حضرت شاہ رکن الدین و العالم سہروردیؒ

حضرت شاہ رکن الدین و العالم سہروردیؒ

پاکستان میں تصوف کی تعلیمات دوسری صدی ہجری میں پہنچ چکی تھیں سرزمین ملتان کو برصغیر میں اس لحاظ سے انفرادی و امتیازی مقام حاصل ہے کہ اسے بے شمار اولیائے کرام کا مسکن اور آرام گاہ بننے کا لازوال اعزاز حاصل ہے ۔ اسے بجا طور پر مدینۃ الاولیاء کہا جاتا ہے ہزاروں مقبولان خدا اور وارثان علوم مصطفی ؐیہاں جلوہ افروز ہیں وہ بوریا نشین جن کا فقر غیور دیکھ کر تاج قیصر وتخت طاؤس نظر وں سے گر جائے ۔ اسی خاک پاک میں آرام فرماہیں مدینۃ الاولیاء ملتان کی عظیم المرتبت اور جلیل القدر شخصیات میں شیخ الاسلام، غوث العالمین حضرت بہاؤالحق والدین زکریا سہروردی ملتانی ؒ کانام نامی نمایاں ہے اور آپ ہی کی نسبت سے ملتان کو غوث کی نگری کہا جاتا ہے ۔ حضرت غوث بہاؤ الدین زکریاؒ سہروردیہ میں شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین عمر سہروردی ؒ کے بعد سب سے بڑی شخصیت اور برصغیر میں سلسلہ سہروردیہ کے بانی ہیں قطب الاقطاب حضرت شاہ رکن عالم ؒ غوث العالمین کے پوتے اور مخدوم شیخ صدر الدین عارف ؒ کے لخت جگر ہیں ۔ آپ نے اپنے دادا اور والد سے روحانی فیوض و برکات حاصل کئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بی بی راستی پاک دامن ؒ اپنے زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت کی وجہ سے رابعہ عصر کہلاتی تھیں ۔ انہوں نے بھی حضرت غوث کے زیر سایہ باطنی و روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی آپ روزانہ ایک قرآن مجید ختم کرتی تھیں حضرت شاہ رکن عالم ؒ کی ولادت سے پہلے حضرت غوث بہاؤالدین ؒ نے یہ بشارت دی تھی کہ ان کی وجہ سے خاندان بھر کا چراغ روشن رہے گا ۔ آپ نے ظاہری تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی اور روحانی تربیت میں جدامجد سے فیض یاب ہوئے۔ دونوں بزرگ باپ اور دادا ان کو بہت محبوب رکھتے تھے ۔ شاہ رکن الدینؒ دونوں بزرگوں کا اتنا احترام کرتے تھے کہ کبھی ان سے آنکھیں چارنہ کرتے نہ بلند آواز سے بولتے شاہ رکن عالم کی ذات میں علم ، تواضع ، شفقت ، حلم ، موافقت ، بشاشت و مروت ، عفووحیاء ، حسن ظن جیسی جملہ صفات بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں اور آپ نے مکاشفہ و محاسبہ سے اتنے مدارج طے کر لئے تھے کہ آپ کو مخزن مشہود، منبع جود نامتناہی، ادریس خلوت و حدت ، برجیس برج معرفت ، گوہر معدن صفات لاریب ، لولوئے سجہ دریا ئے غیب ، زبدۃ المشائخ مفتاح قفل حق الیقین کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے ۔

سلسلہ سہروردی کے بزرگان دین کے سلاطین وقت سے تعلقات وروابط رہے، لیکن ان نفوس قدسیہ نے کبھی بھی دربار شاہی سے اپنے ذاتی اورنجی فوائد و مقاصد ہرگز حاصل نہ کئے،بلکہ بندگان خدا کی دادرسی اور مظلوموں اور مجبوروں کی حاجت روائی فرماتے رہے سلطان علاؤالدین خلجی کے عہد حکومت میں قطب الاقطاب جب ملتان سے دہلی تشریف لائے تو سلطان نے شاہی تزک و احتشام کے ساتھ دہلی سے باہر آپ کا استقبال کیا اور بصداعزاز و اکرام آپ کو دہلی لایا او ر دولاکھ ٹکے نذر پیش کئے اور پھر روانگی کے وقت پانچ لاکھ مزید نذرکئے ۔حضرت شاہ رکن عالمؒ نے دہلی چھوڑنے سے پہلے یہ ساری رقم فقر اء اور مساکین میں تقسیم کردی ۔حضرت شاہ رکن الدین ؒ اگرچہ دہلی میں شاہی مہمان ہوتے تھے، مگر آپ کا زیادہ وقت حضرت خواجہ خواجگان نظام الدین بدایوانی محبوب الٰہیؒ کی صحبت میں بسر ہوتا تھا دونوں ہستیوں کے درمیان بے مثال محبت اور غیر معمولی احترام باہم تھا قیام دہلی کے دوران ایک مرتبہ شاہ رکن الدینؒ نمازجمعہ ادا کرنے جامع مسجد تشریف لائے حضرت محبوب الٰہیؒ ؒ پہلے سے موجود تھے۔ جمعہ کی نماز ہو چکی تو حضرت محبوب الٰہیؒ اپنی جگہ سے اٹھے اور وسیع فاصلہ طے کر کے حضرت رکن الدینؒ کے پاس آئے آپ اس وقت تک نماز سے فارغ نہ ہوئے تھے حضرت محبوب الٰہیؒ آپ کی پیٹھ کے پیچھے بیٹھ گئے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دونوں نے اُٹھ کر بڑی گر مجوشی سے مصافحہ کیا پھر حضرت شاہ رکن الدینؒ حضرت نظام الدین محبوب الٰہیؒ کا دست مبارک پکڑے ہوئے اس جگہ پر آئے جہاں محبوب الہٰیؒ پہلے بیٹھے ہوئے تھے جب دونوں مسجد سے روانہ ہو کر اپنی سواریوں کے پاس پہنچے تو دونوں ایک دوسرے سے اصرار کرنے لگے کہ پہلے وہ اپنی سواری پر جلوہ فرما ہوں آخر کار حضرت محبوب الٰہیؒ کا اصرار غالب رہااور حضرت قطب الا قطاب پہلے اپنی سواری میں جلوہ فرما ہوئے ۔

