حدیبیہ پیپز ملز کیس کی نئی تفتیش پر اعلیٰ عدالتیں پابندی لگا چکی ہیں 

حدیبیہ پیپز ملز کیس کی نئی تفتیش پر اعلیٰ عدالتیں پابندی لگا چکی ہیں 

  

تجزیہ:سعیدچودھری 

 حکومت نے شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کیس کی ازسرنو تفتیش کا فیصلہ کیاہے،اس کیس کی دو مرتبہ پہلے بھی تفتیش ہوچکی ہے پہلی بار بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ایف آئی اے نے اس کی تحقیقات کی تھیں اور دوسری مرتبہ پرویز مشرف کے دور میں انہی الزامات کے تحت شریف فیملی کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کیا تھا،پاناماکیس میں بھی سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملزکیس بند کرنے اور اس کی دوبارہ انکوائری پر پابندی کے لاہورہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے پر اس وقت کے چیئرمین چودھری قمرالزمان کو طلب کرکے سرزنش کی تھی جس کے بعد نیب نے اپیل دائر کی جو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے زائد المعیاد مستردکردی تھی،لاہور ہائی کورٹ کے 2014ء میں دیئے گئے فیصلے کے خلاف نیب نے یہ اپیل 20ستمبر کودائر کی تھی جبکہ قانون کے تحت یہ اپیل 11جون 2014ء سے قبل دائر ہونا چاہیے تھی۔قانونی طور پر رٹ جیورسڈکشن میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 90روز کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا ضروری ہے۔یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے 3سال 6ماہ اور7دن بعد دائر کی گئی۔اگر کسی وجہ سے اپیل دائر نہ ہوسکے تو زائد المعیاد ہر ایک دن کا جواز پیش کرنا ضروری ہے کہ اس روز یہ اپیل دائر کیوں نہ ہوسکی جس کے بعد سپریم کورٹ اپیل کو قابل شنوائی قرار دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس 2000ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا جس میں میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے علاوہ ان کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد بشمول خواتین کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا،دسمبر2000ء میں شریف خاندان کی جلا وطنی کے بعد یہ ریفرنس داخل دفتر کردیا گیا تھا اور عدم شہادتوں کے باعث اس کی تفتیش روک دی گئی تھی۔یہ ریفرنس وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے بیان کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا جوانہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے 25اپریل 2000ء کو دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ 1990ء کی دہائی میں حدیبیہ پیپر ملز کو شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا اس بابت قاضی فیملی کا نام بھی سامنے آیاتھا۔بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں بھی حدیبیہ انجینئرنگ اور حدیبیہ پیپر ملز کے حوالے سے شریف فیملی کے خلاف مقدمہ بنایاگیا تھا جس میں میاں شریف اور اس خاندان کے دیگر افراد کا نام بطور ملزم شامل کیا گیا تھا،اس مقدمہ میں میاں محمد شریف کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا تاہم اس مقدمہ میں میاں محمد نوازشریف کوملزم نامزد نہیں کیاگیا تھا۔بے نظیر بھٹو کے دور میں بننے والا یہ مقدمہ بھی لاہور ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔میاں محمد نوازشریف اور شریف خاندان کی جلا وطنی کے بعد اسحاق ڈار کی طرف سے کہا گیا کہ یہ بیان مشرف حکومت نے دباؤ ڈال کر حاصل کیا تھا۔2007ء میں میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد داخل دفتر کئے گئے اس ریفرنس کو ری اوپن کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔18اکتوبر 2011ء کو میاں محمد نواز شریف کی والدہ شمیم اختر اوردیگرکئی ملزموں نے اس ریفرنس کو بدنیتی،عدم شہادتوں،بلاجوازاور سیاسی انتقام کی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا اور پہلی ہی پیشی پرلاہور ہائی کورٹ نے اس ریفرنس کے حوالے سے نیب کو کارروائی سے روک دیا،اس کیس کی سماعت مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد اور مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے کی۔دونوں ججوں نے یہ ریفرنس خارج کرنے کا حکم جاری کردیا تاہم مسٹرجسٹس خواجہ امتیاز احمد نے ریفرنس خارج کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی دیا کہ نیب کے پاس اگر شہادتیں موجود ہیں تو وہ اس معاملے کی دوبارہ انکوائری کرسکتا ہے جبکہ جسٹس فرخ عرفان خان نے قرار دیا کہ ریفرنس خارج ہونے کے بعد دوبارہ انکوائری نہیں ہوسکتی۔انکوائری کی حد تک ڈویڑن بنچ کے اختلاف کے باعث یہ معاملہ ریفری جج کو بھیج دیا گیا،فاضل ریفری جج نے نہ صرف ریفرنس خارج کرنے سے متعلق ڈویڑن بنچ کے فیصلے سے اتفاق کیا بلکہ اپنے 11مارچ 2014ء کے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ ریفرنس خارج ہونے کے بعد نیب کو دوبارہ معاملے کی تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں ہے،جس کے بعد27مئی 2014ء کو ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل محمد اکبر تارڑ نے تحریری طور پراپنی قانونی رائے دی کہ لاہور ہائی کورٹ کے 3ججوں کا حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس خارج کرنے پر اتفاق ہے اور اس بابت ان کا تفصیلی فیصلہ موجود ہے،ان کی طرف سے قانونی طور پر نیب کے کمزور ہونے کی بنا ء پر اپیل دائرنہ کرنے کا مشورہ دیا گیا،پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے چیئر مین کے نام تحریری نوٹ میں یہ بھی کہا کہ اس کیس کے ایک ملزم میاں محمد شریف انتقال کرچکے ہیں،اگر 15سال بعد اس معاملہ کی دوبارہ تحقیقات کی گئیں تو یہ کارروائی نیب کے لئے بدنامی کا باعث بنے گی اور اسے انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا جائے گا۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر کی قانونی رائے سے اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل کے۔کے آغا (موجودہ جج سندھ ہائی کورٹ)نے اتفاق کیا اور اسے منظوری کے لئے اس وقت کے چیئرمین نیب چودھری قمرالزمان کو بھیج دیا۔اس قانونی رائے کی روشنی میں چیئرمین نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا حکم صادر کیاتھا۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کے باعث قانونی طور پر بظاہر حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کا باب بند ہوچکا تھا تاہم یہ ایشو پاناما لیکس کیس میں سامنے آنے کی بناء پر نیب کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ کے سامنے اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کروانا پڑی تھی۔نیب نے اس بنا پر بھی اپیل دائر نہیں کی تھی کہ ایک ملزم میاں محمد شریف انتقال کرچکے ہیں،اب تو اس کیس کے اور دوسرے ملزم میاں عباس شریف بھی اس دنیا میں نہیں ہیں،اس کیس کی ایک اور ملزمہ بیگم کلثوم نواز بھی کینسر کے باعث انتقال کرچکی ہیں،حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے کی دو مرتبہ انکوائری ہو کر بند ہوچکی ہے،قانونی ماہرین کے مطابق ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اب اس معاملے کی ازسرنو تفتیش نہیں ہوسکتی،اب یہ حکومتی قانونی ٹیم کا کام ہے کہ وہ اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کے لئے کیا قانونی راستہ ڈھونڈتی ہے۔

سعیدچودھری

مزید :

تجزیہ -