’’پھٹیچر اور ’’ریلو کٹا‘‘ کیا ہے؟

’’پھٹیچر اور ’’ریلو کٹا‘‘ کیا ہے؟
 ’’پھٹیچر اور ’’ریلو کٹا‘‘ کیا ہے؟

  


’تیلی رے تیلی، تیرے سر پر کولھو‘‘ ہاہا شعر کا وزن پورا نہیں، جواب آیا، شعر وزن میں ہو یا نہ ہو، کولھو سے جان تو نکلے گی؟ایسا ہی کچھ گزشتہ دو روز سے ہو رہا ہے، بات کہنے اور جواب دینے والے دونوں فریق ہی سر پر کولھو والی بات کہتے چلے جا رہے ہیں چاہے وزن برابر ہے یا نہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم عمران خان نے پی ایس ایل کے حوالے سے فائنل کے غیر ملکی کھلاڑیوں کو ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’ریلو کٹا‘‘ کیا کہا مُلک بھر میں ایک طوفان آ گیا ہے اور سیاسی حریفوں نے تاک تاک کر نشانے لگانا شروع کر دیئے ہیں اور اس ساری بحث میں ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’ریلو کٹا‘‘ کہیں کے کہیں چلے گئے اور ان ہر دو القابات کی ایسی ایسی تعریف کی جا رہی ہے کہ دل باغ باغ ہو گیا ہے۔ سبحان اللہ! ان القابات کی بھی اتنی تعریف اور ان کے حوالے سے بحث ہونا تھی، کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ خود محترم کپتان نے جو تعریف کی وہ بھی ان کے نزدیک تو ایسے ہو گی، لیکن مضحکہ خیز لگی کہ یہ تعریف ولائت(برطانیہ) کے کرکٹ کلبوں کی تو ہو سکتی ہے لاہور کے کرکٹ کلبوں کی نہیں، ورنہ یہاں اب بھی کوئی دو چار کرکٹر کریسنٹ، ممدوٹ اور یونیورسل کرکٹ کلب کے تو ہوں گے جن سے یہ دریافت کیا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’ریلو کٹا‘‘ ان کلبوں میں استعمال ہوتے تھے۔ البتہ جمخانہ کلب کا ہمیں علم نہیں کہ یہ گوروں کا کلب تھاپھر دیسی گوروں کے پاس آ گیا تھا۔بہرحال چند ایسے کھلاڑیوں سے ہم بھی واقف ہیں جو جمخانہ میں پریکٹس کرتے تھے وہاں بھی یہ الفاظ استعمال نہیں کئے جاتے تھے، کاش کپتان اپنے دوست میاں یوسف صلاح الدین ہی سے معنی پوچھ لیتے جو پکے لاہوریئے ہیں، ویسے کلب کرکٹ میں تو ہم بھی کپتان سے سینئر ہیں اور موجودہ نیو اقبال پارک(سابق منٹو پارک) میں کرکٹ کلب (کریسنٹ) میں گیند اٹھا اٹھا کر دیتے رہے ہیں اور یہ وہ دور تھا جب عبدالحفیظ کاردار، مقصود احمد، امتیاز احمد، کرنل شجاع، نذر محمد اور خان محمد جیسے کھلاڑی بھی یہاں کھیلتے تھے کہ تینوں کلبوں کے نیٹ یہیں لگتے تھے۔

بہرحال قطع نظر سیاسی بحث، ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈال ہی لیتے ہیں کہ پرانے اور خالص لاہوریئے ہوتے ہوئے ہم سے ان القابات کی اتنی تحقیر بھی برداشت نہیں ہو پا رہی، جہاں تک ’’ریلو کٹا‘‘ کے لفظ اور القاب کا تعلق ہے تو معنوی اعتبار سے کپتان کی تشریح ایک حد تک درست ہے،لیکن اس کا تعلق کرکٹ سے تو قطعاً نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ القاب کسی وقت کرکٹ کے میدان میں بھی استعمال کر لیا گیا ہو، جو درحقیقت ہمارے شہر کے قومی کھیل ’’گلی ڈنڈے‘‘ کا ہے اس بحث سے پھر ہمیں یاد آیا کہ یہ ہمارا لاہور جسے باغات کا شہر کہتے تھے ’’لش گرین‘‘ تھا، سرکلر روڈ اور شہر کی فصیل کے درمیان پورے شہر کے گرد بہت بڑے سرکلر گارڈن تھے، ان میں پھول پودوں کے علاوہ سایہ دار اور پھل والے درخت بھی تھے اور بیچوں بیچ ایک نہر بہتی تھی جو ان باغات کو سیراب بھی کرتی تھی، ان باغات ہی میں ہم اور ہم جیسے دوسرے لڑکے اور نوجوان کبڈی، فٹ بال، کرکٹ اور گلی ڈنڈا بھی کھیلتے تھے، بلکہ برصغیر کی تقسیم اور اس کے بعد پاک انڈیا کرکٹ میچ تک تو کرکٹ سے کسی کو دلچسپی نہیں تھی اور گلی ڈنڈا ہی قومی کھیل تھا۔ ہم سب ان باغات میں یہ کھیلا کرتے تھے۔

