امرجلیل اور اس کا خدا

  امرجلیل اور اس کا خدا
  امرجلیل اور اس کا خدا

  

 اردو اور سندھی زبان کے معروف بل کہ مہان ادیب ، ڈرامہ نگار اور کالم نویس امر جلیل آج کل سوشل میڈیامیں بڑے ” اِن “ ہیں ۔ ان کے اس افسانے کے مندرجات پر گرما گرم بحث ہو رہی ہے جو 2017 ء میں  سندھ لٹریچر فیسٹیول میں پیش کیا گیا تھا ۔سندھی زبان میں لکھے گئے اس افسانے میں امر جلیل نے خد ا کے حوالے سے بعض ایسے جملے تحریر کیے ہیں جو بادی النظر میں خدا کے حضور گستاخی کے ذیل میں آتے ہیں  چنانچہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک طبقہ انہیں گستاخ ، ملعون اور قابل ِ مواخذہ قرار دے کر اپنے غصے کا اظہار کر رہا ہے اور دوسرا طبقہ ان کی حمایت میں عجیب و غریب تاویلات پیش کر تےہوئے دور ، دور کی کوڑیاں لا رہا ہے،مجھے تو یہ دونوں قسم کے لوگ افراط و تفریط کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ 

 سیدھی سی بات ہے کہ ایک لکھاری جب کوئی کہانی ، مضمون یا افسانہ لکھتے ہوئے اپنے جذبات و احساسات سپر د ِ

 قلم کرتا ہے یا ایک شاعر یا فنکار اپنی تخلیق یا فن پارے کو اظہار کی صورت دیتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک خاکہ یا سکیچ ہوتا ہے جس کو وہ الفاظ ، اشعار یا لکیروں کی مدد سے بنتا ہے۔ادب یا فکشن یا مصوری وغیرہ میں علامت نگاری کا چلن بھی ہے ، چنانچہ وہ باتیں یا پیغام جو سیدھے سبھاو پیش نہیں کیا جا سکتا اس کے لئے علامتوں سے مدد لی جاتی ہے ۔ ٰٓ

 اس علامت نگاری میں علامات ، اصلاحات یا الفاظ ایک مخصوص انداز یا پس منظر میں استعمال میں لائے جاتے ہیں جن کے ظاہری مفہوم اور حقیقی یا معنوی مفہوم میں کوئی مطابقت نہیں ہوتی  اور پھر یہ فرق عام قاری یاسطحی سوچ رکھنے والے شخص پربھی واضح نہیں ہوپاتا ۔چنانچہ وہ ” فکر ِ ہر کس بقدر ِ ہمت اوست “ کے مضداق اپنی ذہنی سطح کے مطابق اس کی تفہیم کرتا ہے جو ضروری نہیں ہے کہ وہی یا ویسی ہی ہو جیسی کہ لکھاری ، شاعر یا فنکار کے اپنے ذہن میں تھی۔سو علامت نگاری ایسا  انداز ہے جس میں بڑی سلیقہ مندی سے بات کہی جاسکتی ہے۔

 امر جلیل کے افسانے میں ” خدا “ کے حوالے سے جو الفاظ یا جملے ہمیں پڑھنے یا سننے کو ملتے ہیں وہ بظاہر ہمارے 

 سماجی فیبرک میں نا پسندیدہ اور نا قابل ِ قبول ٹھہرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں لیا جانا چاہیے کہ لکھاری نے اس انداز   میں خدا کے حضور گستاخی کا ا رتکاب کیا ہے۔اس لیے کہ یہ ایک بے تکلفانہ انداز ہے ۔سچ یہ ہے کہ ایک پسے ہوئے ،  پسماندہ اور محروم و مقہور طبقے میں اس کا اسلوب اور طرح سے ہوگا جب کہ ایک مذہبی پس منظر رکھنے والے شخص کے لےے اس کا انداز اور طرح سے ہوگا ۔

