دھرنے کا موسم

دھرنے کا موسم

اگر آپ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف کی دھماچوکڑی یاد ہے تو پھر آپ مولانا فضل الرحمن کی تازہ ترین سیاسی حکمت ِ عملی پر معترض ہونے کا کوئی حق نہیں رکھتے،دھرنے کی سیاست کا آغاز تو خیر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک مذہبی احتجاج سے ہوا تھا، مگر اِس جدید سیاسی سرگرمی کو بامِ عروج پر پہنچانے والے ہمارے موجودہ وزیراعظم صاحب ہی ہیں، جنہوں نے ملک میں باقاعدہ دھرنا سیاست کی نہ صرف بنیاد رکھی،بلکہ بذریعہ دھرنا ہائے رقص و سرود اپنے نیک مقاصد میں کامیاب بھی ہوئے،چنانچہ اب آپ کے مخالفین اْسی سیاسی حکمت ِ عملی کو اپنا کر آپ کی حکومت کا تیا پانچہ کرنا چاہ رہے ہیں پس تحریک انصاف کے قابل ترجمان ذرا تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں،کیونکہ ملکی سیاست چت لیٹنے کے بعد اب کروٹ بدلنے پر آمادہ ہو چکی ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے نئے پاکستان کے بعد اب واپس پرانے پاکستان کی بازگشت کانوں تک پہنچ ہی چکی ہے۔

کہتے ہیں پاکستان میں کُل چار موسم ہیں گرمی سردی خزاں اور بہار، ماہرین موسمیات نے یہ نہیں بتایا کہ یہ جو موسم ستمبر کے آخری دِنوں میں شروع ہوتا ہوا نومبر کے وسط تک رہتا ہے یہ کون سا موسم ہے اور اصطلاحاً اِسے کیا کہتے ہیں اس موسم کی تفصیلات کچھ اِس طرح ہیں کہ اس موسم میں گرمی قریباً ختم ہو جاتی ہے، مگر سردی بھی نہیں ہوتی ہوا چلنے لگے تو سردی محسوس ہوتی ہے دھوپ پڑ جائے تو پسینے شروع ہو جاتے ہیں پنکھا آن کرو تو سردی ہونے لگتی ہے پنکھا بند کر دو تو حبس محسوس ہونے لگتا ہے یہ موسم گرمی سردی خزاں بہار میں سے کسی ایک موسم کے ساتھ بھی میل نہیں کھاتا،کیونکہ سردی اور گرمی کی سمجھ تو بہرصورت قائم رہتی ہے خزاں کا موسم سردی کے فوری بعد شروع ہو جاتا ہے، یعنی جب ہوا میں خنکی محسوس نہ ہو اور دھوپ بھی فرحت کا احساس دے تو ایسے موسم کو بہار کہتے ہیں یہ جو موجودہ موسم ہے اب ماہرین موسمیات کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے کسی مخصوص اصطلاح سے تعبیر کریں سرِ دست میں اِسے دھرنے کے موسم سے تعبیر کر رہا ہوں اگر آپ اپنے دماغ کے عین وسط پر تَلی،یعنی ہتھیلی سے زور دے کر غور کریں تو اس ملک میں ایک عوامی انقلاب ہوا کرتا تھا،جس کی سرپرستی ہمارے نہایت محترم بزرگ کر رہے تھے اب بھی اگر آپ کو یاد نہیں تو پھر ”مبارک ہو، مبارک ہو“ کے الفاظ یاد کریں اُمید ہے کہ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے بالکل یہی موسم تھا اکتوبر اور نومبر کا، چنانچہ جب انقلاب ذرا لیٹ ہوا تو شدید بارشیں اور ٹھنڈی ہوائیں شروع ہو گئیں اور تمام انقلابی بیچارے سردی سے مرونڈا ہو گئے تھے۔

