ہم زندہ قوم ہیں

ہم زندہ قوم ہیں
ہم زندہ قوم ہیں

  

 اگرچہ سحر ہونے میں ابھی دیر ہے، لیکن امیدوںکے چراغ گل ہوئے ہیں اور نہ ہی متوقع اجالوں کے سورج کو مایوسی کے اژدھاﺅں نے نگلا ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ عقل و دانش کی شمع بجھانے پر آمادہ تاریک قوتیں اور اُن کے پھیلتے ہوئے سائے دانائی ، دانشوری اور حب الوطنی کا لبادہ اُوڑھے معاشرے میں سرایت کرچکے ہیں اوراس کی ہر صبح ہنوز شب گزیدہ ہے، لیکن سیاہ بادلوں کے اُس پار ابھرتی ہوئی سفیدی امید کی کھیتی کو زرد نہیںہونے دیتی۔ کس کو شک ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں !کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ انتخابی امیدواروں کی جانچ پڑتال کا عمل ، جس پر جنرل ضیا الحق کے دست ِ شفقت میں پروان چڑھنے والے آرٹیکلز ،باسٹھ اور تریسٹھ کی عملداری سایہ فگن ہے، ایک طرح کے مضحکہ خیز طربیہ ڈرامے میں بدل جائے گا اور نامزدگی کے کاغذات کی جانچ پڑتال نظریہ ¿ پاکستان کے حوالے سے ادق بحث کی راہوں پر چل نکلے گی؟.... لیکن ہمارے ہاں ہر انہونی ایک معمول کی بات ہے، اس لئے ہم نے وہ بحث نہایت شد ومد سے اس طرح چھیڑدی کہ ” ہم چپ رہے، ہم ہنس دیئے.... منظور تھا پردہ ترا“ کا آپشن بھی جاتا رہا۔

یہ مانا کہ ہمارے ہاں حماقت اور کم عقلی راج کرتی رہی ہیں ....(اور آئندہ بھی اُنہیں استحقاق رہے گا).... لیکن اس مرتبہ معاملہ قدرے مختلف تھا۔ ہوا یوں کہ جب حماقتوں کے دفتر کھلے تو عقل اور منطق کی آوازیں بھی بلند ہونے لگیں۔ یہ منظر اس سے پہلے اس اسلامی جمہوریہ میں نہ دیکھنے میں آیا تھااور نہ سننے میں۔ اگر کہیں سخت گیر رویے رکھنے والے دیگر اسلامی ممالک میں بھی ایسی فکری نشاة ثانیہ کی کچھ رمق دکھائی دے تو یقین مان لیں کہ آسمانی طاقتیں ہم پر مہربان ہونے کا ارادہ کر چکی ہیں ۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں چشم ِ فلک نے کب یہ مناظر دیکھے تھے کہ نظریے کے نام پر روا رکھی جانے والی منافقت کو اس طرح طشت از بام کیا گیا ہو؟ لیکن اس سرزمین پر یہ انہونی بھی ہو کر رہی کہ اس مرتبہ جنرل یحییٰ خان کی کابینہ کے وزیر ِ اطلاعات نوابزاہ شیر علی خان مرحوم کی ٹکسال کردہ اصطلاح ،”نظریہ ¿ پاکستان “ پر تنقید کرتے ہوئے کالم اور اداریے لکھے گئے اور ٹی وی پر چلے والے ٹاک شوز کے دوران اس منافقت کو بے نقاب کیا گیا۔ اس تبدیلی کا نکتہءآغاز کچھ انتخابی امیدواروں ( جن میںراقم الحروف بھی شامل تھا) کے کاغذات ِ نامزدگی مسترد کئے جانے سے ہوا۔ اگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بدمزگی کو جانے دیں اور بپا ہونے والے ہنگامے، جس پر ہمارے گھر کی رونق موقوف رہتی ہے، پر نظر ڈالیں تو یہ اچھا خاصا کامیاب شو تھا ۔ اس میں امیدواروںسے پوچھے گئے سوالات سے پورا ملک محظوظ ہوا۔

اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اس ملک میں ایسا ماحول قائم کر رکھا ہے ، جہاں عقل و منطق کی بات کرتے ہوئے دل سہم سا جاتا ہے ۔یہ وہ ملک ہے، جہاں ممتاز قادری پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں اور جہاں لاہور ہائی کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس اس طرح اپنے ”ہیروز “ کی پذیرائی کو درست سمجھتے ہیں ، جہاں حساس معاملات پر بنائے گئے قوانین غلط مقاصد کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ اس ملک میں نظریہء پاکستان اور اسلامی نظریات جیسے حساس معاملات پر دوٹوک اور بے لچک رویے، عقائد کی جانچ پڑتال کے لئے ہر قدم پر گھات میں ہوتے ہیں ....تاہم حالیہ واقعات سے سامنے آنے والا نتیجہ واضح ہے۔ اچھے اور ذی فہم لوگوں کو مل کر کھڑے ہو جانا چاہیے اور ہم آواز ہو کر بولنا چاہیے۔ جب وہ ایسا کریںگے تو اس سے فرق پڑے گا جیسا کہ اس کیس میں دیکھنے میں آیا۔ اس ضمن میں، مَیں ریٹرننگ آفیسرز کو مورد ِ الزام نہیں ٹھہراتا، کیونکہ اُن کو بہت سے فرائض سونپ دیئے گئے تھے۔ وہ اپنے معمول کے اوقات میں عدالت میں کام کرتے اور بغیر کسی توقف کے ریٹرننگ آفیسرزکی سیٹ پر کاغذات ِ نامزدگی وصول کرتے ۔ محترم چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے بھی اُن کو ہرروز ہدایات جاری کی جارہی تھیں کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری اور ذمہ داری سے ادا کر یں۔ اس طرح ان افسران کا نفسیاتی دباﺅ کا شکار ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس ماحول میں اگر کسی ریٹرننگ آفیسر نے کچھ مضحکہ خیز سوالات پوچھ لئے تو کوئی بات نہیں، ایسا ہو جاتا ہے۔ بہرحال پاکستان کوئی نیم قبائلی معاشرہ نہیںہے اور یہاں باقاعدہ عدالتی نظام موجود ہے، چنانچہ ریٹرننگ آفیسرز کی فاش غلطیوں کی درستی کے لئے عدالت سے رجوع کیا گیا۔

 جہاں تک میرے کیس کا تعلق ہے تو چکوال کے ریٹرننگ آفیسر نے کچھ نظریات وعقائد کے حوالے سے مجھ پر جوسوالات اٹھائے ،وہ راولپنڈی ٹربیونل کے بنچ ، جس میں مسٹر جسٹس رﺅف احمد شیخ اور مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ شامل تھے، نے درخورِ اعتنا نہ گردانے اور میرے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ میرے لئے معاملہ اس لئے بھی آسان ہو گیا کہ میرے وکیل سلمان اکرم راجہ تھے، جو اس وقت پاکستان کے قابل ترین وکلاءمیں شمار کئے جاتے ہیں ، اورانہوںنے مجھے قانونی معاونت بلامعاوضہ فراہم کی ۔ اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ جب بھی نظریات کے حوالے سے بنانے گئے قوانین کا غلط استعمال ہو تو ہمیں خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے پوری توانائی کے ساتھ اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور سخت گیر رویے رکھنے والے افراد کے منہ پر سچ بولنے سے خائف نہیںہونا چاہیے۔ اگر ہم استقامت سے کھڑے ہوجائیں تو سمجھ لیں کہ آدھی جنگ ہم نے جیت لی ہے، لیکن اگر ہم وقتی مفاد کو دیکھتے ہوئے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھیں تو ہم یہ جنگ بھی ہار جائیں گے اور ہمارے پاس کوئی دلیل بھی نہیںہوگی۔ہماری خاموشی اور مصلحت آمیز کمزوری سے شہ پا کر ہی دقیانوسی سوچ رکھنے والے گروہ اخلاقیات اور عقائد کے نام پر پاکستان کے ”ٹھیکیدار “ بن چکے ہیں ۔

اس میںکوئی شک نہیںہے کہ ہمارے آئین میں نظریات کے حوالے سے کچھ معروضات موجود ہیں ، اگر ہم چاہتے تو کسی کی دل شکنی کا سامان کئے بغیران کو آئین سے حذف کر سکتے تھے، لیکن ہم ایسا نہیں کر سکے، تاہم ایک اور بات ذہن میں رکھیں کہ آئین میں اور شقیں بھی ہیں ،جن کی اصل روح کے مطابق ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔ مثال کے طور پر آئین کا آرٹیکل 14کہتا ہے”ہر انسان کی توقیر مقدم ہے اور کسی شخص کو بھی معلومات اگلوانے کے لئے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا“ آپ پاکستان کے کسی بھی تھانے میں تھانیدار کو یہ آرٹیکل سمجھانے کی کوشش کریں تو وہ پانچ میں منٹ میں آپ کو ایساقانونی سبق دے دے گا ،جو آپ زندگی بھر نہیں بھولیںگے۔ اگر ہم ان شقوں کی کھلے عام پامالی پر چیںبہ جبیں نہیں ہوتے تو پھر نظریات اور اخلاقیات جیسے مجرد حقائق پر اتنے چراغ پا کیوں ہو جاتے ہیں ؟

