عمران خاں کی سیاست

عمران خاں کی سیاست
عمران خاں کی سیاست

  


پاکستان تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی پارلیمانی قوت ہے اور اس کے سربراہ مقبول ترین سیاسی راہنماﺅں میں سے ایک۔عمران خاں کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے‘ مگر کیا عمران خاں کی سیاست ایک ذمے دار سیاستدان کی ہے؟ عوامی اکثریت اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔

عمران خاں کا اسلوبِ سیاست قدرے احتجاج پسندانہ ہے۔ ایک سال کے دوران ان کی جماعت میں احتجاج کی سیاست غالب نظر آتی ہے۔ 14اگست کا آزادی مارچ اسی کا تسلسل ہے۔ عمران خاں وسط مدتی انتخابات کے خواہش مند ہیں اوربقول ان کے آزادی مارچ کا مقصد بھی یہی ہے۔ حکومت گرانے کا جواز ان کے پاس یہ ہے کہ موجودہ حکومت انتخابی دھاندلیوں کے ذریعے وجود میں آئی تھی، لہٰذا اسے جانا چاہیے۔ ملکی سیاست میں یہ شکایت بہت پرانی ہے۔ جہاں تک مڈٹرم انتخابات کی بات ہے حالیہ صورت حال میںیہ مطالبہ غیر مناسب نہیں۔عمران خاں اپنے جلسوں میں انتخابی اصلاحات کی بات بھی بار بار دھراتے ہیں۔ یہ ایک مثبت مطالبہ ہے ۔ موجود نظام انتخاب میں کچھ خامیاں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔مگر اس بارے میں انہوں نے ایک بل بھی پارلیمان میں پیش نہیں کیا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات بھی پارلیمنٹ کی بجائے سڑک پر کرنا چاہتے ہیں ؟

پاکستان اپنے وجود سے لے کر آج تک کسی نہ کسی طرح سے عدم استحکام کا شکار رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوائے دو کے‘ کوئی جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکی۔ یہ ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر آج ہمارے ادارے کمزور ہیں اور ان میںاصل جمہوری روح غائب ہے تو اس کی وجہ بھی مسلسل بنتی اور ٹوٹی حکومتیں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے پہلے دس سالوں کے دوران 7 وزیراعظم تبدیل ہوئے۔ اس پر نہرو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ: ”ہم (بھارتی) اتنے پاجامے نہیں بدلتے، جتنے پاکستان وزیراعظم ۔“ اسی طرح نوے کی دہائی میں دس سالوں کے دوران چار جمہوری حکومتیں گرائی گئیں۔ملکی مسائل میں اچانک بے تحاشہ اضافہ اسی وجہ سے ہوا۔ حالیہ چند سال اس حوالے سے خوش آیند تھے کہ پہلی بار انتقال اقتدار پرامن اور جمہوری طریقے سے ہوا۔ جمہوری حکومت اگرچہ مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ،مگر جمہوری تسلسل ایک مثبت پہلو تھا۔اب عمران خاں اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے صورت حال تبدیل کر دی ہے۔ عمران خاںمڈٹرم انتخابات چاہتے ہیں جب کہ ڈاکٹر قادری ”انقلاب“ کے منتظر۔ ان دونوں میں سے کسی بھی ایک صورت میں اگر جمہوری تسلسل ٹوٹتا ہے تو یہ ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔

عمران خاں کا ایک موقف یہ ہے کہ موجودہ جمہوریت خاندانی بادشاہت کی ایک شکل ہے اور اسے تبدیل ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں قابل غور بات یہ ہے کہ عمران خاںخود اسی جمہوری نظام کا حصہ ہیںاور تیسری بڑی پارلیمانی جماعت کے طور پر قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے ، جہاں جمہوریت انتہائی کمزور ہے۔ اگر عمران خاںاس موجودہ نظام میں اصلاحات کے خواہش مند ہیں تو یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن جمہوری اصلاحات صرف جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے ہی ہونی چاہیں۔ جمہوریت میں سٹرکوں پر اصلاحات لانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ عمران خاں کے بقول وہ پاکستان کو جدید جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے آرزو مند ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے امریکی جمہوریت کی مثال پیش کی۔ ایسا کرتے ہوئے شاید وہ یہ بھول گئے کہ اگر آج امریکی جمہوریت اس قدر مضبوط ہے تو اس کی وجہ امریکی جمہوری نظام کا بے مثال تسلسل ہے ۔یہ تسلسل 225سالوں سے قائم ہے۔ 1789میں ہونے والے پہلے صدارتی انتخاب سے لے کر آج تک ہر چار سال کے وقفے کے ساتھ57انتخابات ہو چکے ہیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ ان انتخابات میں نا تو کسی سیاسی جماعت نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا اور نا ہی دھاندلی کا الزام لگا کرمنتخب حکومتیں گرانے کی کوشش کی۔ ایسا فقط کمزور جمہوری ممالک میں ہوتا آ رہا ہے اور یہ صحت مند روایت نہیں۔ بنیادی مسئلہ ”بائیوووٹنگ سسٹم “کا نہیں(یہ وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے انکار نہیں) بلکہ رویوں کا ہے۔ آج سے صدیوں قبل جب اس ٹیکنالوجی کا نام و نشان تک نہ تھا‘ تب بھی وہاں نتائج کو من و عن تسلیم کر لیا جاتا تھا۔