قارئین آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ہم ’’گلی ڈنڈا‘‘ اور پھٹیچر کی بات کرتے کرتے یہ کیا رونا لے بیٹھے جو وقتاً فوقتاً روتے رہتے ہیں تو معذرت کہ جونہی کوئی مسئلہ یا معاملہ شہر سے متعلق ہو تو ہمارے زخم ہر ے ہو جاتے ہیں کہ نہ اب وہ سرکلر باغات اور نہ ہی کوئی نہر موجود ہے کہ تجاوزات نے حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ چلیں! چھوڑیں، یہ دُکھ اور زندگی بھر کا روگ ہے، بات کرتے ہیں ’’ریلو کٹا‘‘ کی، تو قارئین کرام! یہ القابات یا مثال دراصل گلی، ڈنڈے کی ہے کہ گلی ڈنڈے میں جب بھی دو ٹیمیں بنتی تھیں ہر ایک جفت میں ہوتی تھی تاک نمبروں میں مقابلہ نہیں ہوتا تھا۔مثلاً اگر آٹھ کھلاڑی ہیں تو چار چار کی دو ٹیمیں بنتی تھیں،اب اگر محلے داری میں مجموعی تعداد نو(9) ہو جاتی تو پھر نویں کھلاڑی کو بھی شامل کرنا پڑتا، اسے دونوں ٹیموں کا حصہ بنا لیا جاتا اور یہ ہر بار میدان میں فیلڈ کرتا اور گلی کے پیچھے بھاگتا نظر آتا، جب گلی کسی اصلی کھلاڑی سے کیچ نہ ہوتی تو وہ خود نہ اٹھاتا یہ نواں کھلاڑی اٹھا کر واپس پھینکتا تھا اور یہ جو اللہ واسطے فیلڈ کرتا اسے ’’ریلو کٹا‘‘ کہتے تھے،آپ اس کا موازنہ کرکٹ ٹیم کے بارھویں کھلاڑی کے ساتھ کر سکتے تھے جو تولیہ کندھے پر ڈالے، کھلاڑیوں کو پانی پلانے اور ان کے لئے دوسری خدمات بجا لاتا، اور بھاگ بھاگ کر خدمت کرتا ہے، بے چارہ باری نہیں لے سکتا البتہ میچ فیس کا ضرور حق دار ہوتا ہے، اب آپ خود دیکھ لیں کہ عملی طور پر بھی کوئی غیر ملکی کھلاڑی ’’ریلو کٹا‘‘ نظر نہیں آیا چہ جائیکہ آپ القاب ہی دے ڈالیں۔

اسی طرح یہ جو ’’پھٹیچر‘‘ کا القاب ہے تو یہ برصغیر میں یو پی وغیرہ سے درآمد شدہ ہے جو تحقیر کا سبب بھی ہے کہ جس شخص کے کپڑے پرانے اور پھٹے ہوئے ہوتے اور جو نہانے دھونے سے گریز کرتا اور محافل میں آ کر دخل اندازی کا مرتکب ہوتا اور اہلِ محفل کو ناگوار گزرتا تو کہا جاتا ’’یہ پھٹیچر کہاں سے آ گیا ہے‘‘ اور پھر اس لفظ کو بہت سی جگہوں پر بھی استعمال کیا جاتا، اب یہ تو محترم کپتان صاحب ہی سے دریافت کیا جانا چاہئے کہ کیا ہر دو القاب ’’آکسفورڈ‘‘ میں استعمال ہوتے تھے؟ یہاں تو کسی کو ’’ریلو کٹا‘‘ یا ’’پھٹیچر‘‘ کہا جائے تو وہ بُرا مناتا اور جھگڑا کر بیٹھتا ہے، اب آپ حضرات خود ہی اندازہ لگا لیں کہ فصیل شہر کے اندر کی پیدائش اور وہاں کے رہنے والے شہریوں پر کیا گزر رہی ہو گی، ویسے کئی پرانے شہر والے تو خود کئی اور القابات سے نواز رہے ہیں اور برہم بھی ہیں، ہم نے اچھے بُرے کی بحث میں الجھے بغیر حقیقت بیان کر دی۔ اگر آپ کے دِل میں اُتر جائے یہ بات؟

مزید : کالم