ہماری راہوں میں بکھرے ان سنگریزوں کو چنا جانا ابھی باقی تھا، لیکن اب تو ” دام ہر موج میں ہے حلقہ ¿ صد کام ِ نہنگ“ والا معاملہ آن پڑا ہے۔ ہمارے پرانے اسلامی محافظ ، جیسا کہ جنرل حمید گل، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق،سید منورحسن ، لیاقت بلوچ، دائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باوجود زندہ دل افراد تھے ۔ وہ حس ِ مزاح سے محروم نہیں تھے ، چنانچہ ”موقع“ دیکھ کر رسم ِ دنیا نباہ لیتے تھے، تاہم آج میڈیا میں داد شجاعت دینے والے ملا طبعی ظرافت کا غیر ضروری بوجھ اتارکر میدان میں ہیں ۔ اس کی نستعلیق اخلاقیات سے باہر ایک خط بھی روگردانی کے زمرے میں آتا ہے، چنانچہ لائق ِ تعزیر ہے۔انہی دانشوروں کی زریں تعلیمات نے پاکستانیوں کو باور کرایا کہ امریکہ کے مشرقی ساحلوں میں تباہی مچانے والا سینڈی طوفان دراصل کیلی فورنیا ( جومغربی ساحل پر ہے) کے کسی ناہنجار کی طرف سے بنائی گئی توہین آمیز فلم کی وجہ سے آیا تھا۔ اگر ان کی بات مان لی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ آسمانی طاقتیں زمینی جغرافیے کے حوالے سے غلطی کر گئیں۔ اسی طرح یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ پاکستان کے مطالبے کی اصل وجہ غازی علم دین کی پھانسی تھی۔ ان بقراطوں کی طرف سے ایسی من پسند تشریحات سامنے آتی رہتی ہیں اور آتی رہیں گی۔

بہرحال یہ گروہ صرف گفتار کا غازی ہی نہیںہے، اس سوچ کی عملی تشریح طالبان کے ہاتھوں انجام پاتی ہے۔ خالد خواجہ کا کیس یاد ہو گا ؟ طالبان نے اسی طرح کے دائیں بازو کے افراد سے ”سچائی “ دریافت کی (کہ یہ سچ کے سوا کچھ اور بول ہی نہیں سکتے) اور اس راست گوئی کا آخری کلمہ کلاشنکوف کی زبان سے ادا ہوا ۔ بدقسمت خواجہ کی گردن سے آر پار گولی اس پر سند ہے۔ اس بہیمانہ قتل کی میڈیا کے ان جانباز ملاﺅںمیں سے کسی نے مذمت نہیں کی، تاہم اس پارسا گروہ کے حوالے سے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ پاکستان پر غالب نہیں آسکتے ۔خدا جانتا ہے کہ ہم سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ۔ ہم نے ایسی راہوں کا انتخاب کیا ہے ، ایسے ایسے ممنوعہ امکانات کے لئے مہم جوئی کی ہے، جہاں کوئی اور ملک ہوتا تو اب تک برباد ہو چکا ہوتا، لیکن اس دھرتی کی مٹی زرخیزبھی ہے اور اس میں بہت سا نم ہے۔ اس کی قوت ِ نمو ابھی بانجھ نہیںہوئی ۔ چلنے والی باد ِ سموم کے جھکڑوں کے باوجودا س کے باسی فضاﺅں میںگھلی تازہ مہک کو اپنی سانسوں کے قریب محسوس کرتے ہیں ۔ دھرتی سے پھوٹنے والی دانائی انتہاپسند عقائد کی حماقتوں کے آگے بندباندھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں عقل و معقولیت کی بات کرنے والے پائے جاتے ہیں ۔

کیا پاکستان کا مطلب عقیدے کے نام پر قتل یا کسی پر تنقید کے نشتر چلانا ہے؟کیا تکفیر کی ترویج ہی اس وطن کے حصول کا واحد مقصد تھا ؟یقینا ایسا نہیں ہے۔ بانیانِ پاکستان کے نزدیک بہت بلند مقاصد تھے۔ بہت گہرائی میں جائے بغیر ، ہم اس نئے پاکستا ن کوقائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات کی روشنی کے مطابق چلانے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ بہت زیادہ ماضی کو کریدنے کی ضرورت نہیں، ابھی بھی مثبت طرز ِ فکر اور انصاف کے اصولوں کے مطابق اس ملک کا نظام قائم ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے کچھ حوصلے اور استقامت کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک اس جانباز گروہ کا تعلق ہے تو ان کی باتیں سن کر ایک جاندار اور طویل قہقہہ لگانے میںکوئی حرج نہیں کہ ان کا یہی علاج ہے۔ انتخابات کے بعد جب انتقال ِ اقتدار کا مرحلہ ، جو کہ اس ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے جارہا ہے، طے ہوجائے تو ہمیں اپنی راہوں میں بکھرے سنگریزوں کو ہٹانا ہے، تاکہ ہم بہتر منزل کی طرف پیش قدمی کر سکیں۔

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں ۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں ۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔  ٭

مزید : کالم