خادم اعلیٰ پنجاب

خادم اعلیٰ پنجاب
 خادم اعلیٰ پنجاب

  

گزشتہ صدی کے عین آخری کوارٹرمیں اورنون لیگی حکومت کے عین ابتداء میں ضلع خانیوال کے نواحی کرسچین گاؤں شانتی نگر کو مسلمانوں کے ہاتھوں مبنی بر قرآن وانجیل کی بے حرمتی کے شکو ک و شبہات میں جل جانے پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف وہاں پہنچے اورمابین عیسائیوں مسلمانوں بھائی چارے کی فضا قائم کی اور پھر جلد ہی بعد خانیوال کے قریب ہی مہر شاہ ریلوے اسٹیشن پر کراچی ایکپریس کے ایک خوفناک حادثے پر میاں شہباز شریف نہ صرف بروقت پہنچے بلکہ جب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایک بے سہارہ زخمی بچی کو گلے لگا کر روئے تو ان کے اندر کے انسان سے تعارف حاصل ہوا اوریہ چلڈرن ہسپتال شاید اسی کرب اوراحساس کا شاخسانہ ہے۔پھر کچھ عرصہ بعد رقم المعروف کو ایک تھرڈ کلاس ہوٹل میں تھرڈ کلاس لوگوں کو نیم جرائمی قسم کی گفتگو سے وزیر اعلیٰ پنجا ب کی انتظامی گرفت کی جھلک نظر آئی۔’’اوئے ہن سوچ سمجھ کے ٹریؤہن پلس نئیں جے معاف کردی بس پھڑی آتے پار کر چھوڑ دی جے‘‘۔

ایسی صورت حال اس لئے لازم ہو گئی تھی کہ پیشہ ور قاتل اورمفرور مجرم پکڑے جانے کے بعد تھانوں ،کچہریوں اور عدالتوں سے بذریعہ ٹاؤٹ اقسام وکلاء پیسہ لگا کر پھر سے اپنے اصل مورچوں پر پہنچ جاتے تھے۔گینگ اپ کیسز کے بھی میاں شہباز شریف ذہنی طور پر سخت خلاف تھے، یعنی جونہی کہیں کوئی وقوعہ ہوتا، میاں صاحب بھی وہاں ہوتے اورمتعلقہ ملزمان کے کیفر کردار تک پہنچنے تک چین نہ لیتے ۔ 12اکتوبر1999ء کی شام ان کے تخت کا ہی تختہ ہوگیا اور شنید ہے کہ بعد از متعلقہ مقدمہ سزائے قید اور پھر سعودی جلاوطنی پر میاں شہباز شریف نے پاکستانی جیل کو ہی ترجیح دی تھی اور پھر سعودی جلاوطنی میں بھی انہیں چین نہ آیاتو پہلے بغرض علاج امریکہ ا ور پھر براستہ برطانیہ اگرچہ غیر قانونی طور پر ہی پاکستان پہنچتے ہی سر زمین پاکستان سے اپنی پیشانی رگڑی، لیکن حکومت وقت کے جبر کے تحت جدہ روانہ کردیئے گئے تھے۔2008ء میں جب جلا وطنی ختم ہوئی اوروہ قانونی طور پر جنرل الیکشن سے اگرچہ چند دن پہلے پاکستان پہنچے تھے، مگر پھر سے پنجاب کی حکمرانی شایدانہی کی منتظر تھی اور انہوں نے بھی خود کو وزیر اعلیٰ کی بجائے خادم اعلیٰ پنجاب کہلایا، ہائی سکول لیول تک طلبہ و طالبات کو تقریری مقابلوں میں اسناد اور انعامات سے نواز نے کے ساتھ مفت لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو محسوس ہوا کہ وہ واقعی خادم اعلیٰ پنجاب ہیں اور پھر کھلے دل سے لاہور کی سڑکوں اورچوراہوں کوبھی دوگنا کھلا کردیا۔

چونکہ مرکز میں حکومت پیپلز پارٹی کی تھی اورآصف علی زرداری صدر پاکستان تھے ،لہٰذا بلاجواز پنجاب پر قبضے کے لئے بذریعہ گورنر سلمان تاثیر ن لیگی پنجاب اسمبلی توڑ کر خادم اعلیٰ پنجاب کی صوبائی حکومت ختم کردی گئی اورپھر بعد افسوس کہ پیپلز پارٹی پنجاب اسمبلی میں اپنی اکثریت ہی ثابت نہ کرسکی اورہائی کورٹ نے پھر سے خادم اعلیٰ پنجاب کی حکومت بحال کردی۔بعد از بحالی حکومت انہوں نے ایک نئے عزم اور ہمت کے ساتھ حق حکمرانی ادا کرنا شروع کیا کہ جہاں کو ئی نامکمل منصوبہ دیکھا پراجیکٹ ڈائریکڑ اورٹھیکیدار کو گنے چنے دنوں کی ایک مہلت دیدی اور جہاں کہیں کسی فلائی اوور انڈر پاس کی تکمیل شروع ہوئی تو معائنے کے لئے اذان کے وقت ہی سائیٹ انسپکیشن پر پہنچ گئے تاکہ سیکیورٹی مسائل سے بچت رہے۔راقم الحروف کو خادم اعلیٰ کی دو ادائیں بڑی پسند آئیں ۔ایک تو انہوں نے اس دور میں سوائے وزارت قانون کے تمام وزارتیں اپنی داہنی دراز میں رکھیں اور درجنوں محکمہ جات کو مختلف اقسام کے وزیروں کبیروں کے جائز نا جائز بوجھ سے بچایا ۔دوسری یہ کہ ایک بس میں ازخود سوار ہو کر سواریوں سے نہ صرف تبادلہ خیال کیا، بلکہ اپنابھی بس ٹکٹ خریدا۔

وبائیں پھوٹنے کاایک موسم ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ،بس مچھر مار امراض سے ڈینگی بخار نے ہزاروں انسانوں کو اپنی لپٹ میں لے لیا اورخادم اعلیٰ نے نہ صرف اس ڈینگی نام کی وبا اوربلا سے طبی مقابلہ کیا بلکہ انتہائی حساس ہسپتال پنجاب کارڈیالوجی میں ایک مضر صحت ٹیبلٹ کھانے سے مرنے والے مریضوں کی تعداد جب پچاس سے بھی تجاوز کر گئی تو خادم اعلیٰ نے صرف اڑتالیس گھنٹوں میں اس مضر صحت ٹیبلٹ کے لندن سے نہ صرف کم وبیش اخبرا معلوم کروالئے، بلکہ کراچی کی متعلقہ فارماسیوٹیکل فیکٹری بھی سیل کرواتے ہوئے پنجاب کارڈیالوجی کے ذمہ داراں کو بھی دھر لیا اورجب آگے سے انہوں نے ہاسپٹل بائیکاٹ کا مظاہرہ کیا تو سی ایم ایچ سے متعلقہ سٹاف منگواکر پنجاب کارڈیالوجی کی نہ صرف ہاسپیٹلنگ جاری رکھی ،بلکہ روزانہ ایمر جنسی میں آنے والے سینکڑوں مریضوں کا ریکارڈ حاصل کرتے ہوئے بعض مریضوں کو ذاتی طور پر فون کرکے بشمول عملہ تعاون اورخیریت بھی دریافت کرتے رہے جس کا خود راقم الحروف گواہ ہے۔

ایک بار لکی ایرانی سرکس میں آگ لگ گئی تو اس کے کرتوں وھرتوں کو دھر لیا اور الحمراہال نمبر 2کی چھت گر گئی تو متعلقہ ٹھیکدار اورمعروف آکیٹکیٹ نئیر علی دادا تک کی پکڑ ہوگئی ،پھر رنگ روڈ سے ایک عدد ٹرک نیچے جا گرا تو چوبیس گھنٹوں کے اند ر متعلقہ ٹھیکیدار سلاخوں کے پیچھے تھا اورجب جنوبی پنجاب تا سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں تھا تو خادم اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر بھی اس دوران بے دست وپاعوام الناس کے اوپر سائیبان بن کر اڑتا رہا، لہٰذا راقم الحروف کی عمر اور تجربے کے مطابق صوبہ پنجاب کو آج تک ایسا محب وطن ،مخلص اور چوبیس گھنٹے چوکس رہنے والا وزیر اعلیٰ (خادم اعلیٰ)پنجاب میسر نہیںآیا ہے۔تیسری بار خادم اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد انہوں نے چین اور ترکی کے با مقصد دورے کئے جن کا باثمر ثبوت میٹروبس سروس ہے جس سے روزانہ قریباً سوا لاکھ سے زائد شہری بیس روپے کے ٹکٹ پر پچیس تیس کلو میٹر سفر پچیس تیس منٹوں میں طے کر پاتے ہیں ،جبکہ ابھی تک منصوبہ ہذا پر مصترض چلے آ رہے ہیں ،جبکہ خادم اعلیٰ پنجاب کو نہ صرف مابین راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس سروس مکمل کرنے ،بلکہ ملتان میں بھی شروع کرنے کے ساتھ ساتھ شہر لاہور میں اورنج لائین ریلوئے ٹرین منصوبہ شروع کرنے کی بھی توفیق ہوگئی۔

مخالفین برائے مخالفت منصوبہ ہذا پر بھی اعترضات کرتے نہیں تھکتے ۔وہ ان منصوبہ جات کی بجائے دوسری ضروریات کی ترجیحاتی رٹ لگائے رہتے ہیں۔ بندہ خدا بیرون ممالک میں شہری سفری سہولتوں جیسی سہولتیں اگر لاہور میں مہیا ہو رہی ہیں تو انہیں تو قبول کریں، ہاں اگر اس کی منصوبہ بندی میں کوئی نقص اور کمی بیشی ہے تو اجاگر کریں تاکہ منصوبہ متعلقہ بہتر سے بہترین میسر ہو۔گڈگورننس کے حوالے سے البتہ معترفین بجا ہیں کہ یوریا کھاد وغیرہ سے تیار کردہ دودھ کی فیکٹریاں کیوں چل رہی ہیں اوردکانیں کیوں بند نہیں ہوئی ہیں۔خدا نہ کرے کہ وہ وقت آ ہی جائے جو خادم اعلیٰ نے ایک سفارشی وفد کو کہہ دیا تھا کہ ’’آپ لوگ دعا کریں کہ شہباز شریف اللہ میاں کو پیارا ہو جائے‘‘۔

مزید :

کالم -