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی جمہوریت ہو جہاںنو منتخب آئینی حکومتوں کو اقتدار سنبھالتے ہی گھر جانے کی فکر لاحق ہو جائے۔پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے جس طرح دعاﺅں، پھونکوں سے اپنی مدت پوری کی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔پی ایم ایل(ن) کواقتدار سنبھالے ابھی ایک سال ہی ہوا ہے کہ وزیراعظم کو بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ: ” خدا را ٹانگیں نہ کھینچی جائیں“۔دراصل ہمارے ہاں ٹانگیں کھینچنے کا کلچر ایک پرانی روایت ہے اور اجتماعی نفسیات بھی۔یہی وجہ ہے کہ ہر حکومتی جماعت بہت جلد خوف کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی خوف کے سائے میں حکومتوں سے کئی غلطیاں سرزد ہوتی رہی ہیں اورآرٹیکل 245جیسے اقدامات دیکھنے کو ملتے ہےں۔ماضی میںحکومتیں گرانے کے کارِخیر میںکم و بیش تمام سیاستدان ملوث رہے ہیں ۔ عمران خاں اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔

عمران خاں کا خیال ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں اُن کا ایک بہت بڑا ووٹ بنک موجود ہے ۔ یہ ووٹر انہیں اسمبلی میں اکثریت دلا سکتا تھا مگر انتخابی دھاندلی کے باعث ایسا نہیں ہو ا۔ اسی لیے وہ وسط مدتی انتخابات چاہتے ہیں۔اگرچہ ان دونوں صوبوں (پنجاب، کے پی کے) میں پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت ہے، پر عمران خاں اور ان کے ساتھی شاید غلو برت رہے ہیں۔ سیاست میںہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر کامیاب جلسہ کرنے والی جماعت انتخابات میں اکثریت حاصل کر لے۔ اگر دیکھا جائے تو عمران خاں کا طرزِ سیاست کئی حوالوں سے نا مناسب ہے۔ خصوصاً انتخابی دھاندلی کے متعلق سخت گیر موقف اور غیر لچک دار رویہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بہ ظاہر اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے اور کسی طرح کی دراندازی کے لیے تیار نہیں، مگر ایک بات عمران خاں اور میاں صاحب دونوں کو ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ سیاست میں حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اگر ایک لاکھ کارکنان اسلام آباد کی سٹرکوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو حالات کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ دارالحکومت مفلوج ہوجانے کی صورت میں یقینا حکومتی رِٹ متاثر ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ میں کچھ حلقے اپنا کام شروع کر دیں گے۔ ایسی صورت حال میں جمہوریت کو خطرہ زیادہ ہے۔ پھر اگرملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی ”اقدام“ ہوتا ہے تو نقصان حکومت ،عمران خاں اور جمہوریت تینوں کا ہوگا، مگر عوامی سطح پر اصل ذمے دار عمران خاں ہی تصور کیے جائیں گے۔ اس سے اِن کی سیاست تو متاثر ہو گی ، البتہ وہ تاریخ میں ایک ایسا کردار بن جائیں گے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

مکرمی! قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں میں طے شدہ ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی تاریخ ریٹائرمنٹ پر مروجہ پینشن رولز ہی اس پر تاحیات لاگو رہیں گے۔پینشن دراصل سابقہ ادا کی گئی خدمات کا وہ حصہ ہے،جسے کہ پینشنرز کا بنیادی اور حاصل شدہ حق قرار دیا گیا ہے،جس میں کسی صورت کمی ممکن نہیں، لیکن فنانس ڈویژن اسلام آباد نے پینشن رولز 2001ءجبراً ان پینشنرز پر بھی مسلط کر دیئے جو کہ 2001ءسے قبل، یعنی پینشن رولز 1994ءکے تحت ریٹائر ہوئے تھے۔نتیجتاً پرانے پینشنرز کو گراس پینشن پر وقتاً فوقتاً ملنے والا اضافہ سال 2001ءسے غلط طور پر گھٹا کر نصف پینشن پر دیا جانے لگا۔متاثرین کے احتجاج پر بذریعہ خطوط مورخہ02-07-2002 اور 19-07-2002 فنانس ڈویژن نے وضاحت کی کہ پرانے پینشنرز کو پینشن رولز 1994ءکے تحت حاصل شدہ تمام حقوق حسب سابق برقرار رہیں گے، لیکن 13سال گزرنے کے باوجود سرکش فنانس ڈویژن نے اپنے ان خطوط پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا۔متاثرین نے دادرسی کے لئے بذریعہ اخبارات وغیرہ سینکڑوں مراسلات گوش گزارکئے جو کہ پی آئی ڈی اور فنانس ڈویژن کے بخوبی علم میں ہیں، مگر فنانس ڈویژن یکطرفہ اس ہٹ دھرمی پر قائم ہے، اپنے ہی متذکرہ بالا خطوط پر مجرمانہ خاموشی اپنائے، ان پر عملدرامد کرنے سے باوجودہ گریزاں ہے۔یہ لاکھوں پرانے متاثرہ پینشنرز کی حق تلفی کا معاملہ ہے۔قبل ازیں عدالت عظمیٰ نے بدنیتی پر مبنی فنانس ڈویژن کے بے شمار کالے قوانین کالعدم قرار دیئے،لہٰذا فاضل سپریم کورٹ سے گزارش ہے کہ مفاد عامہ کے اس دیرینہ، بہت بڑے اور نہایت اہم مسئلہ کا سوموٹونوٹس لیتے ہوئے متاثرہ پنشنرز کے غصب شدہ حقوق کی بحالی کا حکم صادر فرمایا جائے۔

   سی ایم اشرف 0300-4475594

مزید : کالم


loading...