حضرت شیخ رکن الدین کے تعلقات سلاطین وقت سے بھی تھے، مگر یہ تعلقات محض خدمتِ خلق اللہ کی خاطر تھے علاؤالدین خلجی کے بعد جب قطب الدین خلجی تخت نشین ہوا تو اس کو محبوب الہٰی سے ذاتی مخاصمت پیدا ہوگئی ۔ اس مخالفت اور عناد کی وجہ سے سلطان نے دوسرے مشائخ سے مراسم پیدا کئے۔ اس سلسلے میں اس نے حضرت شیخ رکن الدینؒ سے بھی اپنی گروید گی اور شگفتگی کا اظہار کیا اور ان کو ملتان سے دہلی آنے کی دعوت دی جب وہ دہلی نشریف لائے اور سلطان سے ملنے گئے تو اس نے پوچھا کہ دہلی میں سب سے پہلے کس شخص نے آپ کا استقبال کیا تھا گو حضرت شاہ رکن عالم ؒ کو حضرت محبوب الٰہیؒ سے سلطان کا عناد معلوم تھا تاہم آپ نے جواب دیا کہ اس نے جو اس شہر کا سب سے اچھا آدمی ہے یعنی حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے حضرت شیخ رکن الدین کا معمول تھا کہ جب وہ سلطان قطب الدینؒ کے پاس تشریف لے جاتے تو راستہ میں اپنی سواری تخت رواں کو ٹھہراتے چلتے تاکہ اہلِ ضرورت اپنی درخواستیں سلطان کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے ان کی سواری میں ڈال دیں بعض ضرورت مندوں کی معروضات زبانی بھی سنتے تھے شاہی محل کے پاس پہنچ کر دو دروازوں تک تخت روں پر سوار رہتے تیسرے دروازے کے قریب جہاں سلطان ان کی تعظیم و استقبال کے لئے کھڑا نظر آتا وہ اتر جاتے سلطان بڑے ادب و تکریم سے دربار میں لے جاکر بٹھاتا اور خود مودب دوزانو ہوکر ان کے سامنے بیٹھتا اس کے بعد شیخ رکن الدین شہر کے لوگوں کی درخواستیں سلطان کے سامنے پیش کرتے وہ ہر ایک درخواست کو بغو ر پڑھتا اور اس کی پشت پر اسی وقت حکم صادر کر دیتا حضرت شیخ رکن الدینؒ واپسی کے وقت تمام درخواستوں کو ساتھ لے آتے ۔

غذا بہت ہی قلیل تھی ایک پیالہ دودھ میں کچھ میوے ڈال دیئے جاتے اسی سے چند لقمے تناول فرمالیتے، گھر والوں نے ایک طبیب سے قلت غذا کی شکایت کی طبیب نے غذا منگوا کر دیکھی اور اس میں سے چند لقمے خود کھائے کھانے کے بعد اس نے گرانی محسوس کی اور کہا کہ اب سات دن تک کھانے کی حاجت نہ ہوگی، کیونکہ بزرگوں کے کھانے میں کمیت سے زیادہ کیفیت ہوتی ہے ۔خیال دنیا و آخرت فرماتے تھے تو اس کے بعد کی دُعا پڑھتے ایک روز وضو سے فارغ ہوئے تو دُعا نہیں پڑھی، بلکہ صرف الحمد للہ کہا۔ خادم خاص نے ان کے نانا سے جاکر عرض کیا کہ آج حضرت نے صرف الحمد للہ کہی ااور کوئی دُعا نہیں پڑھی وہ حضرت شیخ رکن الدین کے پاس آئے اور واقعہ دریافت کیا ۔ حضرت شیخ رکن الدین نے فرمایا آج وضو میں دُنیا و آخرت کا خیال دِل میں نہیں گزرا تو مَیں سمجھا کہ آج میرا وصال ہے اسی لئے صرف الحمد للہ کہا قطب الاقطاب کے وصال کو سات صدیاں گزرگئیں،لیکن آپ کے انوار و تجلیات اور فیوض و برکات جاری و ساری ہیں اور تاقیامت اسی طرح جاری و ساری رہیں گے اللہ کے مقبول و بر گزیدہ بندوں کے فیوض و برکات بعد وصال بھی جاری رہتے ہیں یہ آستانے روحانی سکون و اطمینان کی دولت بانٹتے ہیں ۔مادیت کے اس دور میں مجبور ، دُکھی اور مظلوم انسان سکون کی تلاش میں اللہ والوں کی بارگا ہوں میں حاضری دیتے اور بامراد و شاد کام ہوتے ہیں ۔

نام فقیر تنہاں دا باہو قبر جنہاں دی جیوے ہو

مزید : ایڈیشن 2


loading...