مرض بڑھتا گیا

مرض بڑھتا گیا
 مرض بڑھتا گیا

  

پاکستانی دانشوروں کا عمومی خیال یہ ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا واحد حل جمہوریت میں مضمر ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بہر حال اس حد تک درست ہے کہ آج دنیا کے تقریباً سبھی اہم ملکوں میں جمہوریت ہے اور یہی وہ طریقہ ہے، جس کے ذریعے عوام اپنی مرضی سے مقنتہ اور انتظامیہ کا چناؤ کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں یہ بات زیادہ اہم اس لئے ہے کہ ہم دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہیں، جن کی تشکیل ہی ووٹ کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ متحدہ ہندوستان کے آخری انتخابات کے نتائج مطالبہ پاکستان کے حق میں ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں اور مسلم ووٹرز کے رجحان نے انگریز حکمرانوں اور کانگریسی لیڈروں کو بادل نخواستہ تقسیم ہند کے لئے مجبور کردیا تھا۔ اس طرح دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست وجود میں آگئی، مگر سوال یہ ہے کہ تمام دنیا میں کامیاب جمہوریت ہمارے دکھوں کا مداوا کیوں نہیں ہو سکی؟ ایسا کیا غلط ہو جاتا ہے کہ ہر بار ایک خاص وقفے کے بعد کوئی نہ کوئی طالع آزما حکومت پر زور زبردستی سے قبضہ کرلیتا ہے اور عوام اس آئین شکنی کے خلاف سڑکوں پر سوپچاس آدمی بھی نہیں لاسکتے۔ آمروں کا ساتھ دے کر حکومت میں حصہ دار بننے والے غیر جمہوری عناصر کی اکثریت بھی آسمان سے نازل نہیں ہوتی، بلکہ ہمارے ہی نام نہاد سیاسی سیٹ اپ کا حصہ رہی ہوتی ہے۔ کوئی تو بات ہے کہ ایک سابق آمر یہ کہنے کی جرأت کرپایا کہ پاکستان نے تو ترقی ہی فوجی حکومتوں کے دور میں کی ہے۔ یہ اس ملک میں ہو رہا ہے، جہاں مسلم آبادی کی اکثریت ہے اور ہم مسلمان یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ یونان کی شہری حکومتوں کے بعد دنیا میں شوریٰ کے ذریعے حکمرانوں کا انتخاب اور موروثیت کو رد کرنے کا اعزاز ہمیں حاصل ہے۔ اس ضمن میں ہم خلفائے راشدین کی مثال دیتے ہیں، جن کا انتخاب اس زمانے کے حوالے سے ایک بہت بڑا واقعہ ہے، مگر یہ بھی تو ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہم جمہوریت کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑنے کی کوشش میں ہر بار کسی نہ کسی گڑھے میں جاگرتے ہیں۔

ہمیں غور تو کرناچاہیے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جو جمہوریت کی گاڑی کو سپیڈ پکڑنے نہیں دے رہیں۔ صرف اتنا کہہ دینے سے کام نہیں چلنے والا کہ ہمارے رویئے جمہوری نہیں۔ یہ تو ایک عمومی موقف ہے، مگر اصل مسئلہ تو جمہوریت کی گاڑی کے پہیوں کی حیثیت رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا ہے، جن کے ہاں نہ جمہوری رویہ رہا ہے نہ جمہوری نظریہ اور نہ ہی کوئی پارٹی نظریہ۔ مختلف جھنڈوں تلے جتھے اکٹھے ہیں جو کسی بھی طرح مہذب دنیا کی مثالی جمہوری سیاسی پارٹیوں سے لگانہیں کھاتے، بلکہ ایک بہت بڑا ظلم جوان سیاسی جماعتوں نے کیا ہے، وہ نظریاتی سیاسی کارکنوں کو بددل کرکے سیاست سے مایوس کرنے کا ہے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہیں، جب کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی کارکنوں نے اپنے سیاسی نظریے کے لئے جدوجہد کی مارکھائی، قید کاٹی، قتل بھی ہوئے، مگر جب ان قربانیوں کے صلے میں کوئی مقام ملنے کی توقع ہوتی ہے۔ پیشہ ور سیاستدان جو سب کے ساتھ رہنے کا ہنر جانتے ہیں اور جن کی زندگی کا واحد مقصد ہمیشہ اقتدار میں رہنا ہوتا ہے، آدھمکتے ہیں۔ اس طریقہ کار نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ابن الوقت عناصر کا ایسا اجتماع بنادیا ہے، جو ذاتی مفاد سے اوپر سوچنے کی اہلیت سے یکسر عاری ہیں۔ یہ لوگ اجتماعی مفاد اور قومی مقاصد کا نعرہ صرف اس حد تک بلند کرتے ہیں، جب تک وہ ان کے ذاتی مقاصد کی راہ میں معاون ہوں۔ سیاسی جماعتوں کے اس انحطاط اور سیاسی کارکنوں کے زوال میں سب سے منفی کردار ان رہنماؤں کا بھی ہے، جو جمہوری اداروں کے لئے نرسری فراہم کرنے والی ان جماعتوں پر اپنی آمریت مسلط کئے ہوتے ہیں۔ اس رجحان نے موقع پرست عناصر کو اتنا مضبوط کردیا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں جم کر بیٹھے ہیں۔ ان عناصر کی مدد کے بغیر کوئی ایسی سیاسی جماعت جو اس طرز سیاست سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہے تو وہ کچھ نہیں کرسکتی، کیونکہ سیاسی جماعت کو اپنی طاقت انتخابی عمل میں کامیابی کے ذریعے دکھانا ہوتی ہے اور انتخابی حلقے ان لوگوں نے قابو کئے ہوئے ہیں، مجبوراً انہی لوگوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات نکلتا ہے، اس قسم اور قماش کے لوگوں سے بہتری کی توقع عبث ہے۔ انہیں تو یہ بھی پروانہیں کہ ان کی حرکتوں سے خود ریاست کیسے خطرناک مسائل سے دوچار ہے۔ اس طریقہ انتخاب سے جس میں پورا ملک مخصوص سائز کے حلقوں میں تقسیم رہتا ہے موروثیت اپنی بدترین شکل میں نافذ ہوگئی ہے، کیونکہ ناخواندگی، جذباتیت اور غربت ہے۔ انگریز سرکار کے پیدا کردہ جاگیر دار جواب سرمایہ دار بھی بن چکے ہیں، اس طریقہ کار سے مفاد اٹھانے میں سب سے آگے ہیں۔

اگر پاکستان اس طرز سیاست سے نجات حاصل نہ کرسکا تو اس کے مسائل کا مداوا ممکن نہیں، اگر ہم کوئی حقیقی بہتری لانا چاہتے ہیں اور ایک مضبوط جمہوری پاکستان کے خواہشمند ہیں تو باشعور طبقے کو طریقِ انتخاب میں ایسی تبدیلی کے لئے کام کرنا ہوگا، جس میں عوام کو حلقوں کی سیاست سے باہر نکل کر اجتماعی نعروں کے مطابق فیصلے کا اختیار ہو۔ کوئی نام نہاد رہنمااس پوزیشن میں ہی نہ رہے کہ وہ لوگوں کو لالچ، دھونس یا برادری اور فرقہ واریت کے نام پر مجبور کرسکے،جس میں سیاسی نعروں اور نظریاتی پیغام کو شخصیت پر فوقیت حاصل ہوسکے۔ ایسا اسی صورت میں ممکن ہے، جب لوگ امیدوار کی بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیں اور سیاسی جماعت کے حاصل کردہ ووٹوں کے مطابق اس کی ترجیحی فہرست میں سے لوگ کامیاب قراردیئے جائیں۔ اگر ہمارا موجودہ طریق انتخاب ہماری امنگوں کے ترجمان نمائندگان کے انتخاب میں رکاوٹ ہے اور جمہوری کلچرمناسب نمائندگی کو فروغ نہیں دے سکتا۔ تو ہمیں اس ناکامی کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔

مزید : کالم