ایران کا اسلامی انقلاب

ایران کا اسلامی انقلاب
 ایران کا اسلامی انقلاب

  


 1978ء کے وسط کی بات ہے کہ کالج میں اپنے طالب علموں سے ایک مختصر سے تجزیہ کے دوران کہا کہ ایران میں تبدیلی آرہی ہے اور اسلامی انقلاب برپا ہوگا یہ میرا تجزیہ تھا بعض طالب علموں نے کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب برپا نہیں ہوگا چونکہ طالب علم بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے اس لئے وہ اس طرح سوچتے تھے اور وہ ایک طرح سے حق بجانب بھی تھے روس میں 1917ء کے انقلاب کے بعد کسی بھی اسلامی ملک میں اسلامی انقلاب برپا نہیں ہوا تھا بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں فوجی آفیسروں نے سوشلسٹ انقلاب برپا کرکے حکومت پر قبضہ کرلیا تھا حالانکہ سوشلسٹ فلسفہ تو یہ تھا کہ عوامی انقلاب عوام کی قوت سے پیدا ہوگا اور وہ پرولتاریہ انقلاب ہوگا لیکن مشرق وسطیٰ ، افریقہ ، جنوبی ایشیاء وغیرہ میں جتنے سوشلسٹ انقلابات برپا ہوئے وہ تمام کے تمام فوجی جنرلوں ، کرنلوں نے برپا کئے اور فوجی قوت سے حکومتوں پر قبضہ کرلیا گیا اس لئے ان کو عوامی انقلاب نہیں کہا جاسکتا ہے ایک لحاظ سے یہ فوجی بغاوتیں تھیں ا ور ان تمام نام نہاد انقلابوں کو پاکستان کے لیفٹ اور قوم پرستوں نے قبول کیا اور خوش آمدید کہا لیکن پاکستان میں جنرل ایوب ،جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی بغاوتوں کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ یہ سوشلسٹ انقلابات نہ تھے بلکہ امریکن نواز فوجی بغاوتیں تھیں لیکن افغانستان میں فوجی بریگیڈیئروں اور جنرلوں نے بغاوت کی اور حکومت پر قبضہ کرلیا چونکہ یہ قبضہ لیفٹ کے آفیسروں نے کیا تھا اور ان کا تعلق خلق پارٹی سے تھا اس لئے اس بغاوت کو پاکستان کے لیفٹ سیکولر اور قوم پرستوں نے قبول کرلیا تھا افغانستان میں یہ انقلاب ناکام ہوگیا اس لئے کہ اس کی پشت پر عوام نہیں تھے اور یہ بغاوت ضد اسلام تھی اس لئے ناکام ہوگئی اور اس ناکامی نے سوویت یونین کے خاتمہ پر مہر ثبت کردی اور بہت سی جغرافیائی تبدیلیاں بھی رونما ہوگئیں سوویت یونین کا وجود ہی ختم ہوگیا اور ذہنوں سے سوشلزم کا بخار بھی اتر گیا۔ بات اپنے طالب علموں سے گفتگو سے شروع ہوئی تھی تو کئی اور پہلو بھی سامنے آگئے انقلاب کے حوالہ سے بات ہو تو ہمیں دوسرے انقلابات کا بھی ایک سرسری جائزہ اور تجزیہ کرلینا چاہئے اپنے طالب علموں سے کہا میرا تعلق سیاست سے رہاہے اور تاریخ کا مطالعہ بھی ہے اس لئے پیشن گوئی کرتا ہوں کہ شاہ ایران کا انجام بھٹو سے مختلف نہیں ہوگا میری مراد یہ تھی کہ ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوگا اور شاہ کی حکومت ختم ہوجائے گی میرے بعض طالب علموں کو اس سے اتفاق نہیں تھا ان کا خیال تھا کہ یہ سوشلسٹ انقلاب ہوگا اسلامی انقلاب نہیں ہوگا اپنے طالب علموں سے کہا کہ اس مسئلہ کو مستقبل کے حالات پر چھوڑتے ہیں جب انقلاب برپا ہوجائے گا تو پھر ہم اور آپ دیکھیں گے کہ کس کی بات درست ہوسکتی ہے اس موقع پر ایک اور دلچسپ گفتگو نیپ کے ممتاز رہنماء اور سابق سینیٹرز زمرد حسین (مرحوم) اور شہزادہ کریم سے ہوتی یہ گفتگو زمرد حسین کی دکان قلات پبلشر میں ہوئی، 1978ء کا سال تھا اور ایران میں انقلاب کی لہر اٹھ چکی تھی زمرد حسین نے کہا کہ مبارک ہو ایران میں سوشلسٹ انقلاب آرہا ہے ان سے کہا کہ آپ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں اور غلط تجزیہ ہے ایران میں اسلامی انقلاب آرہا ہے اور امام خمینی (مرحوم) اس کی قیادت کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ مولوی ہے سوشلسٹوں نے آگے کیا ہواہے یہ در اصل ہمارا انقلاب ہے ان کا خیال اور تجزیہ ایک لحاظ سے درست تھا کہ 1917ء کے بعد سے کسی بھی اسلامی ملک میں عوامی قوت سے انقلاب برپا نہیں ہوا تھا اور نہ فوج کو شکست دی تھی لیکن ان کا مطالعہ تاریخ کمزور تھا اور جدید دور میں اسلام اور قرآن کی قوت سے نابلد تھے اس لئے وہ اس انقلاب کا ادراک نہ کرسکے ان سے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ انقلاب آپ لوگوں کا صفایا کردے گا میری مراد ایران میں سوشلسٹوں سے تھی آپ ذرا انتظار کریں اور انقلاب کو کامیاب ہونے دیں پھر دیکھیں گے کون کس کو مبارک باد دیتا ہے اور وہ میرے تجزیہ پر یقین نہیں کررہے تھے۔  ایسی ہی گفتگو جناب نواب بگٹی مرحوم سے ہوئی ابھی امام ایران نہیں پہنچے تھے تیاری مکمل ہوگئی تھی ایک دن فون کیا تو نواب سے کہا کہ ایران میں انقلاب آرہا ہے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ شیعہ حضرات کتنے اماموں کو مانتے ہیں انہیں جواب دیا کہ گیارہ اماموں کا عقیدہ رکھتے ہیں ٹیلی فون پر ہنسے اور کہا بس یہ انقلاب بھی گیارہ ماہ تک ہی ایران میں رہے گا انہیں جواب دیا کہ نواب صاحب امام خمینی کوئی پاکستانی مولوی نہیں ہے ، وہ خمینی ہے اور جس دن وہ ایران پہنچ گئے اور انقلاب برپا ہوگیا تو پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت حکومت کرنے سے روک نہیں سکے گی انہوں نے کہا دیکھیں گے پھر جب انقلاب برپا ہوگیا اور اس کی جیت کو دیکھا تو انہوں نے اس کو اسلامی انقلاب تسلیم کرلیا وہ چیف منسٹر تھے خانہ فرہنگ میں انقلاب کی تقریب میں شریک تھے انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران کا انقلاب روس سے زیادہ عوامی انقلاب ہے اور ایک بار مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انقلاب اور امام خمینی کو سلام ہے کہ اس نے ایک قوم کو جو عیاشی میں ڈوبی ہوئی تھی فولاد میں تبدیل کردیا اور امریکہ کے سامنے کھڑا کردیا اور شہنشاہ کو شکست دے دی۔ انقلاب کے آخری لمحات میں فوج نے اقتدار سنبھال لیا تھا اور قوم پرست رہنماء شاہ پور بختیار ایران کے وزیر اعظم نامزد ہوگئے تھے اور شاہ ایران سے فرار ہوگیا تھا بائیں بازو کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا ہے جب کوئی اہم تاریخی موڑ آتا ہے تو بایاں بازو ہمیشہ حکمرانوں کے کام آتا ہے اور اپنی سوچ اور فلسفہ کے برعکس کام کرتا ہے یہ بہت بڑا المیہ اور تضاد ہے ایران میں بھی شاہ پور بختیار روس نواز بائیں بازو کا آدمی تھا لیکن عین موقع پر شاہ ایران کا حامی بن گیا اور وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا اور پاکستان میں بھی ہم بائیں بازو کے تضاد کو تاریخ کے آئینہ میں دیکھ سکتے ہیں سوشلزم کے خاتمہ کے بعدتمام کے تمام امریکی کیمپ کی چھتری تھامے کھڑے نظر آئیں گے یہ ان کا بڑا یوٹرن ہے اور انہیں اس کا ادراک ہی نہیں ہوسکا ہے۔ ایران میں مجاہدین خلق کا کردار بھی منافقانہ تھا انقلاب کے ساتھ چلے اور آخر میں امریکن کیمپ میں کھڑے ہوگئے اور انقلاب کے خلاف سازشیں کرتے رہے ایران کے انقلاب نے 1979ء فروری سے 2015ء فروری تک بڑی استقامت سے منصوبہ بندی اور بڑی ذہانت سے اپنے انقلاب کو آگے لائے ہیں اور اس کا سفر جاری ہے تمام سازشوں کے باوجود انقلاب کا قائم رہنا اس قوم اور لیڈر شپ کی صلاحیتوں کو داد دینا چاہئے مشرق وسطیٰ میں اس کی پالیسی عرب حکمرانوں کی نسبت بہت زیادہ کامیاب ہے اور تدبر سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ عرب ممالک کی پالیسیاں امریکن نواز ٹھہر گئی ہیں ایران نے اپنی پالیسی کو برقرار رکھا ہے اور مغربی ممالک کی تمام سازشوں اور ہتھکنڈوں کا بڑی ذہانت سے مقابلہ کیا ہے اور اس کا سفر جو 1979ء 11فروری کو شروع ہوا تھا 2015ء تک جاری ہے ۔

مزید : کالم


loading...