فوجی پس منظر پر فخر ہے ، نواز شریف پر جب مشکل وقت آتا تو مجھے ذبح کرتے ہیں ، چودھری نثار

فوجی پس منظر پر فخر ہے ، نواز شریف پر جب مشکل وقت آتا تو مجھے ذبح کرتے ہیں ، ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سابق وزیر داخلہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کبھی میری تنقید ناگوار نہیں گز ر ی لیکن13 ء کے بعد گزری ،نواز شریف سے اختلافات پالیسی سے متعلق ہے ،مجھے جان بوجھ کر مشاورت سے دور رکھا گیا، کابینہ میں نواز شریف سے اس کا ذکر بھی کیا،پرویزمشرف نے مجھ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی مگر میں نے انکار کر دیا، ایا ن علی کا کیس وزارت داخلہ نہیں خزانہ کے پاس تھا ، وزارت خزانہ کے کہنے پر ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈالاگیا، ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری میں بھی وزارت داخلہ کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، سیاسی مخالفت پر پیپلز پارٹی نے مجھ پر الزامات لگائے، نواز شر یف پر جب مشکل وقت آتا ہے تو مجھے ذبح کرتے ہیں ۔ ڈان لیکس میں جن لوگوں کو سزا ملی ان کو ایسے نہیں ہٹایا گیا، کوئی غلط کام کیا ہو گا۔ ڈان لیکس کمیٹی میں پانچ لوگ شامل تھے، ان کی خواہش تھی میں اور اسحاق ڈار ڈان لیکس کمیٹی کی انکوائری کریں۔ اسحاق ڈار نے مجبوری ظاہر کی جس کے بعد میں نے زبانی رپورٹ دی۔ڈان لیکس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آرمی نے دی، وزیراعظم اور سیکرٹری آئی جی نے تصدیق کی۔ حکیم اللہ محسود سے مذاکرات میں فوج اور امریکہ سمیت دیگر دوست مما لک کو اعتماد میں لیا گیا تھا ،حکیم اللہ محسود سے مزاکرات سنجیدگی سے کئے ، مگر وہ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف دھماکے کر رہے تھے جس کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا ۔ وزیراعظم نواز شریف نے مجھے آپریشن کیلئے سیاسی جماعتوں سے رابطہ کا ٹاسک دیاتوسیاسی جماعتوں میں سے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت کئی نے مخالفت اور کئی نے حمایت کی۔ہفتے کے روز نجی ٹی وی کو انٹرویومیں انکا مزید کہا تھا میرا ذہن فوجی نہیں ،خا ند انی پس منظر فوجی ہے۔ میرے والد برصغیر کے سینئر فوجی تھے،4پشتوں سے میرا فوج سے تعلق ہے، میں فوجی ماحول میں پلا بڑا ہوں، جس پر مجھے خوشی ہے ، کیونکہ فوج وطن کی خا طر قربانیاں دیتی ہے، میں بچپن میں فوجی بیرکوں میں رہا ہوں، نظم و ضبط فوج سے سیکھی ۔ 1985ء سے سیاست میں ہوں اور الیکشن جیتتا آ رہا ہوں۔ حکومت وقت سے کئی بار بہت مخالفت کی لیکن اس کے باوجود حلقے کے عوام نے مجھ پر اعتماد کیا،تنہائی پسند نہیں ، انسان ہوں مجھ سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں میں دوستی بھی نبھاتا ہو ں ۔ میں نے آج تک پارٹی اور نواز شریف سے اختلافات کو پبلک میں عام نہیں کیا، جن لوگوں نے عوام میں یہ بات عام کی وہ بد دیانت ہیں ۔ سیا ست اور طرز حکومت ایک فن بھی ہے اور سائنس بھی ۔ ہمیشہ یہ کوشش کی کہ حالات کے مطابق چلا جائے ۔ سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کرنے سے سیاست میں جیت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان پر مشکل حالات درپیش ہیں ہمیں گھیرا جا رہا ہے۔ محاذ آرائی کی بجائے ہمیں مل کر حالات سے نبرد آزما ہونا ہو گا۔مجھ پر فوج کا آدمی ہونے کا الزام وہی لوگ لگاتے ہیں جن کے پاس مجھ پر الزام لگانے کیلئے کچھ نہیں ہوتا۔ جنرل آصف نواز نے ایم کیو ایم کیخلاف اسٹینڈ لیا تو فوج کیساتھ ہمارے تعلقات خراب ہو گئے۔ مجھ پر قتل کا الزام لگا مشرف دور میں مجھے دوسال نظر بند کر دیا گیا۔ جنرل پاشا سے میرے تعلقات خراب رہے۔ جنرل اسلم بیگ سے آج بھی اچھے تعلقات ہیں۔ مشرف دور میں میرے حلقے کو دو حصوں میں توڑنے کی کوشش کی گئی۔ مجھ سے حلقے کی حد بندی کی ڈیل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن میں نے ڈیل نہیں کی۔ رینجرز نے پورے ملک سمیت کراچی کا اامن بحال کرنے میں کردار ادا کیا۔

چوہدری نثار

مزید : صفحہ اول