ایک قدم آگے سوچنا شروع کریں 

ایک قدم آگے سوچنا شروع کریں 
ایک قدم آگے سوچنا شروع کریں 

  

پاور کلیش (power clash)کہاں نہیں ہوتا۔رقابت کہاں نہیں ہوتی۔ مقابلہ کہاں نہیں ہوتا۔یہاں مغربی دنیا میں بھی مختلف سمتوں میں پاور کلیش ، رقابت اور حسد موجود ہے۔ یہاں کے اداروں میں بھی ہے۔ ہر ڈومین کا پاور کلیش وہاں کے باشندوں کے علم اور شعور کے مطابق ہی ہوا کرتا ہے۔ یہاں مغربی دنیا میں سٹیٹ کے اداروں کے درمیان پاور کلیش ایک ایسے ڈومین کے اندر ہے۔ جہاں قانون کی بالادستی اسے اپنی حدود اور قیود میں رکھتی ہے۔دونوں صورتوں میں جب حکومت اداروں کو کمزور کرے یا ادارے حکومت کو کمزور کریں۔ دستور اور قانون ایک ریڈ لائن متعین کرتا ہے۔ ریڈ لائن کراس کرنا ملک کی سالمیت کی بیخ کنی کے مترادف ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

پچھلے دنوں یہاں اوسلو میں کشمیر پر ایک سیمینار ہوا جس میں سویڈن کے ایک پروفیسرموصوف نے مسئلہ کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق پروفیسر موصوف نے پاکستان اور ہندستان کو برابر مورد الزام ٹھہرایا۔ پروفیسر موصوف نے پلٹ گنز سے اندھے ہوجانے والے خواتین بچوں اور نوجوانوں اور بوڑھوں کا کوئی ذکر نہیں کیا ، گمنام قبروں کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔مقبوضہ کشمیر میں آرمی سپیشل پاور ایکٹ کا بھی ذکر نہیں کیا۔ اور بھارتی فوج کی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کی بجاے نتیجہ یہ نکالا کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے اور بھارت اور پاکستان اس کے فریق ہیں۔ 

یہاں ناروے میں پبلک کو اکٹھا کرنا اس لیے مشکل ہے کہ پہلے تو آبادی ہی بہت کم ہے، موسم سرما تو بڑا شدید موسم ہے۔ دوسرا نوکری سے چھٹی کرنا کافی مشکل کام ہے۔ اس کے علاوہ لوگ نوکری سے فارغ ہوکر اپنے وقت کو اپنی مرضی سے گزارنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ لائف سٹائل آسان سہی کافی پرائیویٹ اور مصروف رہتا ہے۔ اس کے باوجود پروفیسر صاحب کے سامعین کی تعداد کافی بتائی گئی۔ جو یقیناً جو یہاں کے مقامی لوگ تھے۔ میں نے اپنے ایک قریبی دوست جو سیمنار میں شریک تھے سے پوچھا کہ یہ سیمنار کس نے کروایا ہے؟ کہنے لگے پروفیسر نے کیا ہے۔ میں نے عرض کی ہمیں تو معلوم نہیں کہ یہ سویڈیش پروفیسر اوسلو میں سیمینار کیوں کررہا ہے؟ میرے دوست موصوف نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ سیمینار نہ تو سفارت خانہ پاکستان نے کروایا ہے اور نا کسی اور تنظیم کو اس کی اطلاع تھی۔میں نے پوچھا پروفیسر موصوف یہ سیمنار اپنی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کے تناظر میں کررہے ہیں یا بھارتی سفارت خانہ مذکورہ تھنک ٹھینک کو سپانسر کررہا ہے؟ ہاں جی تھنک ٹینک کو سپانسر کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ بعض اوقات تھنکر کو اس بات کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کون سے گروپ یا سیکشن سے سپانسر ہورہا ہے؟ 

ہم اپنی توجہ ایک دوسرے مسئلے کی طرف لاتے ہیں۔ خواجہ آصف صاحب کی پرامید او ر مسکراتی ہوئی تصویر دیکھ کر مجھے لگا کہ وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کمر کس کر باہر نکلے ہیں اور پاکستان کو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل ہونے سے بچا لیں گے۔ پیرس میں پچھلے دنوں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی میٹنگ ہوئی تھی۔ جس میں پاکستان کو دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے تناظر میں واچ لسٹ پر لانے کے لیے ووٹنگ ہوئی۔پہلی ووٹنگ میں سعودی عرب ترکی اور چین نے پاکستان کو بچا لیا۔ لیکن امریکہ نے دوبارہ ووٹنگ کروائی اور فیصلہ ہوا کہ پاکستان کو جون سے اس لسٹ پر لایا جائے گا۔ تین ماہ بعد پاکستان پھر سے دہشت گردی کی واچ لسٹ پر آجائے گا۔ معاشی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔یاد رہے کہ پاکستان ۲۰۱۲ ؁ سے ۲۰۱۵ ؁ تک اس واچ لسٹ پر رہا ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ ممالک کے درمیان دوستی اور دشمنی انکے مفادات اور ان مفادات پر سودے بازی کے گرد گھومتی ہے۔ 

اب ایسا تو نہ کہیں کہ اس تحریک کے پیچھے بھی بھارت نہیں ہے۔اگرچہ بھارت مسلہء کشمیر پر بین الاقوامی محاذ پر دفاع کرتا نظر آتا ہے۔یعنی بھارت نہیں چاہتا ہوتا کہ مسلہء کشمیر بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے۔یا اس کا ذکر کیا جائے۔لیکن بھارت کا دفاعی پوسچر پرانی بات ہے۔ جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں تب سے بھارت کی پالیسی دفاعی نہیں جارحانہ ہے۔اور یہ گمان کرنا کہ بھارت نے اپنی پالیسی کی تبدیلی زبانی کلامی کی ہوگی، ایک خوش فہمی ہی ہوسکتی ہے۔ چلیے ہم کوشش کریں گے کہ ہم ثبوت ڈھونڈھ کہ لائیں کہ بھارت نے بجٹ میں مدیں مختص کررکھی ہیں جو بین الاقوامی سفارتی محاذ پر خرچ کی جاتی ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں سفارتی بریک تھرو یا سفارتی کامیابیاں اصل میں کیا معانی رکھتی ہیں ؟ بھارت نے ایک ملین فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات کررکھی ہے۔ صرف سیاچین پر تعینات فوج کا خرچہ آپ کے خیال میں کتنا ہوگا؟ بھارت سے پوچھنے کی بجائے ہمیں خود پتہ ہے۔ ہماری اپنی فوج وہاں تعینات ہے۔ یہ خرچہ سالانہ اربوں میں ہوگا۔ شاید کھربوں میں ہو۔ چلیے چھوڑیئے سارے دفاعی بجٹ کا اگر بہت ہی تھوڑا حصہ ہزارواں یا لاکھواں حصہ یا اس کو بھی ایک کروڑ سے تقسیم کردیں تو جو رقم نکلتی ہے اگر بھارت اسے سفارتی محاذ پر ایک طریقے سے خرچ کررہا ہے تو بھارت کی سفارتی کامیابی سوفیصد یقینی ہے۔ 

ہمیں معلوم ہے کہ ان لوگوں کی رائے بدلنا ایک مشکل کام ہے۔ جو روائیتی سفارت کاری سے ممکن نہیں ہے۔ جس کا ثبوت ہمارے سامنے ہے کہ کسی مغربی ملک نے کبھی بھی بھارت کے خلاف کوئی بھی متفقہ قرارداد پاس نہیں کی۔حالانکہ انسانی حقوق کی چیخ وپکار ان ملکوں میں باجے کی طرح بج رہی ہوتی ہے۔ جبب بھی مسئلہ کشمیر کا ذکر آتا ہے یہ ظالم کہتے ہیں بھارت اور پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور دونوں ممالک کو شملہ معاہدے کی روح سے اسے حل کرنا چاہیے۔ ہم چیختے ہیں کہ مداخلت کرو۔ قرارداد پاس کرو۔ بھارت کو کہو کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے فوج ہٹائے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے۔ ٹس سے مس نہیں ہوتے یہ لوگ۔ الٹا ہم لوگوں کو دہشت گردوں کا ہمدرد سمجھنے لگے ہیں۔

کیپیٹلزم اگر اپنے مفاد ات پر انسانی حقوق اور انسانیت کے تقدس کو فوقیت دینے لگے تو اسے کیپیٹلزم نہیں کہیں گے۔ ایسی تہذیب اور نظام کا کوئی اور نام ہونا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فارمل میٹنگز جاب کا حصہ ہوتی ہیں۔ آپ ہی بتائیں کہ ہم انہیں قائل کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں؟ آئیے اپنے میڈیا کو تھوڑا سا آگے دھکیلتے ہیں۔ ملنا اچھی بات ہے۔ فوٹو کھنچوانا بھی اچھی بات ہے۔ لیکن خبر یہ ہوسکے کہ ہم فلاں لوگوں سے ملے ہیں اور انہوں نے ہماری بات مان لی اور فلاں اقدام کیا ہے۔ اصل میں خبر یہ ہونی چاہیے۔ ملاقات کی تصویر خبر ہونی چاہیے کیا؟ شاید ایک وقت آئے گا ہم ایک قدم آگے سوچنا شروع کردیں گے۔ 

اللہ ہمارا حامی اور ناصر ہو۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