پاکستان : نئی غلامی کے نرغے میں

پاکستان : نئی غلامی کے نرغے میں
 پاکستان : نئی غلامی کے نرغے میں

  

غلامی کی معلوم تاریخ تو بہت پُرانی ہے کم از کم 10000 سال یا اس سے بھی زیادہ ، لیکن میَں روائتی غلامی کے بارے میں نہیں لکھ رہا۔ میَں افریقی / امریکی غلاموں کے بارے میں بھی کوئی ذکر یہاں نہیں کرنا چاہتا، حالانکہ معاشی غلامی زمانہِ قدیم سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ میَں تو بات کر رہا ہوں پاکستانی غلاموں کی جو تعداد میں تو36 لاکھ کے قریب ہیں اور سب کے سب عرب ممالک میں ملازمتیں کر کے اپنی معاشی ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں اور پاکستان کے لئے کثیر زرِمبادلہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ سعودی عرب سے ہمیں 9 ارب ڈالرز سالانہ کی ترسیلات ہمارے تارکینِ وطن کی طرف سے آتی ہیں۔

کبھی یہ رقم 13 ارب ڈالر تھی۔ اِسی طرح عرب اِمارات میں کام اور تجارت کرنے والے پاکستانی اس ناساز گار فِضا میں بھی ساڑھے 3 ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں۔ تمام عرب ممالک سے پاکستانی قریباً 15 ارب ڈالر ترسیل کرتے ہیں۔

عرب ممالک میں ملازمت کرنا آسان نہیں ہے۔ اعلیٰ درجے پر فائز پاکستانی تو پھر بھی اپنی عزتِ نفس بچانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں، لیکن ہمارے مزدُور اور ہنر مند پاکستانی اِن نو دولتئے عرب کفیلوں کے ہاتھوں ناجائز بے عزتی کرانے پر مجبور ہوتے ہیں، کیونکہ پاکستان واپس آکر اُنہیں بے روزگاری کے علاوہ روٹی روزی کا انتظام نئے سرے سے شروع کرنے کا فکر ہوتا ہے۔ دراصل ہماری قومی غلامی کا دور تو اُسی وقت شروع ہو چکا تھا، جب ہمارے اکابر نے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا شروع کیا۔ 1952ء تک ہم اِقتصادی طور پر توانا تھے۔ ہم سعودی عربیہ کو سالانہ امداد دیتے تھے۔ (یہ میَں تاریخی حوالے سے لکھ رہا ہوں۔ ہمارے 1951ء سے 1954ء تک کے قومی بجٹ کو دیکھ لیں)صرف کویت اور بحرین اِقتصادی طور پر خود کفیل تھے۔وہاں خطہِ پاکستان کے ہنر مند 1947 سے قبل رہائش پذیر تھے، کیونکہ یہ دونوں اِمارات برطانوی مقتدرِ اعلیٰ کے زیرِ اثر تھیں۔ اِن اِمارات میں ملازمت یا کاروبار کرنے کے لئے ویزا برطانوی حکام کی اِجازت سے ملتا تھا۔ ابھی متحدہ اِمارات کا نام و نشان بھی نہ تھا۔

تیل کی دولت کی برامدات تو 1967ء میں شروع ہو گئی تھیں، لیکن تیل سے پیدا شدہ دولت اِن عرب ممالک میں OPEC بننے کے بعد آئی۔ اِس بے تحاشہ دولت کی کھپت کے لئے مہنگے مہنگے ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ بدّو عرب انگریز کی غلامی کے دوران صرف قاصد (Peon) اور ڈرائیور کا کام جانتے تھے۔ لہٰذا اِن نودولتئے عرب ممالک کو ہمہ قسم کے کاموں کے لئے تارکینِ وطن کی ضرورت پڑی جہاں اور ممالک سے مشرق وسطیٰ میں افرادی قوت (Manpower) آئی وہیں ہم پاکستانی ہنر مندوں نے بھی ہر قسم کی ملازمت کے لئے عرب ممالک کا رُخ کیا۔ جب ترقیاتی کام عروج پر تھے تو صرف مشرقِ وسطیٰ میں 40 لاکھ پاکستانی جو زیادہ تر مزدور تھے مختلف آسامیوں پر کام کر رہے تھے۔ پاکستان میں زرِ مبادلہ کی ترسیل عرُوج پر تھی۔ ہماری کوتاہ بین حکومتوں نے اس ہوائی زرِمبادلہ سے کوئی ٹھوس کام سر انجام نہیں دیئے، بلکہ بیرون ملک پاکستانی ملازمین نے 1973ء سے1990ء کے عرصے کے درمیان ہماری معیشت کو Consumerist بنا دیا۔

ہم پاکستانیوں کو ہر سال اپنے پہلے پھیرے پر الیکٹرونک ساز و سامان لانے کی اِجازت مل گئی۔ دوسرے اور تیسرے پھیرے پر واجبی سا TAX ادا کر کے ہم ہر قسم کی امپورٹڈ اشیاء لا سکتے تھے۔ فرج، ٹیلی ویژن، بریف کیس، اٹیچی کیس، ٹیپ ریکارڈرز، کراکری اور دیگر لگژری اشیائے صرف نے لاہور کی مارکیٹوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہماری صنعت کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ہاں RGA کے نام سے بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن بننے شروع ہو گئے تھے۔ شہاب اور کلائمیکس کے نام سے فرج بننے شروع ہو گئے تھے ، لیکن ہماری مقامی مصنوعات اِمپورٹڈگھر یلو سازوسامان کا مقابلہ نہ کر سکیں اور اَب اُن کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ اِن تارکینِ وطن کی بھیجی ہوئی Appliances سے ہماری مقامی صنعتیں مقابلہ نہ کر سکیں اور یوں ہماری معیشتConsumer Economy بن گئی۔

یہ جو 30-40 لاکھ پاکستانی عرب ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ اُن کی وجہ سے پاکستان کے 20 کروڑ عوام اور ہماری حکومتیں عربوں کے یرغمالی بنے ہوئے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کی تشکیل کے وقت تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی خوشنودی کو مدِّ نظر رکھا جاتا ہے۔ 2 سال قبل یمن اور سعودیہ کی جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ، امارات کے ایک جونیر وزیر نے پاکستان کو جو ’’تڑی‘‘ لگائی تھی، ہمیں بھولی نہیں ہے۔ ’’تڑی‘‘ لگوانے والا ملک تو سعودی عربیہ ہی تھا۔ جہاں سے ہمارے ہنر مند ہمیں 9 ارب ڈالر ز سے زیادہ زرِمبادلہ بھیجتے ہیں۔ پاکستان کی ہر حکومت اس خوف میں مبتلا رہتی ہے کہ عربوں کی ناراضگی پاکستان میں فاقہ کشی نہ لے آئے۔ ایران ہمارا ازلی ہمسایہ ہے۔ اُس کا 900 کلو میٹر بارڈر پاکستان کے ساتھ لگتا ہے۔ فارسی کلچر ، زبان اور کھانے ہمارے ہر گھر کا حصہ ہیں۔ 2 کروڑ سے بھی زیادہ ہمارے شیعہ بھائی صدیوں سے ہمارے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ایران بھی تیل پیدا کرتا ہے، لیکن وہ تیل کی دولت کی کھپت کے لئے اپنی ہی افرادی قوت پر انحصار کرتا ہے۔ اس لئے اُسے پاکستانی مزدوروں ، ہنر مندوں، ڈاکٹروں اور انجینئرز کی ضرورت نہیں ہے، چونکہ پاکستان کو اِیران سے ترسیلات نہیں آتیں اور ایران سے ہماری تجارت کا حجم بھی کم ہے بمقابلہ GCC ممالک کے، اس لئے ہم اپنے Natural ہمسائے کے مقابلے میں اِن دُور اُفتادہ عرب ممالک کی حمائت کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ہمارے 35 لاکھ پاکستانی ہمیں زرِ مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ ابھی اِن عرب ممالک کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے کئی دہائیاں لگ جائیں گی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری افرادی قوت کی طلب بھی کم یا زیادہ رہے گی اور یوں پاکستان کی مجبوری ہو گی کہ وہ اِن عرب ممالک کی ناروا خواہشات کا احترام کرے۔ ہر سال عرب شہزادے پاکستان میں تلور کا شکار کرنے آتے ہیں اور ہر سال ہمارا میڈیا اور ہماری عدالتیں اس شکار پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن کچھ بھی تو نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم اپنے 35 لاکھ تارکینِ وطن کی ملازمتوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ ہماری یہ رضا کارانہ غلامی بڑھتی ہی جائے گی، کیونکہ ہماری آبادی بے تحاشہ بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی غربت کو جنم دیتی ہے۔ غربت جہاں احساسِ لطافت مٹا دیتی ہے وہاں غریب ماں باپ اپنے بھوک سے تنگ بچوں کے لئے شفقت اور ممتا سے بھی عاری ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے کمسن بچوں کو اُونٹوں کی دوڑ کے لئے عرب شیخوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ جبری غلامی سندھ اور جنوبی پنجاب میں عام ہے۔ ہماری غریب آبادی اِنسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ کر ایک مہیب غلامی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ غلامی جان لیوا بھی ہوتی ہے۔ ہم عربوں کی غلامی میں کہاں تک جا سکتے ہیں۔ وہ آپ اس طرح سمجھ لیں کہ ہم نے سعودی بادشاہ کی ایک غیر عملی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنا ایک ریٹائرڈ جرنیل راحیل شریف کی شکل میں Muslim Military Alliance کی سربراہی کے لئے دے دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی تک یہ کاغذی فوج عملی شکل اختیار نہیں کر سکی ہے۔

کچھ دہایوں کی بات ہے زمینی تیل کی دولت آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے اس کے نعم البدل Shale oil کی شکل میں آ گئے ہیں۔ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی نے پیٹرول کی کھپت میں کمی بھی کر دی ہے ۔ تیل کی قیمتوں کے مزید بڑھنے کا احتمال کم ہی ہے۔عرب ممالک کا Social infra-structure مکمل ہو چکا ہے۔ آئندہ سالوں میں اَن پڑھ پاکستانی مزدور کو اِن ممالک میں ملازمت نہیں ملے گی۔ یہاں تک کہ بڑی عمارتوں کے چوکیدار (حارث)بھی اَب کمپیوٹر لٹریسی کے ماہر ہونے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے پڑھے لکھے مزدوروں کی زیادہ ضرورت ہے۔کچھ وجوہات سیاسی بھی ہیں۔

GCC ممالک کا جھکاؤ اَب جنوبی ایشیاء کے ممالک بشمول نیپال کی طرف زیادہ ہو گیا ہے۔ ہم پاکستانی زیادہ تر مزدور پیشہ ہیں۔ اعلیٰ ملازمتوں اور اعلیٰ پیشوں میں بھی پاکستانیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ اَب تو دُعا ہے کہ اللہ پاکستان کے CPEC کے منصوبے کو کامیاب کرے اور ہمارے پاکستانیوں کو عربوں کے گستاخانہ روّئیے سے نجات ملے۔ ہماری مشرقِ وسطیٰ سے متعلق خارجہ پالیسی آزاد ہو اور ہم واقعی آزاد ہو جائیں۔

مزید : کالم