 امر جلیل سندھی سینئرقلم کار اور دانش ور ہیں ۔ وہ جس دھرتی کے سپوت ہیں وہ صوفیا ء کی دھرتی ہے جہاں سچل سرمست، شاہ  عبداللطیف بھٹائی ، مست توکلی ایسے صوفیا ء کی تعلیمات عام ہیں ۔جو سندھی کلچر یا تہذیب کا حصہ بن کر اس میں رچ بس چکی ہیں ۔صوفیاءخدا کے ساتھ براہ راست مخاطب ہو کر اس سے مکالمہ کرتے ہیں ۔ وہ درمیان میں کسی واسطے کے   بغیر من وتو کا رشتہ استوار کرتے ہیں ۔براہ راست مکالمے میں اگر تکلفات کا رنگ آ جائے تو وہ مصنوعی ، بناوٹی اور غیر حقیقی  بن جاتا ہےلیکن جب بے تکلفانہ بات ہوتی ہے تو پھر حجاب اٹھ جاتا ہے اور دو بدو کا منظر بن جاتا ہے جس میں” آپ “ کے الفاظ   ”تو “ میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ذرا لاہور کے معروف شاعر سائیں اختر حسین مرحوم کی مقبول ترین نظم ” اللہ میاں تھلے آ “ کو بھی اس تناظر میں پڑھ کے دیکھئے ۔ان کے الفاظ بھی کچھ کم ” گستاخانہ “ نہیں لیکن کیا وہ بھی ملعون یا کافر  قراردیے گئے تھے ۔ میں مشتے از خوروارے کے طورپر ان کی مذکورہ نظم کے صرف چند بند بطور ریفرنس یا مثال پیش کرتا ہوں ۔

  اللہ میاں تھلے آ

  اپنی دنیا ویند ا آ

  یا اسمانوں رزق ورھا

  یا فیر کر جا مک مکا 

   ....

  تینوں دھی وہا ہنی پیندی

  نانکی چھک بنانی پیندی

  رُسی بھین منانی پیندی

 لتھ جاندے سب تیرے چا

  اللہ میاں تھلے آ

    ....

  تیرے گھر نہ دانے ہوندے 

  پاٹے لیف پرانے ہوندے 

  کملے لوک سیانے ہوندے 

  گھیرا تینوں دیندے  پا 

   اللہ میاں تھلے  آ

     ....

  تیرا کوٹھا  چوندا  ہوندا

  بھجدا رہندوں اٹھدا بیہندا

 دسدا نہ تینوں چڑھدا لہندا

  اُگ پیندا ہر پاسے گھا

  اللہ میاں تھلے  آ

    ....

  تیرے گھر لئی چندا منگدے

  ڈردے لوک نہ کولوں لنگھدے

  سب نوں گھر تے دے نئیں سکیا

  اپنا گھر تے آپ بنا 

  اللہ میاں تھلے آ

  اسی طرح عبدالحمید عدم کا یہ شعر کسے یاد نہیں ہوگا 

     دل خوش ہوا ہے مسجد ِ ویراں کو دیکھ کے 

     میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے 

  پھر حضرت موسی ٰ ؑ کا واقعہ بھی سب کے علم میں ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک گڈریا تنہا بیٹھا  اللہ سے محو ِ کلام تھا کہ اے اللہ اگر تو میرے پاس آئے تو میں تجھے بکری کا تازہ دودھ پلاوں، تیرے ہاتھ پاوں  دھووں ،تیری کنگھی کروں اور تیری جوئیں نکالو ں وغیرہ ۔ حضرت موسیٰ ؑ یہ الفاظ سنے تو انہوں نے پوچھا تو کس سے   باتیں کررہا ہے اس نے بتایا کہ کہ اپنے خدا سے ۔ آپ ؑکو اس پر غصہ آگیا اور کہا کہ تو اس خدا سے بات کیسے کر رہا   ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے ، اور جو ان تمام چیزوں سے ماورا ہے ، تجھے ادب آداب کا پتا نہیں ؟ بعد میں جب کوہ طور پر وہ  اللہ سے ہم کلام ہوئے تو اللہ نے اس پر ان کی سرزنش کی اور حکم دیا کہ اس گڈریے کو تلاش کرکے اس سے معافی مانگو۔سو آپ نے اس سے معافی مانگی ۔