عوامی انقلاب تو خیر آتے آتے رہ گیا تھا بعد میں عربی زبان کی اصطلاح انقلاب کی جگہ تبدیلی نے لے لی پھر یہ تبدیلی بیچاری مسلسل چار ماہ تک ڈی چوک پر رقص کناں رہی اور بالآخر بخیر و عافیت اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گئی پس اب ہم تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں معیشت، صحت، تعلیم، تجارت، صنعت، تکنیک و سائنس سبھی شعبہ جات آج تبدیلی سے پوری طرح مستفید ہو چکے ہیں۔

ریٹائرڈ شیخ الانقلاب برائے عوامی انقلاب کے دھرنے تو خیر رائیگاں گئے۔ البتہ تبدیلی سرکار کے دھرنے از دھرنا ہائے شیخ العتاب کامیاب ہوئے اب یہ ذرا ثقیل اْردو ہو گئی،لہٰذا اس کو سلیس کئے دیتا ہوں عوامی انقلاب کے بعد تبدیلی سرکار کے دھرنے تو دھڑادھڑ ہوئے، مگر اُن کا مثبت نتیجہ تب تک برآمد نہ ہو سکا جب تک شیخ العتاب، یعنی حضرت علامہ خادم رضوی صاحب کے خالص مذہبی دھرنے وقوع پذیر نہ ہوئے سو اب ذرا دارالحکومت کو حبس بے جا بنانے والے موسم پر بھی غور کریں وہ بھی یہی اکتوبر اور نومبر کے دن تھے جب حضرت علامہ جڑواں شہروں کو سنسان بنائے ریاست کے تمام اعلیٰ اداروں کے سربراہان کو کھری کھری سنا رہے تھے۔

عوامی انقلاب، تحریکِ انصاف اور تحریک لبیک پاکستان کی دھرنا حکمت ِ عملی کے مثبت اور منفی ہر دو اثرات سے عوام کماحقہ مستفید ہوئے البتہ یہ اثرات مثبت کم اور منفی زیادہ رہے اب عین یہی حکمت ِ عملی مولانا فضل الرحمن اپنانے کا تہیہ کر چکے ہیں اور انہوں نے اعلان بھی کر دیا کہ وہ 27 اکتوبر کو ایک جم ِ غفیر کے ساتھ اسلام آباد پدھاریں گے اصول کے مطابق اب تحریک انصاف جو ایک منظم تحریک کی بجائے چند ایک اشخاص پر مشتمل ہو چکی ہے حضرت مولانا کو کھلے دِل سے اسلام آباد میں خوش آمدید کہے مولانا کی سیاست پر سیر حاصل گفتگو تو خیر ایک الگ کالم کی متقاضی ہے سرِ دست اتنا کہہ دینا قرین ِ انصاف ہو گا کہ مولانا کو سیاسی اصولوں کے مطابق دھرنا دینے کا پورا پورا حق حاصل ہے بعینہ جیسے ماضی میں تحریکِ انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کو حاصل تھا اب اس سے قطع نظر کہ ان دھرنوں کے سبب ایک عام آدمی کس اذیت سے دوچار ہو گا، کیونکہ یہاں جیسے عوام کسی کی نہیں سنتے بالکل اسی طرح سیاست دان بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتے

جب وہ ایک فیصلہ کر لیں تو پھر بنیادی مسائل حل ہوں یا نہ ہوں معیشت بہتر ہو یا نہ ہو یہ لوگ اپنی ہی کرتے ہیں چنانچہ عوام کو چاہئے کہ وہ اب چپ کرکے سرِ دست دھرنے کے موسم کا لطف لیں دھرنے میں کیا ہو گا اور دھرنے کے بعد کیا ہو گا اس کی فکر اپنے ناتواں مغز پر ڈال کر ناحق چنتت نہ ہوں، کیونکہ جو بھی ہو گا بالیقین وہ اچھا نہیں ہو گا ہمیں بھلے سمجھ نہ آئے، لیکن قدرت اپنا یہ اصول ہمارے لئے بدل نہیں سکتی کہ غلط بنیاد پر شروع کیا گیا کوئی بھی اَمر یا حکم

ت ِ عملی بہرصورت غلط نتائج پر ہی ختم ہوتا ہے شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں کہ

خشت اول چوں نہد معمار کج

تا ثریا می رود دیوار کج

مزید : رائے /کالم


loading...