بارہ دری کی سسکیاں۔۔!

بارہ دری کی سسکیاں۔۔!
بارہ دری کی سسکیاں۔۔!

  

لاہورکانام لیں تو راوی اور راوی کا ذکر کریں تو لاہورذہن میں آتاہے،دونوں لازم وملزوم اور ایک دوسرے کیساتھ صدیوں سے چل رہے ہیں،گیت ہوں یا شاعری کی کوئی  اورصنف، راوی کا ذکر نمایاں ہے مگر آج کل یہاں تیزابی پانی،گندگی اور بدانتظامی کی انتہانظرآتی ہے،کسی کی سستی ہے یا حکام کی عدم توجہی،یہ بات ذمہ دارحکام اچھی طرح جانتے ہیں،ایسا کب تک چلے گااس سوال کاجواب بھی انہیں کے پاس ہے لیکن ہم یہاں اس کی منظرکشی کرتے ہیں کہ آخر راوی پر ایسا ہے کیاکہ لوگ اب اس طرف جانے سے کترانے لگے ہیں۔
جی ٹی روڈ گوجرانوالہ اور شیخوپورہ سے راوی پل کے ذریعے شہرلاہور میں داخل ہوں تو سیدھے ہاتھ دریا کی آغوش میں ایک خوبصورت تاریخی مقام ہے جسے لوگ کامران کی بارہ دری کے نام سے جانتے ہیں،جب  راوی پل سےکشتی پر بیٹھے لوگ اس جانب محوسفر نظرآتے ہیں تو دل کرتاہے کہ ہم بھی ادھر گاڑی روک کر کشتی رانی کرتےہوئے اس سحرانگیزجگہ کو دیکھیں،کچھ وقت وہاں گزاریں،ایک طویل عرصے بعدمیرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا،دوستوں کے ہمراہ بارہ دری گھومنے کا دل کیا،پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرکے جب بوٹ پوائنٹ کی طرف نظردوڑائی تو دو بزرگ لکڑی کے پٹھے پر بیٹھے گاہکوں کے منتظر تھے،راوی کنارے ایک طرف خانہ بدوشوں کی جھگیاں،پل کے دوسری طرف جانوروں کے باڑے،جگہ جگہ بکھرا چیل گوشت،غلاظت کے انبار اور آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں،پل کے نیچے تعفن زدہ ماحول سے گزرتے ہوئے دوسری طرف جھانکا تو گندے پانی سے بھرا نالہ راوی کے پانی میں گرتا نظرآیا،اس پانی سے بدبو اور اٹھنے والی گیس نے دماغ چکرا کر رکھ دیا،حالات کا جائزہ لینے کے بعدجب واپس انہیں بزرگ ملاحوں کے پاس پہنچے تو وہ گویا پہلے ہی ہمارے منتظر تھے کہ کوئی اُن سے ان کی داستان غم سنے،بزرگ ملاح نے بتایاکہ ان کے باپ دادا بھی اسی راوی کے کنارے بیٹھ کر بچوں کی روزی روٹی کماتے تھے اور اب ہم یہاں بیٹھے ہیں،انہوں نے راوی کے بہت اچھے دن بھی دیکھےجب سیر کرنے والے جوق درجوق آتے تھے،فیملیز،بچے،نوجوان اور پاکستان بھر سےآنے والے لوگ راوی کی سیر کے بغیر لاہور کی سیر کو نامکمل تصورکرتے مگر اب تو لوگ جیسے راوی سے روٹھ ہی گئے ہوں،مگر میں نے جو کچھ آنکھوں سے دیکھاہے اس سے لگتاہے کہ لوگ راوی سے روٹھے نہیں بلکہ راوی کو ملنے کے لیے بے تاب ہیں مگر انتظامیہ نے جب سے راوی پر توجہ چھوڑی دی ہے،جب سے تیزابی پانی راوی کے پیٹ میں زبردستی ڈالاجانے لگاہے،جب سے توجہ دینے والوں نے آنکھیں بندکرلی ہیں تو لوگ بھی یہاں آنا پسند نہیں کرتے مگر وہ آناضرور چاہتے ہیں۔
کشتی پر بیٹھ کر ہم نے بارہ دری کا رخ کیاتو کشتی پر بیٹھے سبھی لوگ حکومت سے شکوہ کناں نظرآئے،دریا کے بدبودار پانی پر کشتی تیرتے تیرتے جب بارہ دری کے قریب کنارے پر کھڑی ہوئی تو سامنے ایک خوبصورت بیلے کیساتھ صدیوں پرانی عمارت نے ہمارا استقبال کیامگر یہ عمارت بھی اپنی زبوں حالی،لوگوں کے ستم اور آوارہ لڑکوں کی ٹھوکروں پر روتی نظرآئی،دیواروں پر طرح طرح کی شرمناک تحریریں اور ظالم سماج کے ظلم کے آثارواضح نظرآئے۔بارہ دری کے سامنے بنے باغیچے،تالاب،راہ داریاں،کینٹین اور پھول پودوں کی بنی جگہوں پر قریبی آبادیوں کے بچے کرکٹ کھیلتے نظرآئےجس سے اس جگہ کی رہی سہی ساکھ بھی تار تار ہورہی ہے،اگر آپ دریا کی طرف سے بنی سیڑھی سے اوپر کی جانب جائیں تو کوئی پتہ نہیں کہ کسی باؤلرکی گیند یا کسی بھاگتے لڑکے سے آپ کی ٹکر ہوجائے اور واپس دریا کے گندے پانی میں لڑکتے لڑکتے جاگریں،فیملیز تو اس بد انتظامی کی انتہاکو پہنچے ماحول میں جانے کا دوبارہ سوچیں گی بھی نہیں کیوں کہ آج کل جو ایک بار ادھر چلا گیا وہ دوبارہ جانے کی ہمت نہیں کرے گا،خواتین کیلئے یہ جگہ خاص طورپر غیرمحفوظ لگتی ہے،اوپر سےعجیب بات یہ کہ بارہ دری کی حدود میں کوئی سکیورٹی گارڈ نظرنہ آیا،نہ کوئی دیگر اہلکار۔
کامران کی بارہ دری لاہور شہر کے ماتھے کا جھومر ہے،اگر یہ جھومر برقرار رکھنا ہے تو پھر انتظامیہ کو فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے،نہ صرف راوی میں گندے پانی کی روک تھام بلکہ اس سیر گاہ کی بحالی بھی وقت کی ضرورت ہےورنہ آنے والی نسلیں حکمرانوں کو خوب کوسیں گی جب وہ کتابوں میں بارہ دری کا ذکر تو پڑھیں گی مگر حقیقت میں یہاں کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں بچے گا،ابھی وقت ہے کہ ہم کامران کی بارہ دری کی سسکیاں سن لیں۔خاص طورپروزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزداراورکمشنرلاہورکوہمہ تن گوش ہونے کی ضرورت ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   

مزید :

بلاگ -