 اس کے علاوہ بھی ہمارے ادب ، فکشن اور تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں خدا کے ساتھ ” گستاخانہ “ گفتگو ملتی ہےلیکن ہمارے پاس ایسی کوئی کسوٹی نہیں کہ جس پر ہم یہ پرکھ سکیں کہ اس میں خدا کی شان میں گستاخی کا پہلو پوشیدہ ہے ۔ ویسے بھی یہ خالق اور مخلوق کا معاملہ ہے جس میں کوئی تیسرا دخل کیسے دے سکتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے اہل ِ قلم کو لکھنے سے پہلے یہ بات بہرحال ملحوظ ِ خاطر رکھنی چاہیے کہ کہیں ان کے الفاظ کسی انتشار یا معاشرتی سطح پر کسی خرابی کا پیش خیمہ تو ثابت نہیں ہو جائیں گے کیوںکہ یہاں پر خواندگی کی شرح اور اس کا جو معیار ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ اس پر تکیہ یا بھروسہ کیا جاسکے۔ علاوہ  ازیں یہاں مذہب ہی نہیں مسلک کا معاملہ بھی انتہائی حساس نوعیت کا حامل بن چکا ہے جس میں برداشت، تحمل اور رواداری کے لےے کوئی گنجائش نہیں ہے۔اس لیے ایسی تحریر ، فن پارے یا کسی بھی نوع کی تخلیق پیش کرنے سے پہلے سماج کا رویہ ، سوچ اور فیبرک کو پیش ِ نظر رکھنا ازبس ضروری ہے ۔لہذا کوئی بھی نثری تحریر، منظوم کلام یا فن پارہ جو سماج کی اجتماعی سوچ کے خلاف ہواس سے  گریز کرنا ہی احسن ہے ۔

 بہر حال وہ دانشور ، محب وطن اور دین سے محبت کرنے والے دوست جو امر جلیل کی خدا کے حضور گستاخی پر احتجاج کر رہے ہیں ہم بھی ان کے جذبات کی قدر کرتے اور ان کی دینی غیرت کو سراہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان سے یہ التماس بھی کرتے ہیں کہ خدارا کسی بھی چیز کو جذبات کی کسوٹی پر پرکھنے سے پہلے اس کا غیر جذباتی انداز میں پوری طرح جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ جذبات کی رو میں بہتے ہوئے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جائے جو بعد میں پچھتاوے یا کسی بڑی خرابی کا باعث بن جائے اور اس کے نتیجے میں ( خدا نخواستہ ) دنیا کے ساتھ عاقبت بھی خراب ہو جائے ۔

اسی طرح وہ طبقے جو امر جلیل کی حمایت میں ” شاہ سے بڑھ کر شاہ “ کے وفادار بننے کی کوشش میں سرگرداں ہیں وہ بھی ذرا تحمل سے کام لیں ۔اینٹ کا جواب پتھر سے دینے اور مذہب پر خواہ مخواہ تنقید کرنے کے بجائے دلیل اور منطق سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کریں بصورت ِ دیگر دونوں اطراف کے لوگوں میں فرق نہ رہے گا اور انہیں ایک ہی صف میں شمار کیا جائے گا اور یہ منفی رویہ اور سوچ معاشرے کی مزید تقسیم کا باعث بنے گی جو پہلے ہی تقسیم در تقسیم ہونے کی وجہ سے تنزلی کے گڑھے میں گرتا چلا جا رہا ہے۔ سو ان حالات میں ایک صحت مند اور اعتدال پسند معاشرے کے قیام کے لےے ضروری ہے ان کسی بھی صورت انتہاپسندی   سے گریز کیا جائے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -