ورلڈ الیون کی آمد، انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں

ورلڈ الیون کی آمد، انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں

 شدید حبس اور گرمی کے بعد ٹھنڈی اور تازہ ہوا کا جھونکا ہمیشہ دلوں کو مسرور اور آنکھوں کو خوشی سے پر نم کردیتا ہے۔ یہی صورت حال ہے پاک وطن کی جس کی گلیاں امن و آشتی کے ساتھ پیار کے نغموں، کھیل کے ترانوں سے گونجا کرتی تھیں جنہیں منحوس دشمن نے اس وطن سے کچھ وقت کے لئے دور کردیا تھا، مگر قوم اور اس کے محافظوں کی امن اور کھیل سے محبت کو وہ ہرا تو نہیں سکا البتہ انگلستان کی سرزمین پر پاکستان کے شاہینوں نے بھارتی سورماؤں کا وہ بھی کیس نکالا کہ ’’بھگوان‘‘ کے پجاری پاکستان کو بھی مان گئے اور اس کے کھیل سے محبت کو بھی۔۔۔

چیمپئن ٹرافی کی جیت اس پاک دھرتی کے اداس میدانوں کے لئے دوبارہ عالمی کرکٹ کی وہ نوید لائی ہے جس نے کرکٹ شائقین کے دل گرمادیئے ہیں، اب قذافی سٹیڈیم کی سرسبز گھاس اپنی کونپلوں پر دوڑتے کھلاڑیوں کے استقبال کو تیار ہے ایک بار پھر امن اور کھیل کو جیت میں حسداور سازشوں کی ہار ہوئی۔ اب پاکستانی میدان اپنے مہمان کھلاڑیوں کے لئے سجنے لگے ہیں۔قذافی سٹیڈیم کا میدان ہوگا اور ورلڈ الیون کے چنیدہ کھلاڑی پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کا افتتاح میچ 12ستمبر کو کھیلیں گے،جہاں ڈھول بھی بجیں گے اور سیٹیاں بھی چوکوں اور چھکوں پر داد کے شور اور جشن کی آوازیں پاکستان کے حاسدوں کو سنائی دیں گے۔

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کا میلہ سجنے میں دو روزباقی رہ گئے۔ورلڈ الیون اور پاکستان کے درمیان تینوں میچز 12، 13 اور 15 ستمبر کو لاہور میں کھیلے جائیں گے۔پاکستان اور انٹرنیشنل الیون کے درمیان سیریز ’’انڈیپنڈینس‘‘ کے نام سے ہو گی۔پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کو کامیاب بنانا نہ صرف پی سی بی اور حکومت کی بلکہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے۔ ورلڈ الیون کا دورہ کامیاب ہوا تو پھر سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی بھی ٹیمیں پاکستان آئیں گی ۔اس کے بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ مکمل طور پر بحال ہوجائے گی اور پھر ہم دُنیا کے دیگر ممالک کے بورڈز سے بھی بات چیت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کے میچز کے انعقاد کے لئے بہت مشکلات تھیں، سیکیورٹی ٹیم کو مطمئن کرنا بڑا چیلنج تھا، بین الاقوامی پلیئرز کی بہت سی ڈیمانڈز ہیں، کرکٹرز اور بورڈز کے مسائل رہے، ورلڈ الیون کے لئے مختصر وقت میں متوازن ٹیم بنانا تھی، جس میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے صف اول کے پلیئرز شامل ہوں اور اللہ کے فضل سے ہمیں اس میں کامیابی ہوئی ہے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ کراچی میں بھی انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور ہماری کوشش تھی کہ ورلڈ الیون کے دو میچز وہاں کروائیں ، تاہم فی الحال عالمی پلیئرز وہاں کھیلنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، انٹرنیشنل سیکیورٹی ٹیموں کو کراچی کادورہ کروائیں گے اور انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے جس کے بعد کراچی میں پہلے پی ایس ایل کے اور پھر دیگر انٹرنیشنل میچز کروائیں گے ۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کا دور�ۂپاکستان اور اس ایونٹ کی کامیابی سے مستقبل میں ملک میں مزید کرکٹ آئے گی۔چیئر مین پی سی بی نے کہا کہ ہمیں دُنیا کو پاکستان کا منفی نہیں،بلکہ مثبت پہلو دکھانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شاہد آفریدی ،مصباح الحق اور یونس خان کے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں امید ہے کہ تینوں کرکٹرز آئیں گے ۔شاہد آفریدی اور مصباح الحق نے آنے کی حامی بھری ہے، جبکہ یونس خان سے بھی بات ہوئی اور امید ہے کہ وہ بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔عمران خان سمیت پندرہ سے بیس سابق کرکٹرز کو میچز دیکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔ قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ورلڈ الیون کے دورۂ پاکستان سے ناصرف ملک کے ویران میدان آباد ہوں گے،بلکہ ورلڈ الیون کے دورہ ملک میں کرکٹ کے فروغ کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان ٹیم میں کپتان سرفراز احمد، فخر زمان ، احمد شہزاد، بابر اعظم، شعیب ملک، عمر امین، عماد وسیم، شاداب خان، محمد نواز ،فہیم اشرف، حسن علی، عامر یامین، محمد عامر، رومان رئیس، عثمان شنواری اور سہیل خان شامل ہیں۔جنوبی افریقی کپتان فاف ڈپلوسی کی قیادت میں ورلڈ الیون ٹیم 11 ستمبر کو پاکستان پہنچے گی۔مہمان ٹیم ہاشم آملہ، عمران طاہر، مورنی مورکل، ڈیوڈ ملر، جارج بیلی، ٹم پین، سیموئل بدری، بین کٹنگ، پال کولنگ وڈ، گرینٹ ایلیٹ، تمیم اقبال اور تشارا پریرا پر مشتمل ہے،جبکہ تینوں فارمیٹ میں سنچری بنانے والے پاکستان کے واحد کھلاڑی احمد شہزاد ورلڈ الیون کے خلاف عمدہ کارکردگی کے لئے پُرامید ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے سبب کئی کھلاڑی اپنے ہوم کراؤڈ اور گراؤنڈ پر کھیلنے سے محروم رہے ہیں۔2015ء میں زمبابوے کے مختصر دورہ پاکستان کے بعد اب ورلڈ الیون کے لاہور میں تین ٹی 20میچوں کے لئے پاکستان آنے کے سبب یہ تشنگی بہت سے کرکڑز کے لئے ختم ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ اوپنر احمد شہزاد جنہوں نے 7مئی 2009ء کو دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں آسڑیلیا کے خلاف اولین ٹی 20 میچ کھیلا تھا اور ستمبر 2015ء میں انہوں نے زمبابوے کے خلاف 2ٹی 20میچوں میں ایک نصف سنچری کیساتھ 73رنز بنائے تھے۔