گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیاسائٹ ٹویٹر کی جانب سے کشمیر ی نوجوانوں کو مسلسل کیا پیغام بھیجا جا رہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد دُکھ ہو گا

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیاسائٹ ٹویٹر کی جانب سے کشمیر ی نوجوانوں کو مسلسل ...
گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیاسائٹ ٹویٹر کی جانب سے کشمیر ی نوجوانوں کو مسلسل کیا پیغام بھیجا جا رہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد دُکھ ہو گا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بظاہر لگتا ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر سمیت تمام بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح بھارت کے قبضے میں چلی گئی ہیں، کیونکہ یہ ویب سائٹس ہر اس صارف کا اکاﺅنٹ فوری طور پر بند کر دیتی ہیں جو مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھاتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے کشمیری نوجوانوں اور کشمیر میں جاری بھارتی فوجی بربریت کے خلاف بولنے والے دیگر ممالک ، بشمول پاکستان، کے صارفین کو ٹوئٹر کی طرف سے مسلسل ایک پیغام بھیجا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں ان کی عمومی ٹویٹس کو بھی بھارتی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت نے شکایت کی ہے کہ یہ صارف ہمارے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ 

ٹی آرٹی ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیغام آنے کے بعد مذکورہ ٹویٹس ویب سائٹ سے ہٹا دی جاتی ہیں اور اگلی کوشش پر اکاﺅنٹ ہی بند کر دیا جاتا ہے۔ بھارتی ایماءپر ٹوئٹر کی طرف سے نشانہ بنائے جانے والوں کی تعداد لامحدود ہے جن میں 34سالہ کشمیری صحافی وسیم خالد بھی شامل ہیں۔

انہوں نے 31اگست کو ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں بھارتی فوج نے ایک 16سالہ کشمیری لڑکے کو ہتھکڑی پہنا کر اپنے سامنے زمین پر بٹھا رکھا ہوتا ہے۔ خالد تصویر کے ساتھ لکھتا ہے کہ ”بھارتی فوجیوں نے اس کشمیری نوجوان کو ’انسانی ڈھال‘ بنا رکھا ہے تاکہ مظاہرین ان پر پتھراﺅ نہ کریں۔“ اس ٹویٹ کے فوری بعد خالد کو ٹوئٹر کی طرف سے مذکورپیغام موصول ہو گیا۔ خالد کا کہنا ہے کہ ”ٹوئٹر کی طرف سے یہ مجھے کوئی محبت نامہ نہیں بھیجا گیا۔ ٹوئٹر کی طرف سے بھارتی حکومت کے کہنے پر ہر اس صارف کو یہ ’دھمکی‘ دی جاتی ہے جو کشمیر میں ہونے والے ظلم کو بے نقاب کرتا ہے۔“

واضح رہے کہ کشمیریوں کی حمایت میں آواز اٹھانے کی ’پاداش ‘ میں ہزاروں پاکستانیوں کے فیس بک اور ٹوئٹر اکاﺅنٹ بھی ہمیشہ کے لیے بند کیے جا چکے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی