ڈی جی نیب ملزمان کا میڈیا ٹرائل کرنے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟

ڈی جی نیب ملزمان کا میڈیا ٹرائل کرنے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟
ڈی جی نیب ملزمان کا میڈیا ٹرائل کرنے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟

  

ڈی جی نیب شہزادسلیم کا ایک ہی دن میں کئی ٹی وی چینلز کو دیا جانے والا انٹرویو وجہ فساد بن گیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بحث و مباحثہ کا نیاموضوع قومی ایشو بن گیا ہے ۔یہ انٹرویو کرپشن زدہ چہروں کو بے نقاب کرنے کا باعث بن گیا ہے ،انہوں نے انٹرویوز میں بہت سے ابہام بھی دور کئے اور اب تک کی تحقیقات میں رونما ہونے والے کئی واقعات کی تصدیق بھی کی ،خیر ڈی جی نیب کے اس طرز عمل کے بعد انکا بھی قانونی احتساب ہوگایا نہیں؟،انہیں ٹی وی سکرین پر کھل کر حساس ترین موضوعات پر بات کرنے پر کس نے مجبور کیا ،کیا اسکے پیچھے کسی کا ہاتھ تھا ؟ کیا ڈی جی نیب کو آئیندہ کسی ٹی وی چینل یا میڈیا پر چہرہ دکھانے اور بولنے کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر ایک ادھ روز بعد یہ مباحثہ بھی روزمرہ کے موضوعات کی زنبیل میں چلا جائے گا اور پھر مٹی پاو ،گل مکاو ۔۔۔۔قومی اسمبلی اور میڈیا پر اس حوالہ سے گرما گرمی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ یہ غیر معمولی انٹرویو ہے جس نے کئی پردہ نشینوں کی وارداتوں کو طشت ازبام کردیا ہے۔

میں اس بارے میں مکمل آگاہ نہیں ہوں بلکہ عام پاکستانیوں کی طرح میں بھی مخمصہ کا شکار ہوکر ڈبل مائینڈڈہوگیا ہوں کہ کیاقانون ڈی جی نیب کو میڈیا فورم پر بات کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟ ظاہر ہے جب منہ کھلے گا تو سوالوں کے نشتر انہیں مزید جواب دینے پر مجبور کریں گے تو بات سے بات نکلے گی اور بگڑے گی بھی ،اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ثبوت بھی دیں گے،اس طرز عمل کو میڈیا ٹرائل کا نام بھی دیا جائے گا کہ ڈی جی نیب پارٹی بن کر ملزمان کی تفتیش کرتے ہوئے کردار کشی کی مہم میں شامل ہوگئے ہیں ۔اس بات کا اشارہ سوشل میڈیا پر بھی دیا جاچکا ہے اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی ،نوید قمر اور رانا تنویر جیسے جید و شناور سیاستدان بھی کھل کر بات کرچکے ہیں کہ ایک ہی دن میں ڈی جی نیب کا میڈیا چینلز پر انٹرویو چلوانا کسی بڑے منصوبے کی سازش کا ہی حصہ لگتا ہے کیونکہ یہ سب اچانک نہیں ہوا نہ راہ چلتے ہوئے کسی نے مائک ان کے سامنے کردیا کہ وہ بولنے پر مجبور ہوگئے ۔انہوں نے منصوبہ بنا کر ہی انترویوز دئیے ہیں جس سے ان کے جانبدار ہونے کا یقین کرنا پڑتا ہے اور یہ کسی صورت قانون کے مطابق جائز بات نہیں ہوسکتی کہ اس ایجنسی کا سربراہ جو ملک کے اہم سیاستدانوں ،بیوروکریٹس اور اہم کاروباری شخصیات کی تحقیقات کر رہا ہے وہ جرم ثابت ہوئے بغیر زیر تفتیش لوگوں کے بارے میں کمنٹ کرتا پھرے ،ا سے کسی کی سیکریسی اوٹ ہوتی ہے ۔ جبکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ آج جنہیں میڈیا پر ذلیل و خوار کیا جارہاہے اور تفتیش کے نام پر جنہیں تشدد کا بھی سامنا ہے ،کل ثبوت نہ ملنے پر وہ رہا بھی ہوسکتے ہیں تو پھر ان کی لوٹی ہوئی عزت کیسے بحال ہوگی ،قوم کی نظروں میں انہیں گرانے والے اپنے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی طرز عمل پر کس قسم کی سزا کے حق دار ہوں گے ،مسئلہ یہ ہے جیسا کہ عرض کیا ہے میں مخمصہ میں ہوں کہ ڈی جی نیب کو قانون اس میڈیا ٹرائل کی اجازت دیتا ہے یا نہیں،یہ بات اس وجہ سے کہنی پڑی ہے کیونکہ قومی اسمبلی سے لیکر ماہرین قانون تک سبھی اس پر ہاں اور ناں میں جواب دے رہے ہیں ۔ایسی صورت میں کوئی بندہ یہ جج نہیں کرسکتا کہ کون درست کہہ رہا ہے اور کون غلط۔۔۔بالفرض مان لیا جائے کہ ڈی جی نیب کو قانونی طور پر یہ حق حاصل نہیں ہے تو پھر ہم اس معاملے کی روشنی میں دوسرے بڑے اداروں کے سربراہوں کو بھی دیکھیں گے جو میڈیا سے کھل کر بات کرتے نظر آتے ہیں اور اپنے کسی بھی چھاپے کے دوران میڈیا کو ساتھ لیکر چلتے ہیں تاکہ ان کی کوریج میں کوئی کمی نہ رہ پائے ۔پریس کانفرنس سے انٹرویو تک ایسے بہت ثبوت نکال کر دئے جاسکتے ہیں کہ یہاں اہم اداروں کے سربراہ ایک عرصہ سے میڈیا پر دبنگ انداز میں باتیں کرتے آرہے ہیں ۔چند سال سے میڈیا کو جو کردار سونپ دیا گیا ہے اسکے تحت دیکھیں کیا عدلیہ،پولیس،فوج کے اہم ذمہ داران میڈیا سے براہ راست مخاطب نہیں ہوتے ۔کیا پاکستان کے اہم ترین شعبوں کے افسروں نے اظہار خیال کے لئے سوشل میڈیا پر اپنے اکاونٹ نہیں کھول رکھے جہاں سے وہ انسپریشن لیتے اور اسکو اپنے روزمرہ امور کے دوران کوڈ نہیں کرتے ۔ان حالات میں ڈی جی نیب نے میڈیا پر آکر بات کرلی تو کون سی قیامت آگئی ہے ۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