احمد شہزاد نے 48ٹی 20 میچوں میں پاکستان کے لئے 24.63 کی اوسط سے 1133 رنز ایک سنچری اور6نصف سنچریوں کی مدد سے بنا رکھے ہیں۔ ٹی20 کرکٹ میں عمر اکمل، شعیب ملک، محمد حفیظ اور شاہد آفریدی کے بعد احمد شہزاد ایک ہزار سے زائد رنز سکور کرنیوالے پانچویں کھلاڑی ہیں، 13ستمبر کو قذافی سٹیڈیم میں دوسرا ٹی 20احمد شہزاد کے کیرئیر کا 50 واں میچ ہوگا۔ 30مارچ 2014ء کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف احمد شہزاد نے 62گیندوں پر ناقابل شکست111رنز بنا کر پاکستان کے پہلے کھلاڑی ہو نے کا اعزاز حاصل کیا، جس نے تینوں فارمیٹ یعنی ٹیسٹ ،ون ڈے اور ٹی 20کرکٹ میں سنچری بنائی۔دنیا کے اب تک 9کھلاڑی ہی یہ کارنامہ انجام دے سکے ہیں اور ان میں جنوبی افریقا کے فاف ڈوپلیسی بھی شامل ہیں جو کہ ورلڈ الیون کے کپتان کی حیثیت سے پاکستان آرہے ہیں،جبکہ دوسری جانب وقار یونس نے کہا ہے کہ خوش قسمت ہوں کہ قذافی سٹیڈیم میں ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلنے کا موقع ملا۔ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کی تیاریاں دیکھ کر وقار یونس کو اپنا دور یاد آگیا، کئی حسین یادیں اس گراؤنڈ سے وابستہ ہیں، میرے لئے اس میدان کو دوبارہ آباد ہوتے دیکھنے کا تصور ہی بڑا خوشگوار ہے۔سابق کپتان نے کہا کہ 10سال سے ملکی میدان ویران ہیں، زمبابوے ٹیم کی آمد اور پی ایس ایل فائنل کے سوا کوئی سرگرمی قذافی سٹیڈیم میں نظر نہیں آئی،اس میدان کی اپنی تاریخ ہے، ان خوش قسمت کھلاڑیوں میں سے ہوں جنہیں یہاں اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلنے اور داد سمیٹنے کا موقع ملا، میری کئی حسین یادیں اس گراؤنڈ سے وابستہ ہیں، میرے لئے اس میدان کو دوبارہ آباد ہوتے دیکھنے کا تصور ہی بڑا خوشگوار ہے، پورے ملک کے عوام کرکٹ کی واپسی کا جشن مناتے نظر آئیں گے۔وقار یونس نے کہا کہ پاکستان کے شائقین انٹرنیشنل کرکٹ کو ترسے ہوئے اور اپنے ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے کا بیتابی سے انتظار کررہے ہوں گے۔ ورلڈ الیون کی آمد پر سٹیڈیم چھوٹا پڑ جائے گا، پرستاروں کا جوش وخروش فضا میں رنگ بکھیر دے گا۔ سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ مہمان کرکٹرز،کوچز اور مینجمنٹ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، مختلف ملکوں کے کھلاڑی ہمارا جوش وخروش اور خوشی دیکھنے کے بعد دُنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کا ذریعہ بنیں گے، ہماری کرکٹ درست سمت میں گامزن ہے امید ہے کہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی آمد کے بعد دیگر غیر ملکی ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی۔جبکہ لاہور میں ورلڈ الیون کے تین میچوں کے کا میاب انعقاد کے بعد پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تیسرا ٹی 20 انٹرنیشنل 29 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ کرکٹ سری لنکا نے دورے کے شیڈول کی منظوری دے دی ہے اور اس کا با ضابطہ اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا۔ لاہور کا ٹی 20 سیکیورٹی سے مشروط ہے۔ سیریز کا آغاز دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے ہو گا۔ سیریز میں دوسرا ٹیسٹ ڈے اینڈ نائٹ ہو گا جبکہ پانچ ون ڈے انٹر نیشنل میچ بھی ہوں گے۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ شیخ زید اسٹیڈیم ابوظبی میں 28 ستمبر سے دو اکتوبر تک ہوگا۔ دبئی ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کی مسلسل دوسرے سال میزبانی کرے گا۔ یہ ٹیسٹ 6سے10اکتوبر تک کھیلا جائے گا۔ پروگرام کے مطابق پہلا ون ڈے 13اکتوبر کو دبئی، دوسرا ون ڈے 16 اکتوبر کو ابوظبی، تیسرا 18 اکتوبر کو ابوظبی ، چوتھا 20 اکتوبر کو شارجہ اور پانچواں ون ڈے23 اکتوبر کو شارجہ میں کھیلا جائے گا۔پہلے دو ٹی ٹوئنٹی 26 اور27 اکتوبر کو دبئی میں ہوں گے۔

مزید : ایڈیشن 2