قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ ، نیواسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر کی ذمہ داری کن کو دی گئی؟ حیران کن انکشاف

قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ ، نیواسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر کی ذمہ داری کن کو ...
قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ ، نیواسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر کی ذمہ داری کن کو دی گئی؟ حیران کن انکشاف

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعتراف کیاکہ نیواسلام آباد ایئرپورٹ کے ڈیزائن میں خامیاں ہیں تاہم اس کا الزام ڈیزائن تجویز کرنیوالی عالمی فرم پر لگادیاگیالیکن حالیہ اطلاعات میں ایسے حقائق سامنے آئے ہیں کہ ہرکوئی دنگ رہ گیا اورامکان ہے کہ جلدہی اس بات کا پتہ چل جائے گاکہ قوم کو لگنے والے اربوں روپے کے ’ٹیکے‘ کے پیچھے کون ہے ۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے جاری ہونیوالی نیواسلام آباد ایئرپورٹ کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ کے تعمیراتی کام کی نگرانی کیلئے جن 12ا نجینئرنگ کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ، ان میں سے کسی کے پاس انجینئرنگ کی ڈگری نہیں تھی ،یہاں تک کہ ایک کنسلٹنٹ ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ زیادہ تر لوگ صرف گریجوایٹ تھے یا چند لوگوں نے الیکٹریکل یا سول انجینئرنگ میں سرٹیفکیٹ حاصل کررکھاتھا،ان تمام 12افراد کی خدمات پراجیکٹ منیجمنٹ کنسلٹنٹس کے طورپرحاصل کی گئیں ۔

انگریزی روزنامہ’ڈان‘ کے مطابق پراجیکٹ منیجر کے پاس بھی انجینئرنگ ڈگری کی بجائے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرکی ڈگری ہے ، کنسلٹنٹس ایئرپورٹ کی تعمیر جیسے منصوبے سے کوئی تکنیکی مطابقت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے 19.3بلین روپے اضافی خرچ ہوا اور قوم کا پیسہ برباد ہوا۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں ڈی جی آڈٹ کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 36.8بلین روپے کے خرچ کا تخمینہ لگایاگیاتھا لیکن 56.25بلین روپے ادائیگی ہوچکی ہے ۔ آڈیٹر کے مطابق جانچ پرتال کیے بغیر مختلف پیکجز متعارف کرائے گئے ، پیکج پر عمل درآمد میں عدم مطابقت اور پراجیکٹ کی منیجمنٹ کی غیراطمینان بخش کارکردگی کی وجہ سے پراجیکٹ بھی سست روی کا شکار رہا۔

رپورٹ کے مطابق فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) نے بھی عندیہ دیا کہ کنسلٹنٹس کے پاس ایسے کام کیلئے درکار قابلیت ہی نہیں اور نہ ہی وہ انجینئرز ہیں ، ایف آئی اے نے ہی کنسلٹنٹس کی تعلیمی قابلیت کی چھان بین کی اور حاصل معلومات سول ایوی ایشن کے آڈٹ حکام کیساتھ شیئرکیے ۔ پلاننگ کنسلٹنٹ عاطف سعید نے پرسٹن یونیورسٹی سے بی ٹیک کررکھاہے اور یہ یونیورسٹی پاکستان انجینئرنگ کونسل نے تسلیم نہیں کیا۔ پی ایم سی کے مصدقہ انجینئرصرف 76سالہ روبرٹ فلہر ہیں جنہوں نے سول انجینئرنگ میں بی ایس سی کررکھی ہے اور کانسلٹنسی سے 2012ءمیں ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں ۔

آڈٹ رپورٹ میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو تجویزدی گئی ہے کہ نامناسب منصوبہ بندی کرنیوالے ذمہ داران کا تعین کیاجائے اور اس رپورٹ پر پی اے سی کی آئندہ میٹنگ میں تبادلہ خیال کیاجائے گا۔

مزید : بزنس /اہم خبریں


loading...