوچ اور نئے جذبے سے ہمارے گاو¿ں اور شہر دونوں ایک ہی وقت میں روشن ہو چکے ہیں.... پاکستان زندہ باد۔

مزید :

کالم -